پاکستان اور اسلام … (۳)

کے ایم اعظم ۔۔۔
جب ہم اس حالت کو پا لیں گے تو اللہ تعالیٰ خود ہمیں صحیح راستہ بتائے گا اور جہاں کہیں بھی ہم غلطی کرینگے وہ ہماری اصلاح کریگا۔ اول الذکر رویہ کیساتھ منسلک رہتے ہوئے ہمارے دینی زعماء اپنے اپنے نظریاتی ڈھانچے کیمطابق لائحہ عمل مجوز کر کے ایک دوسرے کیخلاف صف آراء ہوتے رہتے ہیں۔ انکو دین کا صحیح فہم نصیب ہوتا ہے نہ کوئی دیرپا اتحاد۔ اس طرح دشمنانِ اسلام کے سامنے سینہ سپر ہونے کے بجائے وہ آپس میں باہم متصادم رہتے ہیں اور دشمن کے سامنے انکی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ اسلام کی سرفرازی تو درکنار وہ اپنے دنیاوی وقار کو بھی کھو دیتے ہیں۔ ان کو نہ ہی اللہ کی حمایت و نصرت نصیب ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی دنیاوی منفعت۔
قرآن کی متعدد آیات یہ بات واضح کرتی ہیں کہ جب بھی کوئی دینی رہنما یا سیاسی لیڈر دوسرے درجہ کے ایمان کیساتھ نفاذ اسلام کی کوشش کریگا تو ناکام ہو گا۔ بے شک جب ان کا فہم قرآن ہی ناقص ہو گا اور انکے کارکن ناپختہ مسلمان ہوں گے تو وہ اسلام کی ایک مسخ شدہ صورت ہی رائج کر کے اللہ جل جلالہ کے غضب کو دعوت دینگے۔ ہمارے دینی زعماء کو نہ تو صحیح اسلامی نظام کا شعور ہے اور نہ ہی اس نظام کو قائم کرنے کا صحیح لائحہ عمل انکے پاس ہے۔ ان کا دین فی سبیل اللہ فساد کے علاوہ کچھ نہیں حالانکہ ان اکابرین کو میدان قیادت میں قدم رکھنے سے پہلے ہر چیز سے تعلق توڑ کر صرف اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑ لینا چاہئے اور ہر نوع کی ذاتی خواہشات اور گروہی مفادات کو خیرباد کہہ کے کلی طور پر اللہ کا ہو جانا چاہئے‘ اسی کے رنگ میں رنگے جانا چاہئے اور ہر قدم صرف اللہ کی رضا کیمطابق ہی اٹھانا چاہئے۔ جب وہ اس مقام کو پا لیں گے تو اللہ کی مدد براہ راست ان کو ملے گی اور کامیابی انکے قدم چومے گی۔
ایک غور طلب بات یہ کہ مسلمان ہندوستان میں تقریباً آٹھ سو برس حکمران رہے۔ گو اس طویل دور میں ملک ہمہ وقت اسلام کی درخشاں ہستیوں سے فیض یاب رہا‘ مگر ان میں سے کسی ایک نے بھی کسی اسلامی جماعت کی داغ بیل نہ ڈالی اور نہ ہی سرفرازی اسلام کیلئے کوئی تحریک چلائی گئی مگر ان علمائ‘ فقہاء اور صوفیاء نے اپنے اخلاق‘ تقویٰ اور بے غرض ایثار کی ایسی ذاتی مثالیں قائم کیں کہ اتنا عرصہ گذر جانے کے بعد وہ آجـ بھی مسلمانوں کے دلوں کو گرماتی ہیں۔ ہمارے اسلامی اکابرین اسلام کے چلتے پھرتے نمونے ہونے چاہئیں۔ جب ہمارے علماء اور مشائخ ہی طاغوت کا شکار ہو جائیں گے‘ تو انکے منہ سے دین کی بات دین کو بدنام کرنے کے مترادف ہو گی۔ جب تک کسی تحریک کی داعی قیادت کے کردار اعلیٰ اور ارفع نہ ہونگے اور انکی زندگیاں تحریک کے اغراض و مقاصد سے مطابقت نہیں رکھیں گی‘ تو اس وقت تک اس تحریک کی کامیابی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ ایک حدیث نبویؐ ہے کہ دوزخ میں ایک وادی ایسی ہے جس سے دوزخ بھی دن میں ستر بار پناہ مانگتی ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے دکھاوے کے عالموں اور قاریوں کے لئے مخصوص کر رکھا ہے:
کسے خبر تھی کہ لے کے چراغ مصطفویؐ
جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی
نفاذ اسلام کے معاملے میں پاکستانی عوام کا خدشہ یہ ہے کہ جو اسلام کے دینی رہنما پاکستان میں رائج کرنا چاہتے ہیں کیا وہ اسلام کے سنہری اصولوں‘ عالمگیر اخوت‘ احترام آدمیت‘ اخلاص اور رواداری پر مبنی ہو گا یا ان مذہبی عمائدین کی خود پرستانہ تعبیروں‘ ذاتی مفادات اور فقہی ترجیحات پر۔ اللہ تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ ہم اسکے دین قیم پر چل کر اپنے دامن اطمینان و مسرت سے بھر لیں جب کہ ہمارے دینی رہنما ہماری زندگیاں اسلام کے نام پر فرقہ واریت‘ تصادم‘ تشدد اور فساد کی نذر کر دینا چاہتے ہیں۔ ایک نہایت ہی قابل غور مرکزی حیثیت رکھنے والا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی انحطاط کی طرح ہمارا دینی انحطاط بھی 1857ء کی جنگ آزادی یا اس کے بعد انہدامِ خلافت کی پیداوار ہے‘ اس طرح اس میں بھی فرنگی کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ یہ مسئلہ ہمارے قومی استحکام کیلئے اتنا اہم ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ ایک خصوصی ادارہ صرف اس کام کیلئے قائم کرے‘ جو یہ پتہ لگائے کہ فرنگیوں نے ہمیں کہاں کہاں ڈسا ہے اور ہماری قومی زندگی میں اسکے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟ حیرت ہے کہ انگریز کے اپنے مفادات میں ایستادہ کئے ہوئے مسلمان زعماء کو ہم نے اب تک اپنا ممدوح قرار دے رکھا ہے۔ جب تک ہم اپنے انحطاط کی وجوہات کی نشاندہی کر کے اس کی بنیادوں کو ویران نہ کر دینگے‘ اس پر اپنے استحکام کی نئی عمارت کھڑی نہ کر پائینگے۔
اسلام کا بنیادی تصور صحیح سمت اور درست جہت کا تعین ہے کیونکہ بنیادی دینی تصورات کے رُخ میں ذرا سا فرق بالآخر تمام کے تمام دینی نظام فکر کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ شاید اسی خطرے کے پیش نظر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے باوجود اسکے کہ وہ ہر رُخ پر موجود ہے‘ مسلمانوں کیلئے عبادات اور فکر کا ایک ہی رُخ متعین کیا ہے‘ جس کی کرہ ارض پر علامت مکہ مکرمہ ہے جو تمام مسلمانان عالم کا قبلہ ہے۔ یہ رُخ محض ایک رسم کے طور پر ہی متعین نہیں کیا گیا بلکہ اس کا ایک گہرا روحانی مفہوم ہے۔
ہر مسلمان کو قرآن کریم کے کلی پیغام کو سمجھتے ہوئے‘ زندگی کے ہر شعبہ ‘ اخلاق‘ تمدن‘ معاشرت‘ معیشت اور سیاست میں ایک مخصوص صالح انداز کو اپنانا چاہئے۔ اس کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایک صالح انسان کا طرز عمل اللہ تعالیٰ اور بندوں کے ساتھ کیسا ہوتا ہے‘ اگر ہماری روحانی سمت ہی درست نہ ہو گی تو ہمارے سارے کے سارے اعمال اور دینی مساعی رائیگاں جائیںگی اور دنیا کا ہر ضابطہ اور قانون بیکار ہو کے رہ جائیگا۔ قبلہ کی درستگی کا مطلب یہ ہے کہ ہماری سوچ نہ صرف محدود دینی اور مذہبی امور میں ہی درست اور صحیح ہو بلکہ بڑے بڑے معاشی ‘ معاشرتی اور سیاسی مسائل میں بھی صحیح اور وسیع ہو۔ (جاری ہے)