ون ونڈو آپریشن

کالم نگار  |  فاروق عالم انصاری

گوجرانوالہ ڈویژن کا کمشنر کون ہے؟ جنرل نالج کے پیریڈ میں ایک طالب علم سے اس کے ٹیچر نے سوال کیا۔ طالب علم کا جواب تھا۔ ”سر ذوالفقار احمد چیمہ“ ٹیچر۔ ”یہ تو ڈی آئی جی گوجرانوالہ کا نام ہے۔“ طالب علم ”سر اخبارات میں اور کوئی نام میں نے کبھی پڑھا ہی نہیں۔“ ٹیچر۔ ”تمہاری معلومات سرے سے ہی ناقص ہیں۔ کمشنر گوجرانوالہ کا نام ہاشم ترین ہے“۔ طالب علم۔ ”لیکن سر! اخبار میں کبھی ان کا ذکر نہیں آیا۔“ ٹیچر۔ ”ذہن پر زور ڈالو‘ ابھی پچھلے مہینے ہی ان کا ذکر اخبارات میں صفحہ اول پر آیا تھا“۔ طالب علم۔ ”سر مجھے کچھ یاد نہیں آرہا۔ آپ ہی بتائیں ان کے بارے میں کیا شائع ہوا تھا۔“ ٹیچر۔ ”پچھلے مہینے جب میاں شہباز شریف سادھو کی آئے تھے تو اخبارات میں کمشنر کا ذکر آیا تھا۔“ طالب علم۔ ”لیکن سر وہ کنسٹیبل یاسین بٹ شہید کے ہاں افسوس کرنے آئے تھے۔“ ٹیچر۔ ”شہید زندہ ہوتے ہیں اور ان کی شہادت پر اظہار افسوس نہیں کیا جاتا۔“ طالب علم۔ ”پھر میاں شہباز شریف شہید کے والد کو حوصلہ دینے آئے ہوں گے۔“ ٹیچر۔ ”تمہیں یاد ہے کہ شہید کے والد محمد حسین بٹ نے شہید کے معصوم سے بچے کو گود میں اٹھا کر کہا تھا کہ اس پوتے سمیت میرے تمام بیٹے وطن کی خاطر حاضر ہیں‘ ایسے جواں دل بوڑھوں کو حوصلہ نہیں دیا جاتا بلکہ ان سے حوصلہ لیا جاتا ہے۔“ طالب علم۔ ”سر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ میاں شہباز شریف شہید کے والد کو انعام و اکرام دینے آئے ہوں۔“ ٹیچر۔ ”شہادت کا انعام دونوں جہانوں کے مالک کے سوا اور کون دے سکتا ہے۔“ طالب علم۔ ”سر سادھو کی میں میاں شہباز شریف شہید کنسٹیبل یاسین بٹ کے بچوں کیلئے بیس لاکھ روپے اور ایک مکان دینے کا اعلان کرنے گئے تھے۔ پھر اس تمام واقعہ میں کمشنر ہاشم ترین کا ذکر کیسے آگیا“۔ ٹیچر۔ ”اخبار غور سے پڑھا کرو۔ خبریں ادھوری پڑھنے سے کچھ بھی تو پلے نہیں پڑتا۔“ طالب علم۔ ”سر شہید یاسین بٹ کا کمشنر ہاشم ترین سے کوئی تعلق واسطہ میری سمجھ میں نہیں آرہا۔“ ٹیچر۔ ”جب تک مکمل خبر پڑھنے کی عادت نہیں ڈالو گے‘ تمہارے پلے کچھ نہیں پڑے کا“۔ طالب علم۔ ”سر آپ ہی بتائیں کہ ہاشم ترین کی خبر کیا تھی؟“ ٹیچر۔ ”کمشنر صاحب بہادر چالیس کنال جگہ پر کروڑوں روپوں کی لاگت سے کمشنر ہاوس تعمیر کروانے والے تھے۔ سادھوکی کے دورے پر آئے ہوئے میاں شہباز شریف اس خبر پر کمشنر سے بہت خفا ہوئے اور انہوں نے کمشنر ہاوس کی تعمیر کا منصوبہ ختم کروا دیا۔ ہے نا! کمشنر صاحب بہادر کا ذکر اخبار کے صفحہ اول پر“۔ طالب علم۔ ”میاں شہباز شریف نے کمشنر کی ٹرانسفر کا حکم کیوں نہیں دیا۔“ٹیچر۔ ”بس بس! مجھے بس اتنی ہی خبر معلوم ہے۔ پھر تم نے اخبارات میں غیر قانونی پلازوں کے بارے میں بھی کمشنر کے بلند بانگ دعوے ضرور پڑھے ہوں گے۔“ شاگرد۔ ”سر گوجرانوالہ شہر میں ایک دو پلازوں کو چھوڑ کر سبھی پلازے بغیر کمرشل فیس جمع کروائے اور بغیر نقشہ منظور کروائے بنائے گئے ہیں۔ لیکن کسی غیر قانونی پلازے کی ایک اینٹ بھی نہیں اکھیڑی گئی“ ٹیچر۔ ”لیکن ایسا سب کچھ کیسے ممکن ہے“۔ طالب علم۔ ”سر! ایسے کاموں میں لمبا مال پانی چلتا ہے۔ تب کہیں جا کر حاکموں کی آنکھوں سے ایسے غیر قانونی پلازے اوجھل رہتے ہیں۔“ ٹیچر۔ ”اپنے ایشیا کے گندے ترین شہر سے ایک اچھی خبر۔ ڈی آئی جی کی قیادت میں شہریوں نے عزم کیا ہے کہ گوجرانوالہ شہر کو ملک کا خوبصورت شہر بنائیں گے۔ جی ٹی روڈ پر خوبصورت درخت لگائے جائیں گے اور ہاں خوبصورت کھجوریں بھی ہوں گی۔ ممتاز تاجر رہنما ملک ظہیر الحق کا خیال ہے کہ یہ درخت ہو بہو ہماری شہری قیادت کی تصویر ہے۔ سایہ ندارد اور پھل بہت دور“۔ آخر خواب دیکھنے میں حرج ہی کیا ہے۔
چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے
پات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم بادو باراں ہے
شاگرد۔ ”سر ایک سوال پوچھوں“۔ ٹیچر۔ ”ہاں ضرور“۔ طالب علم۔ ”سر یہ ذوالفقار چیمہ ڈی آئی جی ہیں یا پھر آر پی او“۔ ٹیچر۔ ”دونوں ہی عہدے ان کے پاس ہیں۔“ طالب علم۔ ”تو پھر کمشنر کا عہدہ بھی انہیں ہی کیوں نہ دے دیا جائے۔
پھر ذوالفقار چیمہ کی ٹیم میں شہید یاسین بٹ جیسے فاقہ مست بھی شامل ہیں‘ جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا جانتے ہیں۔ جبکہ کمشنر صاحب بہادر کے ”مجاہدین“ نقشہ برانچ کے وہ کلرک بادشاہ ہیں جو سیر سپاٹے کےلئے آئے روز امریکہ جاتے رہتے ہیں۔ ایک اور بات بھی ہے کہ ”ون ونڈو آپریشن“ کے کچھ اپنے ہی فائدے ہوتے ہیں سر۔“