میڈیا کے خلاف غنڈہ گردی

وحید حسین ۔۔۔
کسی بھی معاشرے میں طب اور صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو انسان دوست، رحمدل اور انسانیت سے پیار اور محبت کرنے والا سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بیماروں کے لیے شفاءکی امید اور روشنی کی کرن ہوتے ہیں ۔ صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں کی عزت اور احترام اس لیے بھی کیاجاتا ہے کہ وہ عوام کی جان لینے کے بجائے اس کو بچاتے ہیں مگر؟؟؟ لاہور کے واقعہ نے پورے معاشرے کو مایوسی کے گہرے سمندر میں ڈبودیا۔
جناح ہسپتال لاہور میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کا صحافیوں پر ظالمانہ تشدد اور غنڈہ گردی ایک ایسی مثال ہے جو تاریخ کے اوراق پلٹنے سے بھی نہیں ملتی۔اس سے بھی بڑھ کر ستم ظریفی یہ ہے کہ قانون کے رکھوالوں اور اداروں کو مظلوم کا ساتھ دینے کے بجائے ظالم کو تھپکی دی کہ وہ معاملے کویہیں ختم نہ کریں بلکہ صحافیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کریں ۔ بتایا جاتا ہے کہ جن ڈاکٹروں نے صحافیوں کی پٹائی کی الٹا وہی تھانے میں جا کر میڈیا والوں کے خلاف ایف آر میں فریق بنے ۔
اس طرح کی حرکت شاید جنگلوں میں بسنے والے اور گلیوں میں گھومنے والے جانور بھی نہیں کرتے ۔انسان اور جانور میں یہی فرق ہے کہ اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات کا رتبہ اس لیے عطا کیا کہ وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ڈاکٹروں کی لاپروائی کی وجہ سے ایک شخص کی موت کے سبب کی خبر کو عوام تک پہنچانے والے صحافیوں کی مار پیٹ اور تشدد انسانی عمل نہیں ہو سکتا۔لگتا ہے کہ ڈاکٹروں کی عقل پر ذاتی مفادات اور ملازمت کو بچانے کے خوف کا پردہ پڑا ہوا تھا۔
صحافیوں کا قصور یہ تھا کہ وہ ہسپتال میں پیش آنے والے واقعہ کی رپورٹنگ کر رہے تھے جو کہ مریض کی موت میں ملوث ہسپتال کے عملے کے مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ صحافیوں میں سے خاص طور سے نیوز چینلز کے لیے رپورٹنگ کرنے والوں کو پہلے بھی کئی بار اس طرح کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کیونکہ وہ بااثر شخصیات اور اداروں کی غلط کاریوں اور غنڈہ گردیوں کو منظرعام پر لاتے ویں۔ لاہور ہائی کورٹ میں پچھلے ایک سال میں متعدد مرتبہ نیوز رپورٹرز اور کیمرہ مینوں کو سرعام وکلاءنے تشدد کا نشانہ بنایا چونکہ وہ ان کی بعض غیر اخلاقی ،غیر انسانی اور غیر قانونی حرکتوں کوعوام کے سامنے پیش کررہے تھے یہی نہیں صحافیوں پر پولیس تشدد کے واقعات کی بھی ایک لمبی داستان ہے سیاستدان بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے ۔پنڈی میں ن لیگ کے کارکنوں کی جانب سے صحافیوں پر تشدد کے واقعات بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔
اصل میں ٹی وی نیوز چینلز نے ملک میں مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے چوروں ،لٹیروں اور ظالموں کے اصل چہرے کیمرے کی آنکھ کے ذریعے بے نقاب کرنا شروع کر دیے ہیں جس سے ان قانون شکن عناصر کو شدید تکلیف ہو رہی ہے چونکہ ٹی وی چینلز ان کے غیر قانونی اقدامات کو رپورٹنگ اور ٹی وی کوریج کے ذریعے شدید ٹھیس پہنچا رہے ہیں اس لیے انہوں نے اپنی غلط کاریوں کو چھپانے کی خاطر میڈیا والوں کو ڈرانا اور دھمکانا شروع کر دیا ہے جو کہ نہایت ہی افسوس ناک ہے
میڈیا سے جو تبدیلی ہمارے معاشرے میں پچھلے چند برسوں سے رونما ہو رہی تھی اس کا سلسلہ اس طرح کی وحشیانہ کاروائیوں سے سست روی کا شکار ہو جائے گاجس سے ملک اور اس کے اداروں کے حقوق کا تحفظ مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہو جائے گا اور پورا معاشرہ افراتفری کا شکار ہو سکتا ہے۔
میڈیا کے خلاف حکمرانوں کی بے شمار مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جیسا کہ جنرل (ر) مشرف پاکستانی میڈیا کو آزادی دینے کے گن گا کر کئی سال تک کریڈٹ لیتے رہے مگر جب ان کی غلط پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو جنرل (ر) مشرف نے پیمرا کو استعمال کرتے ہوئے نیوز ٹی وی چینلز کی ٹرانسمیشن بند کرا دی پھر بھی اپنی حکمرانی کو برقرار نہ رکھ سکے اور آخر کار بیرون ملک پناہ لینی پڑی۔ آج کی حکومت کو بھی میڈیا کی تنقید کچھ زیادہ پسنددکھائی نہیں دیتی یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے اکثر وزراءنیوز چینلز کے اینکرز سے نالاں دکھائی دیتے ہیں ۔تاہم حکومت نے ابھی تک برداشت کا مظاہرہ کیا ہے ۔حال ہی میں ن لیگ کے قائد نے جب ججز کی تقرری اور سرحد کے نام پر 18ویں ترمیم کے بل کواتفاق رائے پیدا ہونے سے قبل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی مخالفت کی تو پی پی پی سمیت تمام دوسری سیاسی جماعتوں کا یہ موقف تھا کہ ن لیگ نے یو ٹرن لے کر درست فیصلہ نہیں کیا ۔ ن لیگ کے خلاف اس سیاسی ردعمل کی رپورٹنگ اور کرنٹ افیئرز کے پروگراموں میں ہونے والی تنقید پر سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف سمیت جماعت کے دوسرے رہنما میڈیا سے ناراض دکھائی دیتے ہیں۔
لاہور کے واقعہ کے تناظر میں یہ کہنا ضروری ہو گا کہ ڈاکٹروں خاص کر نوجوان ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کے معاشی اور پیشہ ورانہ مسائل موجود ہیں ۔ان کے کم تنخواہیں اور 12بارہ اور 16سولہ گھنٹے متواتر ہسپتالوں میں ڈیوٹی کی وجہ سے وہ فرسٹر یشن کا شکار ہیں جس کا حل تلاش کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے تاہم اس فرسٹریشن کے نتیجے میں میڈیا پر ظلم و تشدد کرنا کسی صورت بھی ان کے مسائل کا حل نہیں اگر چند گندے اور قانون شکن لوگ یہ سمجھیں کہ ان کی کاروائیوں سے میڈیا آزادانہ رپورٹنگ ترک کر دے گا تو یہ ان کی خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ۔
میڈیا آزاد ی اور ذمہ داری کے ساتھ حکومتی اداروںاور بااثرشخصیات کی غلط پالیسیوں اور غلط اقدامات کو جرÉت اور ہمت سے عوام کے سامنے لاتا رہے گا ۔ آج میڈیا کو جس قدر آزادی حاصل ہے وہاں اس سے بڑھ کر ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ کسی بھی ادارے یا شخص کا بلا وجہ میڈیا ٹرائل نہ کرے۔ ٹی وی چینلز پر بات کرتے وقت ملک و قوم کے مفادات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے ورنہ لوگوں کی امیدیں سیاسی جماعتوں اور حکومتی اداروں کی طرح میڈیا سے بھی اٹھ جائیں گی۔
میں نے ہمیشہ اپنے ٹی وی پروگرام اور کالم میں اسی موقف کی پرچار کی ہے کہ ملک کے اندر آئین اور قانون کی حکمرانی کو اگر دل سے تسلیم کر لیا جائے تو 90فیصد مسائل خودبخود حل ہو جائیں گے ۔
آج ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اکثرشخصیات اور ادارے اس تگ و دو میں مصروف رہتے ہیں کہ وہ دوسرں کے کام میں مداخلت کریں جس سے ٹکراﺅ کی راہ ہموار ہوتی ہے ۔جناح ہسپتال میں ڈاکٹراور پیرامیڈیکل سٹاف خلوص نیت سے اپنے فرائض سرانجام دیتے اور صحافیوں کو اپنا کام کرنے دیتے تو نہ ہی ان کی لاپروائی سے قیمتی جان ضائع ہوتی اور نہ ہی میڈیا سے تصادم ہوتا۔
امید ہے کہ خادم اعلیٰ پنجاب اپنے ماتحت اداروں اورملازمین کو حق و سچ کا ساتھ دینے سے نہیں روکیں گے اور ان قانون شکن ڈاکٹروں اور ہسپتال کے اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں گے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی کارروائیوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔