سنگاپور: سمندر میں ماحولیات کانفرنس

رانا اعجاز احمد خان ..............
گذشتہ ماہ سنگاپور میں بحری جہاز پر بین الاقوامی ماہرین قانون کی تین روز کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ جس کا بنیادی مقصد ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں کاربن کے بڑھتے ہوئے اخراج پر قابو پانے کے لئے تدابیر کرنا تھا۔ پوری دنیا سے آئے ہوئے ماہرین کو چونکہ تین دن سمندر میں ہی جہاز گزارنا تھے اس لئے بہت سے دیگر موضوعات پر بھی کھل کر باتیں ہوئیں۔ ہر روز کانفرنس کے تین تین گھنٹوں پر مشتمل 2 سیشن ہوتے تھے۔ ان میں سے دو سیشن کی صدارت میرے حصے میں آئی۔ بھارت‘ بھوٹان‘ سنگاپور‘ تھائی لینڈ ملائیشیا اور دیگر کئی ممالک سے ایک سے زائد ماہرین کو مدعو کیا گیا تھا۔ پاکستان سے صرف میری نمائندگی تھی۔ یہ کانفرنس ممتاز عالمی قانون دانوں اور سنگاپور لاءسوسائٹی کے باہمی اشتراک سے منعقد ہوئی۔ جس بحری جہاز میں کانفرنس ہوئی اس کا نام ”سپر سٹار ورگو“ تھا پروگرام کے مطابق اس جہاز نے سنگاپور سے ملیشیا کے شہر پیسننگ سے تھائی لینڈ کے علاقے چھوکٹ سے دوبارہ واپس سنگاپور تک کا سفر طے کیا۔ کانفرنس کا دوسرا مقصد کوپن ہیگن کے ماحولیاتی کانفرنس کے اعلامیہ کے بعد ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں اس شعور کو اجاگر کرنا بھی تھا کہ وہ فضا میں کاربن کے اخراج میں کمی کیلئے مربوط کوششیں کریں۔ اس کانفرنس کی صدارت چیف جسٹس آف سنگاپور چن سکیانگ کر رہے تھے۔ ماہرین نے ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والے کاربن کے اخراج میں کمی کیلئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوپن ہیگن کے معاہدے پر عملدرآمد کرانے کیلئے تمام ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک عمومی نقطہ نظر اور لیگل فریم ورک کے تحت کام کریں۔ کانفرنس میں شامل مقررین نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع گلوبل وارمنگ خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ جسٹس سکیانگ نے سنگاپور حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کئے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ گیس سے پیدا کی جانے والی بجلی نے کاربن اخراج کی سطح میں کافی حد تک کمی کی ہے جبکہ حکومت اس میں مزید کمی لانے والے ذرائع کی کوشش کر رہی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے جسٹس پی ستھازی ویم‘ نے کہا ہے کہ سائنسی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر انسانی سرگرمی اسی رفتار سے جاری رہی تو زمینی اوسط درجہ حرارت گذشتہ صنعتی دور کے مقابلے میں 7 ڈگری سیلسیسز بڑھ جائے گا خطرہ تو واضح ہو گا لیکن اس پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ بھارتی سپریم کورٹ نے ماحول کو بچانے کے اقدامات شروع کر دئیے ہیں اس کے ساتھ جنگلی حیات و نباتات کو محفوظ کرنے کیلئے بھی نئے طریقہ کا وضع کرنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ قانونی اصلاحات‘ عدالتوں میں کیسوں کے بوجھ کو کم کرنے کے حوالے سے اقدامات اور کردار کی وضاحت کرتے ہوئے بھارتی سابقہ یونین لاءمنسٹر اور سینئر ایڈووکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر رام جیٹھ ملانی نے کہا کہ کرپشن تمام ممالک کے معاشروں کیلئے سب سے بڑی مصیبت ہے لیکن سنگاپور نے خوش قسمتی سے اس لعنت پر قابو پا لیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت پاکستان کے ساتھ جنگ نہ لڑنے کے معاہدے پر دستخط کرے یہ ہی ایک واحد اور آخری ذریعہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ (جاری ہے)