دارالقرآن مجید برکت مارکیٹ میں قرآنِ مجید کانفرنس و تقسیمِ اسناد

دارالقرآن مجید برکت مارکیٹ نیو گارڈن ٹاﺅن لاہور میں 2 اپریل 2010ءکو نماز جمعتہ المبارک سے پہلے قاری غلام رسول نے قرآنِ مجید فرقان حمید کی تعلیمات و احکامات کے فانوس درخشاں کرنے کے لئے یک نشستی کانفرنس کا انعقاد کیا جس کی صدارت پر حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اوقاف حافظ حامد رضا متمکن ہوئے۔ اس موقع پر جہاں دیگر جیّد علمائے کرام و مشائخِ عظام موجود تھے وہاں وہ خوش نصیب طلبائے معظم اور ان کے والدین بھی تشریف فرما تھے جنہوں نے ایک محدود وقت کے اندر قرآنِ مجید حفظ کر کے دستار فضیلت حاصل کی تھی۔ قاری غلام رسول تقریباً پوری دنیا میں گذشتہ 60 سال سے قرآنِ مجید سنا کر ایک ایسی اسلامی خدمت سرانجام دے رہے ہیں جو انکی دنیا و عقبٰے میں بھی ان کی فلاح و نجات کا سامان ہے‘ وہ زینت القراءکے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں اور اس وقت پاکستان کے ایک ایسے معمر ترین قاری ہیں جو دیگر ممالک کے دوروں کے علاوہ پاکستان کے اندر بھی قرآن مجید خوانی کے لئے صبح و شام اور شب و روز سفر کرتے رہتے ہیں۔ اس کانفرنس میں بھی تاندلیانوالہ سے چند شخصیات قاری غلام رسول کو ساتھ لے جانے کے لئے تشریف آور ہو چکی تھیں۔ قاری غلام رسول نے ہمیں رات گیارہ بجے فون کر کے اچانک اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ چنانچہ ہم نے بھی قرآنِ مجید کی تعلیمات و احکامات کے فروغ و تعمیل کے میدان میں زینت القراءکی یگانہ روزگار خدمات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دیگر پروگرام منسوخ کر کے وہاں پہنچنے کا چارہ کیا۔ ورنہ ہم نے ان سے کوئی ”بیعانہ“ نہیں پکڑا ہوا تھا کہ ہم یوں اچانک ان کی دعوت کو قبول کرنے کے پابند تھے تاہم اس سفر میں پاکستان کے عظیم سٹرکچرل انجینئر ڈاکٹر جاوید یونس اُپّل کا دباﺅ بھی موجود تھا۔ وہ قاری غلام رسول کے پروگرام کے مطابق جامع مسجد دارالقرآن برکت مارکیٹ کی توسیع کے تعمیراتی منصوبے کی تکمیل میں معاونت کر رہے ہیں اور وہ سارا کام کارِ خیر کے طور پر کیا جا رہا ہے‘ بہرحال وسیع و عریض مسجد نمازیوں سے معمور تھی اور علمائے کرام اپنے اسلامی و دینی و تبلیغی خیالات کا آفتاب طلوع کئے ہوئے تھے۔ جو طلباءقرآن مجید حفظ کر کے اس تقریب میں سندات وصول کرنے کے لئے تیار بیٹھے تھے ان کے سروں پر بندھی ہوئی کریم کلر کی ریشمی دستاریں بہت خوبصورت نظر آ رہی تھیں اور قرآن مجید حفظ کر لینے کی کامیابی و کامرانی کے احساس سے ان کے چہرے دمک رہے تھے جبکہ قاری غلام رسول نے بتایا کہ عقبٰے میں قرآنِ مجید فرقان حمید کے حفاظ کی تو توقیر و آبرو ہو گی وہ فقیدالمثال ہو گی مگر ان کے والدین کو بھی اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل و کرم سے قابلِ رشک بلند منصب و مقام حاصل ہو گا‘ آج کی کانفرنس کے تناظر میں ہم نے حضرت مولانا پیرزادہ اقبال احمد فاروقی کے اس اردو ترجمہ سے ”قرآنِ مجیدکی تلاوت کے آداب“ رقم کر دینا ضروری خیال کیا جو انہوں نے ”تفسیرِ نبوی“ کے عنوان سے حضرت مولانا محمد نبی بخش حلوائی رحمتہ اللہ علیہ کی پنجابی زبان میں لکھی ہوئی تفسیر کے مطالب و مفاہیم کو ان قارئین تک پہنچانے کے لئے کیا ہے جو پنجابی زبان پڑھ یا سمجھ نہیں پاتے‘ وہ اپنی تفسیر کی جلد اول کے ابتدائیہ میں بیان فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ کا کلام بڑا عظمت والا ہے۔ اس کلام پاک کے ادب کے لئے بھی تمام تر توجہ دینا ضروری ہے‘ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات عظیم ہے اسی طرح اس کا کلام بھی عظیم ہے‘ قرآن مجید کو عظیم کہا گیا ہے ہر قاری کو ہدایت ہے کہ اعوذ باللہ کے ساتھ بسم اللہ پڑھ کر قرآنِ مجید کی تلاوت شروع کرے‘ تلاوتِ قرآنِ مجید سے پہلے ہر قاری کو صاف ستھرا لباس زیب تن کر لینا چاہئے اور صاف ستھری جگہ پر بیٹھ کر تلاوت کرنا چاہئے۔ تلاوت کے وقت ہر قاری کو قبلہ رخ ہو جانا چاہئے۔ سر پر عمامہ یا ٹوپی رکھ لینا چاہئے۔ تلاوت کے آغاز میں اعوذ باللہ ضرور پڑھنا چاہئے تاکہ شیطانِ رجیم کے وسوسے قاری سے دور رہیں البتہ تلاوت کے دوران رُکنے کے بعد دوبارہ تلاوت شروع کرنے کے لئے ”بسم اللہ“ پڑھ لینا ہی کافی متصور ہوتا ہے۔ اس طرح ہر سورت کے آغاز پر ”بسم اللہ“ پڑھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ تلاوتِ قرآن مجید کے دوران کسی دوسرے کام کی طرف توجہ نہیں دینا چاہئے۔ تلاوت ہمیشہ دھیرے دھیرے ترتیل کے انداز میں کریں۔ تلاوت ہمیشہ ذہن کی تازگی کے ساتھ کریں اور خوش آواز انداز میں تلاوت کریں۔ ترتیل کا مطلب وہ ہے کہ قرآنِ مجید کے الفاظ صاف اور واضح طور پر ادا کئے جائیں تاکہ تلاوت سماعت کرنے والے کو کسی قسم کا کوئی تردد یا تامّل نہ ہو‘ قرآنِ مجید کی ایک ایک آیتِ مبارکہ پر غور کریں‘ اگر کسی آیت میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کے وعدے ہیں تو اس سے اس کی بخشش اور انعام کے طلبگار بنیں‘ اگر کسی آیت کریمہ میں اس کی وعید یا جلال کی بات آئے تو استغفار کریں۔ ہر آیت کریمہ کو اس طرح پڑھیں کہ گویا وہ آپ کی ہدایت کے لئے نازل ہوئی ہے اور قرآنِ مجید کا ایک ایک لفظ اس طرح ادا کریں کہ جیسے ادا کرنے کا حق ہوتا ہے۔