خدا کرے کہ

نواز خان میرانی ۔۔۔
ناقدین جناب مجید نظامی کی شاید کسی اور سوچ سے اختلاف کر سکیں مگر جہاں تک اسلام کی عزت و عظمت اور وقار کا تعلق ہے وہ کسی اور نظریے اور اس میں جدید پیوندکاری‘ پاکستان کی نظریاتی اساس‘ قائداعظم کی شخصیت پر تنقید‘ تحریک پاکستان کے شہدا اور کارکنان کی کارکردگی کو خراج تحسین‘ حضرت علامہ اقبال کے افکار اور قائد کے فرمودات کا اعادہ‘ بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے بہاریوں کی پاکستان آمد کی راہ ہموار کرنے کی آواز اٹھانے۔ اور جہاد افغانستان بلکہ آزادی کابل کیلئے مسلسل کئی سالوں تک اپنے جریدے کے ماتھے پر ”افغان باقی کہسار باقی ۔ الحکم للہ الملک للہ“ اور فیلڈ مارشل ایوب خان کے آمرانہ دور سے لیکر مشرف کے آمرانہ اور مطلق العنان دور تک غیر جمہوری نظام کی مخالفت‘ محسن پاکستان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قید و بند کی صعوبتوں کے خلاف اور ان کے حق میں ان کے احسان پر جو انہوں نے توفیق ربانی سے کروڑوں مسلمانوں کو محفوظ بنا کر کیا ہے‘ کسی آمرانہ یا جمہوری حکومتوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ پاکستان بنانے والے کے احسان سے لے کر پاکستان بچانے والے کے احسان کو انہوں نے کروڑوں لوگوں کے دلوں سے محو نہیں ہونے دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ نہ تو احسان فراموش ہیں اور نہ کسی کا احسان بھولتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر محب وطن رہنما کی پذیرائی کرتے اور ان کی رہنمائی جیسی مدد بھی کرتے ہیں۔محسن پاکستان فاﺅنڈیشن ڈاکٹر عبدالقدیر کے نام پر بننے والی تنظیم کے سربراہ عبداللہ گل جو کہ حمید گل صاحب کے صاحبزادے اور طلبہ تنظیموں کے یوتھ کوآرڈینیٹر بھی ہیں نے گزشتہ دنوں نوائے وقت کے دفتر میں ان سے ملاقات کی۔ لیکن کل نوائے وقت میں ان کی چھپی تصویر جس میں وہ لہولہان تھے‘ نظر سے گزری کہ انہیں کسی نے زخمی کر دیا ہے۔ پتہ یہ چلا کہ موصوف نہایت شریف‘ بے ضرر اور نہایت محب وطن شخصیت ہیں۔ وہ اپنے نہایت قریبی دوست کی اچانک موت کا سُن کر ان کے جنازے میں شرکت کیلئے گھر سے نکلے‘ پیچھے سے گاڑی بجائے اوور ٹیک کرنے کے راستہ ہونے کے باوجود مسلسل ہارن بجانا شروع ہو گئی۔ اس میں بیٹھے شخص نے گاڑی کو روک کر انہیں باہر نکالا‘ پستول نکال کر اس کے بٹ سے دو دانت توڑ دیئے‘ ناک‘ ماتھا‘ بائیں آنکھ کو شدید زخمی کر دیا۔ لوگوں نے انہیں مزید کارروائی سے بچا کر ہسپتال پہنچا دیا جو تاحال ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ واضح رہے کہ گاڑی کو اس وقت روکا جا سکتا ہے جب راستہ صاف ہو۔ اس سے قبل ان کی بہن عظمیٰ حمید کی بسیں بھی مشرف نے سازش کے تحت بند کرا دی تھیں۔ حمید گل صاحب کے بیٹے کو لہو لہان کرنے اور ان کی بہن کی بسیں بند کرانے کا مقصد حمید گل کی زبان بند کرانا‘ مشرف دور میں تو سمجھ آتا ہے‘ مگر جمہوری دور میں کیا یہ شعوری سازش ہے۔ حق بات کرنے والے کی راہ میں تو کافر کانٹے بچھاتے تھے‘ کیا مسلمان بھی ایسا کر سکتے ہیں؟ اگر موجودہ دور کو جمہوری آمریت مان لیں تو ایوب خان کا قول ہے کہ نظریاتی اختلاف کو تلخی اور تشدد میں نہیں ڈھالنا چاہئے۔ اسی لئے تو بایزید بسطامیؒ فرماتے ہیں کہ اگر آپ چالیس برس میں عقلمند نہیں بنے تو آپ کبھی عقلمند بننے کی امید نہ رکھیں اور اس وقت تک اپنے آپ کو انسان نہ سمجھو جب تک تمہاری رائے غصے کے زیر اثر ہو کیونکہ ملک ایک کھیتی ہے اور عدل اس کا پاسبان ۔۔ پاسبان نہ ہو تو کھیتی اُجڑ جاتی ہے۔ مگر حمید گل خاندان تو کھیتی کی آبیاری کے لئے سربکف میدان میں اترا ہے۔ اگر یہ واقعہ اتفاقیہ ہے تو پھر نظریہ ضرورت کا سہارا پولیس کو نہیں لینا چاہیے کہ اسی نظریے کے تحت مجرم کبھی گونگا بہرہ بننے کی ادکاری کرتا اور کبھی پولیس کو مکمل بیان دیتا ہے جبکہ اس میں متعدد قانونی سقم موجود ہیں۔ اسی لئے اتفاقیہ یا منصوبہ بندی کے تحت دونوں صورتوں میں اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو پتہ ہے کہ پنڈی پنجاب کا علاقہ ہے اور وہ اپنے علاقے میں قانون کی عملداری ہمیشہ جاری و ساری رکھنے کے قائل ہیں اور پاکستان میں الحمدللہ از خود نوٹس لینے والی بھی متعدد شخصیات موجود ہیں۔ خودکش حملہ آوروں کے تو صرف سر ملا کرتے ہیں‘ یہاں تو محسن کش پورے کا پورا موجود ہے اور یہی سب سے بڑا ثبوت ہے۔ آزاد اسلامی مملکت کے باسی عبداللہ گل کیلئے باغیرت ہم وطنوں کی طرف سے وطن اور ہم وطن کیلئے یہی دعا ہے کہ
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے‘ وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے صدیوں‘ یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو