بھارت کی حج پالیسی کا گورکھ دھندا

سید محمد حبیب عرفانی ...........
انڈین حکومت پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتی مثلاً سمجھوتہ ایکسپریس کا واقعہ‘ پارلیمنٹ پر حملہ اور اب ممبئی دھماکوں کو لے لیجئے اب تک اس پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا جاری ہے۔ یہ پروپیگنڈا اس تواتر سے کیا جاتا ہے کہ جھوٹ سچ لگنے لگتا ہے اور ہندوستان کے متعصب حکام اور میڈیا کا یہ رویہ صرف پاکستان کے ساتھ نہیں بلکہ وہاں بسنے والی تمام اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ بھی ہے۔ اسی طرح کے پراپیگنڈا پروگرام کی ایک اور مثال انڈیا کی حج پالیسی ہے جس کے تحت بڑے تواتر اور ڈھٹائی کے ساتھ انڈین حاجیوں کے ذہن میں یہ بات بٹھائی جاتی ہے کہ انڈین گورنمنٹ مسلمانوں کی بہت خیر خواہ ہے۔ انہیں حج میں اتنی زیادہ رعایتیں دی جاتی ہیں کہ جس سے پاکستانیوں کے مقابلہ میں انڈین مسلمان بہت سستا حج کرتے ہیں اور انڈین حکومت ائر انڈیا کے کرایوں میں خاصی بڑی رقم حاجیوں کے کرائے کی سبسڈی کی مد میں ادا کرتی ہے جو تقریباً سات ارب روپے ہے۔ اس پروپیگنڈا سے ہمارے پڑھے لکھے ذہین لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں اور حکومت کی تعریفیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ درج ذیل اعداد و شمار اور حقائق دیے جا رہے ہیں جس سے یہ بات مزید واضح ہو جائے گی کہ حقائق کو توڑ مروڑ کر میڈیا کے ذریعے لوگوں کے ذہن پر اثر انداز ہونے کی کوششیں کرنا انڈیا کی حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔ دوران حج انڈین حاجی بطور خاص پاکستانی حاجیوں سے یہ سوالات کرتے نظر آتے ہیں کہ تمہارے حج پر کتنے پیسے خرچ ہوئے۔ جواب ملنے پر وہ اپنی حکومت کی تعریفوں کے پُل باندھتے ہیں اور ا نڈین مسلمانوں کے ساتھ جو ہندووں کا طرز عمل اور سلوک ہے اس کی شرمندگی مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سبسڈی یا رعایت کی حقیقت یہ ہے کہ ہم نام کرنسی ہونے کی وجہ سے اس کی ویلیو میں جو فرق ہے اس کو یکسر پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ انڈین گورنمنٹ کی طرف سے کرایوں میں 1990ءسے چار ہزار سے شروع کر کے 2009ءمیں 28000 روپے تک کی سبسڈی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ 2009ءکے حج میں پاکستان سے وزارت حج نے دو لاکھ روپے حج اخراجات میں وصول کئے جبکہ انڈین حج کمیٹی نے ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے وصول کئے۔ بظاہر 85000 روپے کا فرق محسوس ہوتا ہے لیکن انڈین روپے کی قدر اور پاکستانی روپے کی قدر کا فرق اگر ملحوظ رکھا جائے۔ نومبر 2009ءمیں ایک امریکی ڈالر 46.67 انڈین روپے کا تھا اور ان کے ڈالر 2464 روپے بنے اور اس حساب سے ہر انڈین حاجی نے 2464 امریکی ڈالر حج کے اخراجات میں ادا کئے جبکہ اس وقت 83.55 پاکستانی روپے کے عوض ایک ڈالر ملتا تھا۔ اس حساب سے ہر پاکستانی نے 2394 امریکی ڈالر حج اخراجات میں ادا کئے۔ اس طرح ہر انڈین نے 70 امریکی ڈالر زائد ادا کئے۔ باجود اس کے کہ انڈین حکومت نے 28000 روپے یعنی تقریباً 340 ڈالر کرائے کی مد میں اس کو سبسڈی دی۔ انڈین حکومت اپنے حاجیوں کو جو انکم ٹیکس ادا کرتا ہو یا پہلے حج کر چکے ہوں انہیں یہ سبسڈی نہیں دیتی۔ اس حساب سے جن کو سبسڈی نہیں ملتی اس نے تقریباً 55,975 پاکستانی روپے کے حساب سے زیادہ اخراجات کئے ہوتے ہیں۔ چند دن پہلے ہمارے ایک بہت ہی محترم کالم نگار نے وزارت حج کے لتے لیتے ہوئے حج اخراجات کے حوالے سے انڈین سبسڈی کی تعریف کی۔ ان سے بصد ادب گزارش ہے کہ اگر اس طرح کی بات لکھنے سے پہلے تھوڑی سی تحقیق کر لی جائے تاکہ وہ لوگ جو ان محترم شخصیات کی تحریریں پڑھ کر ان پر من و عن یقین کر لیتے ہیں۔ کہیں اپنے ہی لوگوں میں پاکستان کی بدنامی کا باعث تو نہیں بن رہے۔ اور اب تمام تحریریں انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا میں پہنچ رہی ہیں جس سے ہمارا دشمن پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا میں ان بڑے ناموں کو استعمال کرتا ہے۔