اندر کے سانپ

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

داخلی اور باطنی صحت جب تک نہ ہو خارجی بناو سنوار کوئی معنی نہیں رکھتا، بھارت کے بارے میں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے تاحال صدق دل سے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اور وہ دوستی و مذاکرات کا ڈھنڈورا پیٹ کر دنیا کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ تو پاکستان سے بہتر تعلقات چاہتا ہے، گویا وہ ہمارا کھلا دشمن ہے، جس کی دشمنی کے ثبوت موجود نہیں مگر جو ہمارے اندر ہم میں سے ہو ہمیں ڈستے ہیں ان سانپوں کی گردن ناپنا بھی تو ضروری ہے، اس وقت وطن عزیز میں ایک ایسی لابی موجود ہے، جو پاک سرزمین کو ناپاک سرزمین بنانے کے درپے ہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان تقسیم اور اس کے نتیجے میں پیدا کردہ تنازعات کو فراموش کر کے، نظریہ پاکستان عقائد، اسلامی کلچر اور قومی حمیت کو چھوڑ چھاڑ کر اس حال میں بھارت کے ساتھ گہری دوستی کرے، جبکہ بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے، اس نے ہمارا پانی بند کر رکھا ہے۔ وہ پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے، اور بالخصوص چاہتا ہے کہ دو قومی نظریے کو مٹا کر اکھنڈ بھارت کے لئے راستہ ہموار کیا جائے۔ بھارت نے پاکستان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے بعض پاکستانیوں کو سانپ کی طرح پال رکھا ہے، جنہیں وہ اوک بھر بھر کر دودھ پلاتا ہے، اور وہ قلمے سخنے اس کی خدمت انجام دے رہے ہیں، اور جو لوگ پاکستان کے نظریے کی بات کریں یا بھارت سے تنازعات حل کرنے کا مطالبہ کریں، ان کو فرسودہ خیالات کا مالک ثابت کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ نئی نسل کو ایک ایسی راہ پر ڈال دیں جس کو وطن سے محبت کا کوئی دور کا واسطہ بھی نہ ہو، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان 62 سال بے مقصد مذاکرات پر صرف اس لئے گزارہ کرتا رہا ہے، کہ وہ دراصل بھارت سے اچھے تعلقات کا خواہشمند ہے، مگر یہ دوستی کسی بنیاد پر قائم رہ سکتی ہے، اگر ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پاکستان کی معیشت کو تباہ کرے، اس کے دشمنوں کی سرپرستی کرے تو دونوں ہمسایوں میں امن کی فضا اور دوستی کیسے قائم ہو سکتی ہے، بھارت میں جو کروڑوں مسلمان رہتے ہیں اور وہ دوسری بڑی اکثریت کے باوجود ہندو کی بالادستی میں زندگی گزار رہے ہیں، اور ہمارے ہاں جو لابی بھارت کے لئے کام کر رہی ہے وہ امن آشا کی بھاشا بولتی رہے تو کیا اس پر خاموش رہنا قوم و ملک سے غداری نہیں؟ ہمیں اپنے آس پاس اپنے گھر کے اندر کے سانپوں سے ہوشیار رہنا ہوگا۔ اس لئے کہ بھارت نے اس کام کے لئے بھاری فنڈز مختص کر رکھے ہیں، ابھی حال ہی میں ہماری وزارت داخلہ نے بھاری مقدار میں بھارتی اسلحہ پکڑا جو افغانستان کے راستے پاکستان لایا جا رہا تھا، اس وقت ہمارے دریا¶ں میں اس لئے پانی نہیں کہ بھارت اپنے ڈیم بھر ہی نہیں ان کی سطح بھی ضرورت سے زیادہ اونچی رکھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ہماری معیشت تباہ ہو رہی ہے، کیونکہ اس سے بجلی اور زراعت کی پیداوار صفر پر آ گئی ہے، ادھر یہ عالم ہے کہ چند بھارتی گماشتے قلم، زبان اور عمل کے ذریعے بھارت سے دوستی کا راگ الاپ رہے ہیں، پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو چھیڑ رہے ہیں، اور ادھر تعصب اس قدر ہے کہ بھارت کو ایک پاکستانی سے بھارتی لڑکی کی شادی ہضم نہیں ہو رہی، آخر شیوسینا کس کے اشارے پر بھارتی مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے، وگرنہ جس طرح ہم سے کئی تنظیموں کو کالعدم قرار دلوایا گیا ہے، شیوسینا اور وشوا ہندو پریشد جیسی مسلمان دشمنی انتہا پسند ہندو تنظیموں پر ہم بھارت سے پابندی عائد کرنے کے بجائے ایک ایسے دشمن کو دوست بنانے کی تگ و دو میں فنکشن منعقد کرتے ہیں تحریریں لکھتے ہیں، جس نے سر سے ہمارے وجود ہی کو تسلیم نہیں کیا، اور پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کے مشن چلا رہا ہے، پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے، اگر اس کے نظریے کو خدانخواستہ نقصان پہنچایا جائے تو اس کے وجود کا جواز ہی باقی نہیں رہ جاتا، ہمارے پرنٹ میڈیا کو چاہئے کہ وہ پاکستان دشمن پراپیگنڈے پر مبنی تحریروں کو جگہ نہ دیں، ایسے لکھنے والے خالی الذہن ہوتے ہیں، اور ان کو ایک مخصوص طرز استدلال کی تربیت دی گئی ہوتی ہے جس کے تحت وہ تحریروں کے ذریعے اپنا زہر قوم کے وجود میں داخل کرتے ہیں، بھارت ہتھیاروں کے انبار لگا رہا ہے، ہر روز میزائل تجربات کرتا ہے آخر کس کے لئے ؟ کیا اس کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کا اپنے آپ کو تیار کرنا قدامت پرستی ہے، یا وقت کی پکار پر کان دھرنا ہے، یہ بھارتی سیکولر ایجنٹ جو بظاہر ہم میں سے ہیں، نوائے وقت اور اس کے مدیراعلیٰ پر حملے کیوں کرتے ہیں صرف اس لئے کہ مرد صحافت مجید نظامی ان کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہیں، اور انہوں نے نظریہ پاکستان کے ترجمان و محافظ اپنے اخبار کو پاکستان سے وفاداری کے لئے وقف کر رکھا ہے، پاکستان کے دوسرے اخبارات بھی محب وطن ہیں، مگر یہ اندر کے سانپ غچہ دے کر ان میں گھس کر کارروائی کر لیتے ہیں، اس لئے یہ قومی فریضہ ہے کہ ایسے داخلی سانپوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔