اقبال منزل کی خستہ حالی

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

علامہ اقبال سیالکوٹ شہر میں جس مکان میں پیدا ہوئے تھے اور جہاں ان کی زندگی کے ابتدائی سال گزرے وہ مکان حکومت پاکستان نے بجا طور پر قومی یادگار قرار دے رکھا ہے لیکن اقبال منزل جس کی دیکھ بھال اب حکومت پاکستان نے اپنے محکمہ آثار قدیمہ کے سپرد کر رکھی ہے کی خستہ حالی کی طرف کبھی بھی کسی حکومت نے توجہ نہیں دی۔ اس تاریخی عمارت کو اس کی اصل حالت میں محفوظ رکھنا اور اقبال منزل میں علامہ اقبال کی زندگی اور افکار کے حوالے سے ایک جدید طرز کا تحقیقی مرکز قائم کرنا حکومت پاکستان کی کلچر منسٹری کی ذمہ داری ہے۔ قائداعظم اور علامہ اقبال وہ عظیم المرتبت ہستیاں ہیں جن کا نام تصور پاکستان سے لے کر قیام پاکستان کی منزل تک تحریک پاکستان کی شاہراہ کے ہر سنگ میل پر تحریر ہے۔ قائداعظم اور علامہ اقبال کی تصاویر سجانے سے ان کے احترام میں نہیں بلکہ ہماری عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بے نظیربھٹو ہوں یا نوازشریف ان دونوں کا مقام اپنی اپنی جماعت کے کارکنوں کی نظر میں کتنا ہی ممتاز کیوں نہ ہو۔ پاکستان میں جو مقام اور احترام قائداعظم اور علامہ اقبال کو حاصل ہے وہ اور کسی کے نصیب میں نہیں ہے اور نہ آئندہ ہو گا۔ کسی شاعر نے کہا تھا
دیوار کی ہر اینٹ پہ لکھا ہے میرانام
تعمیر کسی اور سے منسوب ہوئی ہے
پاکستان کی عمارت جن دو ستونوں پر استوار ہوئی تھی ان میں سے ایک علامہ اقبال کی فکر اور دوسر قائداعظم کا عمل تھا۔ ان دوگراں مایہ شخصیات کے احسانات اگر ہم فراموش کر دیتے ہیں تو پھر پاکستان کی تاریخ میں ہمارا قابل فخر سرمایہ کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ اگر ہم قائداعظم اور علامہ اقبال سے منسوب تاریخی عمارات کو محفوظ نہیں رکھ سکتے اور دیگر کسی سیاسی شخصیت کی یاد میں (جس کا مقام و مرتبہ تاریخ میں قائداعظم اور علامہ اقبال سے کہیں کم ہے) اداروں کی بنیاد رکھتے چلے جائیں تو تاریخ ہماری اس ناانصافی کو معاف نہیں کرے گی اور ہمارا شمار محسن کش قوموں میں کیاجائے گا۔ اقبال منزل سیالکوٹ کو عالمی معیار کے مطابق اصل حالت میں محفوظ رکھنے کے لئے بہت زیادہ سرمائے کی ضرورت ہے کیونکہ محکمہ آثار قدیمہ کے اپنے آرکیٹیکٹ کے مطابق جب تک اقبال منزل کے گردوپیش سے مکانات خرید کر 22 مرلے کے قریب اراضی مہیا نہ کی گئی تو اقبال منزل کے موجود ڈھانچے کو اس کی اصل صورت میں محفوظ کرنا ممکن ہی نہیں۔ یہ اراضی چونکہ کمرشل ایریا میں واقعہ ہے اس لئے اگر اقبال منزل کے اردگرد کے مکانات اور دکانوں کے مالکان اگر راضی بھی ہو جائیں تو کروڑوں روپے خرچ کر کے ہی یہ زمین حاصل کی جا سکتی ہے۔ پھر اقبال منزل کو تاریخی ورثہ کے طور پر محفوظ کرنے کے لئے جو اخراجات ہوں گے وہ الگ ہیں اس سارے کام کے لئے حکومت پاکستان کو کم از کم پانچ سے سات کروڑ تک رقم مختص کرنی چاہیے تھی لیکن وزارت ثقافت کے فیڈرل سیکرٹری کی ذاتی دلچسپی لینے کے باوجود صرف ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے کی رقم محکمہ آثار قدیمہ کو مہیا کی گئی ہے۔ پھر اقبال منزل کو محفوظ کرنے اور رکھنے کے لئے جو مطلوبہ زمین چاہیے اس کے لئے حکومتی سطح پر ابھی تک کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اقبال منزل سے متصل مکانات کے مالکان کو ایک عظیم مقصد کے لئے ضرور قربانی دینا چاہیے اور جو بھی مناسب قیمت ہو وہ وصول کر کے اقبال منزل کو محفوظ کرنے کے لئے اپنی زمین حکومت کو مہیا کر دینی چاہیے۔ اقبال منزل کے لئے جو لوگ پیسے لے کر بھی اپنی زمین دینے پر رضا مند ہو جائیں میرے نزدیک ان کی زمین اقبال منزل میں شامل ہو کر خود بھی یادگار اور تاریخی حیثیت اختیار کر جائے گی۔ اس طرح آنے والی نسلوں کے لئے علامہ اقبال کا تاریخی مقام پیدائش ایک یادگار کے طور پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے گا۔ سابق ضلع ناظم میاں نعیم جاوید اور ایوان صنعت و تجارت کے موجودہ صدر محمد اسحاق بٹ نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے قومی شاعر علامہ اقبال کے مقامی پیدائش کو قومی یادگار کے طور پر محفوظ کرنے کے لئے جتنے بھی اخراجات ہوں گے وہ اسے اپنے طور پر فراہم کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔