اداروں میں مناسب نہیں تصادم کی صورتحال

فوزیہ بشیر (ایڈووکیٹ)
مہذب معاشروں نے تہذیبی ارتقاءکی بدولت افراد کونہیں اداروں کو فروغ دیا مقصد انفرادی مفاد کی بجائے مفادِ عامہ تھا۔ مہذب دنیا کے مہذب ممالک نے جن اداروں کی ترقی و ترویج کے لئے کام کیا ان ممالک کے ادارے کسی بھی سطح پر آپس میں ٹکراو کا باعث نہیں بنتے وجہ مفاد عامہ کو کہیں نقصان نہ پہنچے۔ دوسرے بڑے تمام مہذب معاشروں کا اس بات پر مکمل یقین ہے کہ ادارے وجود میں آنے کا مقصد درحقیقت مفاد عامہ ہے اور اگر ادارے اپنے ہی اندر یا ایک دوسرے کے ساتھ چند غیر اہم ایشوز پر لڑیں جھگڑیں تو پھر اداروں کے قیام کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ گزشتہ تین سالہ دور میں حکومت اور عدلیہ ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراو بلکہ شدید ٹکراو کی صورت حال سے گزر رہے ہیں۔ عدلیہ کی بحالی و عوامی حکومت کے قیام کے بعد اب ان دونوں اداروں کی اہم ذمہ داری ہے اپنی اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے کسی بھی تصادم سے بچیں۔ ملکی اور مفاد عامہ کے لئے جہاں ممکن ہو ایک دوسرے کے ساتھ مثبت کوآرڈینیشن رکھیں۔ موجودہ صورت حال میں جبکہ الیکٹرانک میڈیا جس حجم اور رفتار سے بڑھ گئی ہے اس پر بھی کچھ ایسی اخلاقی ذمہ داریاں عائد ہوتیں ہیں کہ جہاں عدلیہ اور عدلیہ جو کہ فراہمی انصاف میں بنیادی اور کُلی ادارہ ہے بلاشبہ اس کے گزشتہ تین چار سال کے اقدامات لائق تحسین ہیں مگر موجودہ حالات میں جناب چیف جسٹس اور دیگر جسٹس صاحبان کو یہ دیکھنا ہے کہ عدلیہ میں پسند اور ناپسند کے نظریہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا جائے۔ میرٹ کی بنیاد ہر حال میں سینارٹی ہونی چاہیے۔ پیچیدہ اور مہنگے نظام عدل کی اصلاح ہونی چاہیے۔ بار اور بینچ میں انتہائی کوآرڈینیشن کی ضرورت ہے۔ حکومت کا فرض بھی ہے کہ وہ اپنے حکومتی ممبران اور ان کے مفادات کے تحفظ کی بجائے عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے عدلیہ کے اصولی موقف اور احکامات کی پیروی من وعن کرے، کسی بھی ضابطے کی کارروائی کو ذاتی عناد نہ سمجھیں بلکہ صحیح قاعدے اور قانون کی پابندی کو شیوا بنا لیں۔ حکومت اور عدلیہ نظریہ ضرورت کو دفن کر کے نظریہ مفاد عامہ کو فروغ دیں۔ قانون کی حکمرانی، آزاد عدلیہ کے اصولوں کو مضبوط کرنے کے لئے برداشت و بردباری کا مظاہرہ کریں جن ممالک میں آئین کی پاسداری ہوتی ہے آئین مضبوط ہوتا ہے تو ادارے بھی مضبوط ہوتے ہیں وہاں اس کا ڈائریکٹ فائدہ عوام کو پہنچتا ہے جو فلاحی ریاست کا پہلا اور آخری مقصد ہے وہ ہے مفادِ عامہ ہے۔