یافوز کا پرتو

کالم نگار  |  نازیہ مصطفی

سلطان یافوز1512ءمیں ترکی کے تخت پر بیٹھا، لیکن اُسے محض آٹھ سال کے مختصر عرصے تک حکمرانی کرنے کا موقع ملا۔ زمامِ اقتدار سنبھالنے کے بعد انتہائی مختصر عرصے میں یافوز نے اپنی سلطنت کی حدود کو ورثے میں ملنے والی سلطنت سے تین گنا زیادہ پھیلا دیا۔ حجاز، شام اوربحیرہ احمر کے ساحلی علاقے تھامة کو فتح کرنے کے بعد یافوز مصر پہنچا تو سارا جزیرہ نما عرب اسکے سامنے سرنگوں ہوچکا تھا۔ مملوک سلطنت کو فتح کرکے یافوز آخری عباسی خلیفہ کو اپنے ساتھ استنبول لے گیا، جہاں خلیفہ المتوکل سوم نے خلافت یافوز کو سونپ دی۔یوں یافوز پہلا غیر عرب اور عثمانی خلیفہ بن گیا۔جس وقت پہلے عثمانی خلیفہ کا انتقال ہوا تو سلطنت عثمانیہ ایک ارب ایکڑ یا چالیس لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیل چکی تھی۔ معروف ترک تاریخ دان نجات سکوگلو اپنی کتاب”بو ملکن سلطان لاری“یا”اس زمیں کے سلطان“ میں لکھتا ہے کہ چوڑا چکلا اور لحیم شحیم یافوز بڑا ذہین،انتہائی محنتی ،توانائی سے بھرپوراور کامیاب ترین ترک حکمران ثابت ہوا۔یہ یافوز دراصل نواں ترک سلطان سلیم اول تھا، جس نے محض آٹھ سالہ دورِ حکمرانی میں ترک سلطنت کی بنیادوں کو اتنا مضبوط کردیا کہ بعد میں اُسے ختم ہوتے ہوتے چار صدیاں لگ گئیں۔ سلطان سلیمان عالیشان کے والد سلطان سلیم نے اپنی جنگی مہمات میں اتنی زیادہ دولت سمیٹی کہ اسے سنبھالنے کیلئے سلیم کو بہت بڑا ”ہیزن“ یعنی گنج خانہ بنانا پڑا۔ جب یہ گنج خانہ دولت سے لبالب بھرگیا تو یافوز نے اس کو سربمہر کردیا۔ یافوز نے بطور خلیفہ فیصلہ سنایاکہ اس خزانے کووہی استعمال کرسکے گا جو نئے گنج خانہ کواِس سے زیادہ بھردیگا ۔ آنیوالے ستائیس عثمانی سلاطین میں سے کوئی بھی خزانے کو کھولنے کی شرط پوری نہ کرسکا اور یوں یہ خزانہ سلطان یافوز کی مہر کے ساتھ چار سو سال تک قفل میں رہا، حتیٰ کہ عثمانی خلفاءکا نام و نشان تک مٹ گیا۔
ایک ترکوں پر ہی کیا موقوف بلکہ دنیا میں جتنی بھی بڑی بڑی سلطنتیں گزری ہیں، وہ سب کسی نہ کسی یافوز کی مرہوں منت رہی ہیں۔ہر بڑی سلطنت کے حکمران کسی ایک بادشاہ کی ”کمائی“ کھاتے رہے۔ ہر سلطنت میں ایک آدھ ہی یافوز جنم لیتا رہا، جس کی محنت آنیوالے حکمران ”کیش“ کراتے رہے۔ مثال کے طور پر اموی خاندان کو ہی لے لیں، ولید بن عبدالمالک کا دور اس خاندان کاسنہری دور تھا، باقی عرصہ اموی خلیفہ اسی دور کے سہارے قائم رہے۔ عباسی خاندان کو المنصور اور ہارون الرشید نے مضبوط کیا، جس کے بعد کسی نہ کسی طرح سات سو سڑسٹھ برس تک خلافت کی ذمہ داریاں آل عباس کے پاس ہی رہیں۔اب مغلوں کو دیکھ لیں کہ بابر نے سلطنت کی بنیاد رکھی اور ہمایوں کے دور میں اس کا دوسرا جنم ہوا، لیکن اس سلطنت کو اصل عروج اس وقت حاصل ہوا، جب چودہ سالہ اکبر نے تخت سنبھالا۔ مغلوں نے اکبر اعظم اور عالمگیر کے انچاس انچاس سالہ دوادوار کی ”کمائی“ پورے تین سو اکتیس برس تک کھائی۔ انگلینڈ کا شہنشاہ الفریڈ اعظم، پروشیا کا بادشاہ کنگ فریڈرک، پرتگال کا شہنشاہ الفانسو، فرانس کا بادشاہ ہنری چہارم، روسی ژار ایوان سوم، ہنگری، کروشیا اور پولینڈ کا شہنشاہ لوئیس اول، جاپانی شہنشاہ میجی، ساسانی شہنشاہ شاپور دوم، اور تاتاری جنگجو چنگیز خان جیسے حکمرانوں کی ”محنت“ کی کمائی اُن کی اولاد صدیوں تک کھاتی رہی اور اپنے ممالک پر ان کا سکہ چلتا رہا۔اِن بادشاہوں کی اولادیں حالانکہ بہت نالائق اور نکمی گزریں ہیں، اسکے باوجود اِن سلطنتوں کا ٹائی ٹینک ڈوبنے میں بہت وقت لگا کیونکہ یہ تمام بادشاہ اپنے اپنے ملکوں اور اپنی اپنی سلطنتوں کے ”یافوز“ تھے۔یہ یافوز اپنے پیچھے ایک مضبوط ریاست ،بھرا ہوا خزانہ اور اپنی اولاد کیلئے ایسا قابل عمل طرز حکمرانی چھوڑ کر گئے جس کی وجہ سے اِن ممالک میں آج بھی ان ”یافوزوں“کا نام انتہائی احترام سے لیا جاتا ہے۔جدید دنیا کودیکھا جائے تو یہ یافوز آج بھی موجود ہیں۔مثال کے طور پر ملیشیا کے مہاتیر محمد کو لے لیں یا ترکی کے رجب طیب اردگان کا تذکرہ کرلیں۔ اِن دونوں رہنماو¿ں نے اپنے اپنے ملک کیلئے جو کچھ کردیا ہے، اُس کے بعد اِنکی آنیوالی اولادیں اگر چاہیں بھی تو ملک کی نیا ڈبونے کیلئے صدیاں درکار ہوں گی۔دوسری جانب اِس حوالے سے پاکستان کا ذکر کیا جائے تو صورتحال دیکھ کر دل کڑھتا ہے کہ گزشتہ سڑسٹھ برسوں میں پاکستان میں جو حکمران بھی آیا، اس نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ہر آنیوالے حکمران نے ملکی خزانہ خالی ہونے کا رونا رویا۔ ہر حکمران نے ملک کو زیادہ خراب حالت میں آنیوالے حکمران کے سپرد کیا اورہر حکمران نے ریاستی نظام کے بخیے ادھیڑنے میںکوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔
پرویز مشرف کے دور حکومت کے آخری دنوں میں انکی ”مقبولیت“ کا یہ عالم تھا کہ کوئی بھی شخص چار بندوں کے سامنے مشرف کی حمایت میں ایک جملہ کہنے کی جسارت نہیں کرسکتا تھا،مبادہ کہ کوئی اسی وقت اس کی ”حجامت“ نہ بناڈالے۔یہی وجہ ہے کہ 2008ءکے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی برسرِ اقتدار آئی تو لوگوں کو حالات بہتر ہونے کی بڑی امید تھی، لیکن گزشتہ پانچ برسوں کے دوران قوم کی امید ہر روز ٹوٹتی رہی اور ہر روز مایوسی کا سایہ گھنا ہونا چلا گیا حتیٰ کہ آخری دنوں میںمہنگائی، کرپشن، لوڈشیڈنگ اور بری طرزِ حکومت کے ستائے عوام جھولیاں اٹھا اٹھاکر حکومت کو بددعائیں دینے اور علی الاعلان مشرف دور کو یاد کرنے لگے تھے۔حالات بہتر ہونے کی اسی طرح کی امید لوگوں نے رواں برس گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات کے بعد بھی لگائی تھی، لیکن اس بار بھی عوام کی امید پوری نہ ہوئی۔ اس کے برعکس موجودہ حکومت نے ابتدائی تین ماہ میں ہی جس بے رحمی کے ساتھ بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات اور اشیاءخورونوش کی قیمتوں میں اضافہ کیاہے، اس کے بعد تولوگ ابھی سے زرداری دور کو یاد کرنے لگے ہیں۔
قارئین کرام!قدرت جب کسی ملک اور قوم سے راضی ہوتی ہے تو اسے” یافوز“ عطا کرتی ہے اور جب کسی قوم سے ناراض ہوتی ہے تو اس پر” یافوز“ کا عکس مسلط کردیا جاتا ہے۔یافوز کا یہ عکس خزانہ بھرنے کی بجائے خزانہ کچھ کم کرتا ہے تو آنے والا حکمران خزانے کو اس سے بھی زیادہ خالی کرکے سیر پر سوا سیر ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔گزشتہ دس برسوں میں مشرف نے غریب کا حصہ دبایا تو زرداری نے غریب کی جیبیں ہی خالی کردیں اور اب موجود حکومت غریب کے تن کا لباس اور منہ کا نوالہ تک چھیننے پر تل گئے ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے حکمران ایک دوسرے کے ساتھ شرط لگاکر ہمارا ستیا ناس کررہے ہیں۔ بحیثیت قوم ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر ہم سے کیا گناہ سرزد ہوگیا ہے جو ہم نظر کرم سے محروم کردیے گئے ہیں اور ہم پر ”یافوز“ کا پرتو مسلط کردیا گیا ہے؟