ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

کالم نگار  |  ڈاکٹر تنویر حسین

تکلیف کیا ہوتی ہے؟ مشکل کیا ہوتی ہے، اذیت کیا ہوتی ہے، کرب کیا ہوتا ہے؟ مصیبت کس چیز کا نام ہے، آفت کا کیا مفہوم ہے؟ آفات ارضی اور آفاتِ سماوی سے کیا مراد ہے؟ فتنہ کیا ہے اور فساد کسے کہتے ہیں؟ ان الفاظ کے مشابہ اور مترادف الفاظ لغت میں دیکھتے چلے جائیے۔ آپ کو ہر لفظ میں پاکستان کی تصویر دکھائی دے گی۔ تازہ سانحہ پشاور میں ہوا ہے۔ ہمارا کون سا شہر ایسا ہے، جہاں سانحہ رونما نہیں ہوا؟ صرف لاہور میں ہونے والے سانحات کا تذکرہ کیا جائے تو سانحہ داتا دربار، سانحہ مون مارکیٹ، سانحہ آر اے بازار، سانحہ مال روڈ، سانحہ پرانی انارکلی اور دیگر سانحات لوگوں کے ذہن میں محفوظ ہیں۔
ہر سانحے کے بعد ملک سوگ کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ سرکاری تقریبات کی تنسیخ کا حکم جاری ہو جاتا ہے۔ سانحہ پشاور کے بعد سرکاری اور نیم سرکاری عمارات پر قومی پرچم سرنگوں رہا۔ مشنری سکول بند رکھنے کے اعلانات ہوئے، مذمتی قراردادیں لائی گئیں۔ مرنے والوں کے ورثا سے اظہار یکجہتی کے لئے گلدستوں کو بروئے کار لایا گیا۔ مرنے والوں کی یاد میں شمعیں فروزاں کی گئیں۔ روایتی انداز میں مجرموں کا تعاقب کرنے اور انہیں نشان عبرت بنانے کا عندیہ دیا گیا۔ ہماری عبادت گاہوں میں ان گنت دھماکے ہو چکے ہیں۔ ہمارے فوجی علاقوں پر حملے ہو چکے ہیں۔ ہمارے فوجی جرنیلوں، کرنیلوں اور جوانوں کو نشانے پر رکھ کر شہید کیا گیا ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو شہید کیا گیا ہے، ہماری پولیس رینجر اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دشمنانِ پاکستان نے پاکستان کو سبق سکھانے اور کمزور کی قسم کھا رکھی ہے۔ ادھر ہم ہیں کہ مذمتوں، قراردادوں، دو چار منٹ کی خاموشیوں، خفیف سی اور خوفزدہ سی احتجاجی لب کشائیوں اور ڈرے ہوئے چوکیدار کی سی سیٹیوں کی قسم کھا رکھی ہے۔
 اس پاکیزہ چمن میں ہر سو ویرانی ہی ویرانی ہے۔ پودے سوکھے اور مرجھائے ہوئے، پھولوں کی بغیر شاخیں، پتیاں بکھری ہوئی اور روشیں اجاڑ اور سنسان۔ اس چمن کی مشاطگی کا فریضہ انجام دینے والا باغباں کہاں ہے؟ تھوڑی دیر کے لئے ہم سوچیں کہ جب مار کھانے اور انتہائی حدوں کی بزدلی دکھانے اور کوئی پائیدار حکمت عملی نہ بنانے کی خبریں ہمارے ازلی دشمن ہندوستان کے کانوں سے ٹکراتی ہیں تو کیا وہ خوشی سے بغلیں نہیں بجائے گا۔ اسے کیا ضرورت پڑی ہے، ہمارے ساتھ جنگ کرنے کی۔ اس کی جنگ تو ہمارے آنگن میں لڑی جا رہی ہے۔ ہم مصلحتوں کی پوٹلیاں کب تک اٹھاتے رہیںگے۔ کل ہمارے ایک دوست کہہ رہے تھے کہ ہم کسی ڈرون طیارے کو غلطی سے گرا کر امریکہ سے معذرت کر لیتے۔ ہمیں کوئی بڑا دشمن تھکا تھکا کر مارنا چاہتا ہے۔ اس بزدلی اور کمزوری کی بُکل سے ہم کب نکلیں گے۔
ایک دن چک شہزاد کے شہزاد حضرتِ مشرف فرما رہے تھے کہ اگر ہم امریکہ کے ڈرون گرائیں گے تو ان کی ائرفورس آ جائے گی تو ہم امریکہ کی ائرفورس کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔ ان سے کوئی کہے کہ جناب! ہمارے ڈرون یا لڑاکا طیارے ہندوستان یا اسرائیل پر حملہ کرکے چیک کر لیں کہ وہ جوابی کارروائی کرتے ہیں یا نہیں۔ وہ اپنا حق استعمال کریں گے۔ ہم یہ سکت اس لئے نہیں رکھتے کہ ہم نے امریکہ سے قرضے لے رکھے ہیں۔
 ایران امریکہ کا مقروض نہیں ہے، ایران کے صدر نے یو این او میں امریکہ پر انسانی حقوق کے حوالے سے تنقید کی ہے اور اپنے ایٹمی پروگرام (جو زیر تکمیل ہے) کو پرامن قرار دیا ہے۔ ایران اپنے زیر تکمیل ایٹمی پروگرام کے زور پر ڈٹ کر اور کھل کر بات کرتا ہے۔ ادھر ایٹم بنا کر گِھگی بندھی ہوئی ہے۔ اسرائیل نے ایرانی صدر کے بیان کو توہین آمیز کہا ہے۔ اسرائیل کبھی پاکستانی بیانات کا نوٹس نہیں لیتا۔ پنجابی مقولہ ہے۔ ”جنج نہیں چڑھیا پر جنج چڑھدیاں دیکھی وی نئیں“ ہمیں کسی بھی ملک کی مثال سامنے رکھنی چاہئے۔ چائنہ ہمارا دوست ہے، چائنہ ہمارا دوست ہے، کے جملے کو طوطے کی رٹ لگا کر دہراتے رہنے سے بہتر ہے کہ چائنہ کی مانند کوئی عمل کرکے دکھائیں۔ برطانیہ کی پولیس کس طرح کام کرتی ہے؟ جنوبی کوریا میں قانون پر عملدرآمد کیسے کرایا جاتا ہے۔ ہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ دہشت گردی کی جنگ ہماری ہے یا امریکہ کی؟ دہشت گرد گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم نے اس جنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا حکمتِ عملی بنائی ہے۔ اس ملک کی حالت کس نے سدھارنی سنبھالنی ہے۔ ہم نے تاحال دہشت گردی سے نکلنے کا آغاز بھی نہیں کیا۔