گیاری سیکٹر کے شہیدوں کی برسی پر پارلیمنٹ اور قوم کی بے حسی

گذشتہ برس ماہ اکتوبر کے اوائل میں دنیا کے بلند ترین یخ بستہ میدان جنگ کے گیاری سیکٹر میں بھارتی فوج کی گولہ باری اور تند ہَواﺅں کے طوفان کے دوران برفانی چوٹیوں سے گرنے والے تودوں سے پھسلتی ہوئی ہمالیہ کی چٹانوں کے سیلاب کی زد میں آ کر پاکستان آرمی کے 124 بہادر جوان بشمول شجاعت کے پیکر عہدیداران اور افسران نے دفاعِ وطن میں شہادت کا جام نوش کیا، انکے ساتھ 11 سویلین ایڈمنسٹریشن اور میدان جنگ میں نظم و نسق میں مختلف فرائض ادا کرنے والوں نے بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ایک ایسی بے مثال سنہری الفاظ میں تاریخ رقم کی اس پر قرآن حکیم کی یہ آیاتِ کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ دفاعِ وطن میں شہید ہونیوالے اپنے ربّ کے حضور جنت میں ایک ابدی زندگی کے حقدار بن جاتے ہیں انہیں مُردہ مت کہو کیونکہ عام انسان ربّ العزت کی حکمتوں اور رضائے الٰہی کے رازوں سے پوری آگاہی نہیں رکھتے۔ اس لمحہ جبکہ راقم یہ سطریں تحریر کر رہا ہے ٹی وی سکرین پر افواج پاکستان کے سپہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی گیاری کے شہیدوں کو سیاچن کی برفانی چوٹیوں پر اس برسی کی باوقار تقریب میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے شہیدوں کے خاندانوں کے سب افراد انکے بچوں والدین اور دیگر عزیز و اقارب کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ پوری قوم کو ان شہیدوں پر فخر ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام مشکلات اور دیگر مصائب و بحرانوں میں گرفتار پاکستان کے 20 کروڑ عوام حب الوطنی کے جذبات سے سرشار ہیں۔ پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ حضرت قائداعظم کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے کتنی گرانقدر اور تاریخ ساز بے مثال قربانیوں کے بعد ایک نظریاتی مملکتِ خداداد آزاد اور خود مختار ریاست کا قیام ممکن بنا دیا تھا۔ لیکن بھارت نے 14 اگست1947ءسے لیکر آج تک اس مملکتِ خداداد کو غیر مستحکم کرنے میں کبھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔
پاکستان کی شہِ رگ کشمیر پر جارحیت اور کشمیری عوام کے حقِ خوداریت سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود انکار بھارتی ریاستی غنڈہ گردی کی منہ بولتی مثال ہے۔ پاکستان کے خلاف بار بار جنگ مسلط کرنا اور 1971ءمیں پاکستان کا کھلم کھلا فوجی جارحیت کے ذریعے دولخت کرنا اکھنڈ بھارت کی راہ ہموار کرنے اور جنوبی ایشیا میں بالادستی کی منصوبہ بندی کا کھلا ثبوت ہے۔ اکتوبر1947ءمیں جب ریاست جموں و کشمیر کا غیر قانونی الحاق کرنے اور سرینگر ہوائی اڈا پر اپنی فوجیں اتارنے کی منصوبہ بندی کی تو گورنر جنرل پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان افواج کے ایکٹنگ کمانڈر انچیف جنرل ڈگلس گریسی کو ہدایت کی کہ پاکستان آرمی بھارت کی فوجی مداخلت کو لگام دے تو جنرل گریسی نے گورنر جنرل کے احکام کی نافرمانی کی اس وقت کے انگریز کمانڈر انچیف جنرل فریک مسروی انگلینڈ میں رخصت پر تھے اور دہلی میں دونوں کے ممالک کے سپریم کمانڈر جنرل کلاڈ آکن لیک نے بھی جنرل گریسی کا ساتھ دیتے ہوئے پاک آرمی کو گورنر جنرل جناح کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاک آرمی کو حرکت میں نہ لایا گیا، ایسے نامواقف حالات کے باوجود جب سے 1951ءمیں پاکستانی کمانڈر انچیف نے فرائض سنبھالے تو ہر مشکل موقع پر خواہ وہ سیلاب ہو زلزلہ کی تباہی ہو یا بھارت کی جارحیت ہو افواجِ پاکستان نے پاکستانی کی سرحدوں کی حفاظت میں بھارت کو دندان شکن جواب دیا۔ سقوطِ ڈھاکہ اور پاکستان کے دولخت ہونے کا سانحہ پاکستان کی اندرونی انتشار اور بیرونی سازشوں کا نتیجہ تھا جس کا آج تک کسی پاکستانی حکومت یا اعلیٰ عدلیہ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے سقوطِ ڈھاکہ کی ذمہ داری عائد کرنے کیلئے کوئی قومی کمشن کن وجوہات کی بنا پر آج تک وجود میں نہیں آیا اور نا ہی ہمارے آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ نے اس طرف توجہ دی ہے یہ موجود جمہوری حکومت بالخصوص پارلیمنٹ یہ اہم قومی فریضہ ادا کرے۔
راقم نے آج جہاں گیاری سیکٹر کے تمام 135 فوجی و سول شہیدوں کے جسدِ خاکی کی ہزاروں من برف کے نیچے دبے ہوئے مقدس اور قابل صد احترام پھولوں سے خوش تر اور تازہ سو فیصد کامیاب تلاش اور برآمدگی کا احساس کرتے ہوئے انکے خاندان والوں سے پھر ملاقات اور اپنے اپنے گاﺅں اور شہر میں تدفین کے بعد دائمی زندگی پانے کا احساس کرتے ہوئے پاک افواج اور اسکے عظیم سپہ سالار کو سلام پیش کرتا ہوں جس نے ناممکن کام کو اپنے صبر آزما عزم اور حوصلے کے ساتھ آخری شہید کے جسدِ خاکی کی امانت کو اس کے وارثوں کے حوالے کرنے کا ایک معجزہ برپا کر کے پاکستان آرمی کی فرض شناسی کی روایات میں چار چاند لگا دیئے ہیں اس موقع پر نہ صرف گیاری سیکٹر کے شہداءبلکہ سیاچن کی جنگ میں شہید ہونے والے تمام افراد کو قومی ہیرو قرار دیتے ہوئے پاکستانی قوم کو ان کیلئے مناسب ایوارڈ دینے کے علاوہ ان کیلئے ایک شانِ شایاں مستقل یادگار اسلام آباد کے علاوہ ہر صوبے بلکہ ہر ضلع میں تعمیر ہونی چاہیے۔