وزیرِ اعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب

کالم نگار  |  رابعہ رحمن

وزیرِ اعظم جناب میاں محمد نواز شریف نے 27 ستمبر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کیا۔ یہ خطاب کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل تھا۔ ملکی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں پاکستانی قوم بالخصوص اور بین الاقوامی کمیونٹی بالعموم اس خطاب کا منتظر تھی، چونکہ حکومت میں آنے کے بعد جناب میاں محمد نواز شریف کا کسی بھی بین الاقوامی فورم پر یہ پہلا خطاب تھا۔ لہذا عوام کی توجہ کا اس پر مرکوز ہونا ایک فطری امر تھا۔ اُمید یہی کی جا رہی تھی کہ جناب میاں محمد نواز شریف اس اہم ترین فورم سے خطاب کے دوران ملک کو درپیش خطرات کے تناظر میں دنیا کو پاکستان کے نقطہ نظر سے باور کرانے کیلئے ٹھوس اور مدلل تقریر کرینگے۔ عوامی خواہشات کے مطابق وزیرِاعظم نے دیے گئے مختصر وقت میں ایک جامع اور مدبرانہ خطاب کیا جس میں مجموعی صورتحال کا بھرپور احاطہ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری کو پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم کی طرف سے مسئلہ کشمیر کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اور کشمیری عوام کی خواہشات کیمطابق جلد او منصفانہ حل کا مطالبہ پاکستان کی عوام کی اُمنگوں کی ترجمانی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ہمارے حکمران مسئلہ کشمیر کو ہندوستان کی مخالفت کے خوف سے صحیح معنوں میں اُجاگر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم کی طرف سے اقوام متحدہ کو اپنی ذمہ داری اور اس مسئلے کی ناکامی کا احساس دلانا یقینا بہت جرا¾ت مندانہ اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔
اپنے خطاب کے دوران وزیرِ اعظم نے ڈرون حملوں کیخلاف بھی بھرپور آواز بلند کی، امریکہ سے انہیں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا، اُنہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ حملے نا صرف ہماری خود مختاری کی صریحاً خلاف ورزی ہیں بلکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں، یہ موقف پاکستانی عوام کے جذبات کی صحیح ترجمانی ہے۔ اسکے علاوہ انہوں نے دنیا کو اور بالخصوص پاکستان کو دہشت گردی اور اس سے ہونیوالے نقصانات کے بارے میں باور کرایا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںپاکستان کے بھرپور کردار اور بے مثال قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے دنیا سے ایک واضح منصفانہ اور غیر جانبدارانہ موقف اپنانے کا مطالبہ کیا اور یہ بھی کہا کہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں لہٰذا مسلمانوں کو مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر اس سے منسلک نہ کیا جائے۔ فلسطینی عوام کے ایک علیحدہ مملکت کے حق کی بھرپورحمایت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے بین الاقوامی برادری کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا بھرپور مطالبہ کیا جو کہ یقینا دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل کی آواز ہے۔ وزیرِ اعظم نے ایک ذمہ دار اور پر امن ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے پاکستان کی امن کیلئے خواہش کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کو اپنے بھرپور تعاون کی پیش کش کی اور ہندوستان سے برابری کی سطح پر پُر امن ہمسائیگی کے تعلقات پر ور دیا۔ افغانستان کے بارے میں پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے اپنی طرف سے مکمل حمایت او رتعاون کی پیش کش کی جس کا بنیادی نقطہ ایک پر امن،مضبوط،خود مختار اور متحد افغانستان ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران دنیا کو بین الاقوامی امن کیلئے پاکستان کی بھرپور کوششوں اور قربانیوں کا ذکر بھی کیا۔ موجودہ حالات کے تناظر میں وزیرِ اعظم کی یہ تقریر ہر لحاظ سے جامع اور پُر بصیرت خطاب کہا جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے عوامی خواہشات اور توقعات کے مطابق دنیا کے سامنے پاکستان کا نقطہ نظر واضح کیا۔ اس طرح کے بین الاقوامی فورم پر بات کرتے ہوئے سفارتی آداب کو ملحوظِ خاطر رکھنا ایک لازمی امر ہوتا ہے جس کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے خیالات کا موثر اظہار کرنا یقینا قابلِ تحسین ہے۔ پاکستانی وزیرِ اعظم کے خطاب کے اگلے روز بھارتی وزیر اعظم نے جنرل اسمبلی سے خطاب کیا اور پاکستان دشمنی کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری کے سامنے اپنی ذہنیت کے عین مطابق پاکستان پر دہشت گردی کو فروغ دینے والے سنگین ترین الزامات عائد کرنے کیساتھ ہی ساتھ کشمیر کو اپنا مسئلہ، اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے بر عکس کسی بھی قسم کے حل کو ناقابلِ عمل قرار دیا۔ اُن کا یہ موقف ہمارے لیے کوئی نئی بات نہ تھی مگر امن کی آشا کا پرچار کرنیوالوں کیلئے یقینا نوشتہ دیوار ہونا چاہیے۔ ہم چاہے کچھ بھی کر لیں ہندوستان ہماری دشمنی میں کبھی کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھے گا۔
وزیرِ اعظم پاکستان کی طرف سے امن اور بامقصد مذاکرات کے پیش کش کے جواب میں بھارتی وزیرِ اعظم کا خطاب یقینا مسلمانوں کے لے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ وزیرِ اعظم نواز شریف کا جرنل اسمبلی سے خطاب یقینا پاکستانی قوم کے خیالات کی صحیح ترجمانی ہے۔ جسے معاشرے کے ہر طبقے کو سراہنا چاہیے تا کہ تنقید برائے تنقید کی بنیاد پر زیر بحث لایا جائے گا۔