ناشتہ کے بغیر ملاقات....کشمیر کے بغیر امن؟؟

کالم نگار  |  مسرت قیوم

فوج۔آئی اےس آئی کی نواز شرےف کی بھارت سے مذاکرات کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے بلا جواز، جھوٹے الزامات کی شر انگےز صورتحال مےں پاکستان ۔بھارتی وزراءاعظم کی” ناشتے کے بغےر “بالا آخر ملاقات ہو گئی۔ ۔
 کسی بھی بڑے ”برےک تھرو“ کی نفی کرتی ہوئی ےہ ملاقات فوری نتائج کے اعتبار سے اےک لا حاصل عمل ثابت ہوئی۔۔
اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے سربراہان کے مابےن ملاقات برصغےر کے بٹوارے کے بعد سے اےک رسمی کاروائی چلی آرہی ہے۔۔ےہ اس لئے انوکھی ۔منفرد نہےں کہلا سکتی کےونکہ اس موقع پر دُنےا بھر کے سربراہان اکٹھے ہوتے اور باہم ملاقات کرتے ہےں۔۔ بھارتی نقاب کو دُنےاکے سامنے اُتارنا اب بہت ضروری ہو گےا ہے۔
”صدر اوبامہ“ سے ملاقات کے دوران ”من موہن سنگھ“ کا پاکستان کو اےک مرتبہ پھر سے دہشت گردی کا مرکز قرار دےنا نہاےت افسوسناک ہے۔۔ عالمی امن کے قےام مےں پاکستانی سو ل و فوجی تعاون ۔کردار کسی سے بھی ڈھکا چُھپا نہےں۔
حالےہ ملاقات مےں کشمےر اور سرکرےک “ پر بات چےت کا کوئی بھی ٹھوس نتےجہ برآمد ہونے کی توقع کو ہم صرف بچگانہ سوچ سے تعبےر کر سکتے ہےں۔۔ اِ س ملاقات کو ”اےک نئے آغاز“ سے تعبےر کرنے والی ”عالمی برادری اور مےڈےا“ کو ےہ نہےں بھولنا چاہےے کہ ”انڈےن ملاقاتی“ (من موہن سنگھ) کی مدت اگلے سال ختم ہو رہی ہے اور اگلے چناﺅ کی مہم شروع ہو چکی ہے اور انتخابی مہم مےں پاک بھارت تنازعات کو ہوا دےنا اور ہر معاملے مےں پاکستان کو رگڑنا۔ ۔ہر واردات کو پاکستان کے سر تھوپنا۔۔ ہمےشہ سے ہی ”انڈےن سےاست“ کا وطےرہ اور خاص ۔ پسندےدہ موضوع رہا ہے۔۔
ہاں البتہ اِس ملاقات کو ”امن کی جانب سفر کے آغاز سے ضرور معنون کےا جا سکتا ہے۔۔ملاقات بات چےت کو جاری رکھنے مےں کس حد تک ممدو معاون ثابت ہوتی ہے۔اِ س پر البتہ کچھ اچھی توقعات باندھنے کی کوشش عملی صورت اختےار نہےں کر پائے گی کےونکہ کشمےر اےک کور اےشو ہے۔۔ ہر دو ممالک کے درمےان آئےندہ کے تعلقات کی نرمی ،گرمی ۔نوعےت کا انحصار بنےادی تنازعہ کے دےرپا حل سے ہی ممکن ہے۔۔ مگر قارئےن لکھ لےں۔۔
”مسئلہ کشمےر“ کبھی بھی حل نہےں ہو پائے گا کےونکہ اِس مسئلہ سے آرپار کی کشمےری قےادت کے مفادات جُڑے ہوئے ہےں مزےد براں اور بھی بہت ساری وجوہات اس کے حل مےں رُکاوٹ ہےں(اس موضوع پر مزےد بات پھر کبھی سی) اس بات کا احساس بھارت کے ساتھ تعلقات کی نئی ابتداءکرنے کے لےے کوشاں ”وزےراعظم نواز شرےف “ کو بھی ہے۔۔ نواز شرےف کی ملاقات مےں زےادہ گرمجوشی ہماری قےادت کی خلوص نےت کو ظاہر کرتی ہے ۔
 مگر قارئےن ےہاں انڈےا بُھول جاتا ہے کہ اِس خطہ مےں دہشت گردی کی پہلی اےنٹ کشمےرےوں کے حقِ آزادی کو سلب کر کے بھارت نے ہی رکھی تھی۔۔ پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دےنے والا بُھول رہا ہے کہ خطہ مےں اِس ناسور کا بانی خود ”انڈےا“ ہے۔۔ حق خودارادےت کے لےے سر گرم آزادی کے خواہاں لوگوں کو بزور قوت کچلنے والا”انڈےا“ خود نہتے کشمےرےوں ۔۔معصوم بچوں اور خواتےن کے ساتھ کےا سلوک روا رکھے ہوئے ہے ذرا ”انڈےن مےڈےا“ کو اِس پہلو کی طرف بھی ضرور دھےان دےنا چاہےے۔
وزراءاعظم کی ملاقات سے اےک دن پہلے انڈےا مےں دہشت گردی کے نام نہاد ڈرامے پر آسمان کو سر پر اُٹھا لےنے والا ’ ’مےڈےا “ پاکستان مےں پے در پے ہونے والے انسانےت سوز واقعات مےں اپنی شمولےت پر کےوں چُپ ۔ خائف ہے؟؟ کےا وجہ ہے کہ ہماری قےادت بھی غےر ملکی مداخلت کا ڈھنڈورہ پیٹنے کے باوجود ابھی تک ”طاقتور عالمی مراکز“ کے سامنے ٹھوس شواہد پےش نہےں کر رہی آگے بڑھنے کی خواہش مےں ساز گار ماحول نہ ہونے کی شکاےت ، شکوہ کرنے والوں کے لےے وزےر داخلہ ”چوہدری نثار“ کا بےان نہاےت دلچسپی اور پسندےدگی سے دےکھا گےا کہ بھارتی وزےر خارجہ ”کشمےر“ مےں ”انڈےن فوج“ کی کرتوتوں پر توجہ دےں۔
 لائن آف کنٹرول پر انڈےن اشتعال انگےزی اور اپنے ووٹرز کو آگ لگاتے ”نرےندر مووی“ (بلا شک و شبہ اگلا وزےر اعظم) کے سفارتی آداب کے منافی اور غےر ضروری نفرت پےدا کرنے والے الفاظ کےا ”ساز گار فضا“ پےدا کر سکتے ہےں؟؟ اورکےا ملاقات کے دن ” کھوئی رٹہ سےکٹر“ پر انڈےن گولہ باری بھی ”ساز گار فضا“ کی ضمانت ہو سکتی ہے؟؟
 انڈ©ےا جان لے کہ محبت سے دُنےا فتح ہوتی ہے اور جنگوں سے برباد ۔۔اپنی آبادی کے اےک بڑے حصے کو فلاکت زدہ رکھنے والا ملک ہمےں دھمکےوں اور دباﺅ سے زےر دام لانے کی روش کو ترک کر دے تو زےادہ بہتر فضا پےدا ہو سکتی ہے۔۔ ہم گےڈربھبکےوں سے ڈرنے والے نہےں۔۔ پاکستان اےک خود مختار ملک اور خود دار قوم کی سرزمےن ہے۔۔ امن کی کھڑکی بنےادی مسئلہ کو حل کےے بغےر نہےں کُھلنے والی اس کے ساتھ ےہ اور بھی ضروری ہو رہا ہے کہ اب ”انڈےا“ کو بٹوارے کے زخم بھلا دےنے چاہےں۔۔ وہ جب تک پاکستان کو اےک آزاد مملکت کے طور پر تسلےم نہےں کرتا تب تک ہم ےونہی ناشتے کے بغےر صرف مُصافحہ والی ملاقات کرتے رہےں گے اور وہ بھی مصنوعی ۔۔جبراً سجائی گئی مُسکراہٹ کے ساتھ۔۔ ہر دو اطراف کی قےادت کو اِس بے معنی جنگ کے تکلےف دہ عہد سے نگلنے کے لےے کو ر اےشو کوحل کرنےکی واقعتا کو شےش برﺅے عمل لانا ہونگی۔۔
پاکستان زندہ باد