طیب رزقوں والے تھے

کالم نگار  |  نذیر احمد غازی

زندگی کا سفر بہت ہی کٹھن،دلچسپ اور صبر آزما ہے اس سفر میں دھوپ چھاﺅں گہرے کڑکتے بادل، دل دہلا دینے والے طوفان اور خنک چاندنی کی دل افزا حکایات بھی ہیں اور اپنے پروردگار کے شکرانے کے ساتھ ساتھ بے جا شکایات بھی ہیں۔ زندگی کا حسن بڑوںکے سایوں اور بھائیوں کے حوصلوںسے اور زیادہ بڑھ جاتا ہے لیکن یہ احساس حسن تب ماند پڑ جاتا ہے جب سایے ڈھلنے لگ جائیں اور بزرگوں کی باتیں روایات ہی بن کر یاد آئیں۔اکتوبر کا مہینہ میری زندگی کی کہانی میں ایک نیا باب رقم کرتا ہے یہ نیا باب فطرت کے تقاضوں کی تکمیل کا وہ مرحلہ ہے جب میرے والد بزرگوار حافظ میاں جی ؒ( راجدین) اپنی حیات مستعار کے آخری سانس لیکر جادہ برزخ کی جانب گامزن ہوئے تو مجھے اپنی تنہائی کا احساس ہونے لگا۔
 بلند روح وجود ایک گھنا چھتنا درخت ہوتے ہیں۔ وہ اپنی عمر کے سورج کے ڈھلتے کے بعد بھی اپنی شفقتوں کے سایوں کو حسین یادوں میں منتقل کر دیتے ہیں۔ ان کا سایہ ان کا کردار ہوتا ہے ان کا سایہ ان معنوی ورثہ ہوتی ہے جو ان کے فیضان نور کا مرفع چراغ معاشرہ ہوتے ہیں اور وجود سادہ میں تڑپتے قلوب کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ اثاثہ قوم ہوتے ہیں اور سرمایہ¿ انسانیت ہوتے ہیں اور یہ انسانیت پرور افراد بلند مناصب پر پہنچ کربھی عاجزی اور ذہانت کا پیکر بنے رہتے ہیں ان کا دل قوم کے مفادات کی خاطر دھڑکتا ہے اور انکی سوچ پر اپنی وطنیت کی فلاح کا جنون سوار رہتا ہے، اور یہ بلند کردار رہبرانِ نسل نو جب یاد آتے ہیں تو حوصلوں کو توانائی نصیب ہوتی ہے۔ چند روز قبل اسلام آباد جانا ہوا تو FBR کے چیئر مین جناب طارق باجوہ سے ملاقات کا مبارک موقع بھی میسر آیا ۔امانت و دیانت اور اخلاص کا یہ پیکر فلاح وطن کا استعارہ ہے باجوہ صاحب سے ملاقات ایک طویل عرصے کے بعد ہورہی تھی۔باجوہ صاحب جس گرمجوشی اور تپاک سے ملے اور جس اندازِ الفت سے معانقہ کیا تو یہ احساس بڑھتا چلا گیا کہ بڑے لوگ بڑے مناصب پر فائز ہوکر اور بلند اور وسیع الفطرت ہوجاتے ہیں وہ اپنے ماضی اور حال کو یکسانیت کی ڈور میں باندھ کر رکھتے ہیں۔باجوہ صاحب سے ملاقات کے بعد آسودہ ماضی کی یادیں حال کے ماحول کو شیریں تر بنا رہی تھیں باجوہ صاحب نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے ایک افسر سے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ غازی صاحب سے میرے پُر خلوص تعلق کی دو نسبتیں ہیں ایک یہ کہ غازی صاحب کے والد گرامی حضرت میاں جی ؒمیرے استاد گرامی تھے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ میرے بڑے بھائی آصف باجوہ کے ہم جماعت ہیں طارق باجوہ،راشد باجوہ اور آصف باجوہ تینوں بھائی ہیں۔ان کے والد گرامی جناب اسلم باجوہ مرحوم بھلے وقتوں میں DIG پولیس تھے اور نہایت متوازن و متواضع شخصیت تھے۔اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں نہایت مستعد اور مخلص تھے۔پیشہ ورانہ قباحتوں سے دور اپنے من کی دنیا کے بادشاہ تھے۔بالکل غیر معمولی معمولات کے پابند تھے۔ صبح بہت جلد بیدار ہوتے اور حضور داتا گنج بخش ؒ کے مزارقدس پر حاضری دیتے۔ نماز تہجد ادا کرتے اور پھر فجر کی نماز سے فراغت کے بعد گھر لوٹتے تھے۔رزق حلال پر بہت زور تھا۔اولاد کو دین آشنا کیا اور دنیا میں قابل رشک شخصیات بنا کر اہل دنیا کو ایک راہ روشن سجھائی۔ تینوں بیٹے طارق باجوہ،آصف باجوہ اور راشد باجوہ وفاقی سیکرٹری کے منصب تک پہنچے۔یہ بزرگوں کی تربیت اور دعاﺅں کا ثمرہ ہوتا ہے اور اس سے بڑھ کر نعمت یہ ہوئی ہے کہ لوگ اپنے بزرگوں کی تربیت اور دعاﺅں کویاد رکھیں۔ طارق باجوہ بڑے سادہ لہجے میں شکر گزار انداز سے گویا ہوئے کہ ہماری زندگی کے حسن و کمال میں ہمارے استاد جی حضرت میاں جی اور ہمارے والد گرامی کی دعاﺅں اور تربیت کا بہت دخل ہے۔
افسر شاہی کے تکبر اور شاہانہ نخوت سے کوسوں دور طارق باجوہ جس نرم اور سادہ انداز میں گفتگو کر رہے تھے مجھے احساس ہورہا تھا کہ اس شخص کے خمیر اور ضمیر میں انسانیت کی قوت اسے بڑا آدمی بنائے ہوئے ہے۔ پچاس سال پہلے کی وہ سادگی اور اخلاص بھری شخصیت نکھر کر ایک مثال تازہ بن گئی ہے۔ ان لوگوں کیلئے جو بلند مناصب پر فائز ہوکر انسانوں کو پہچاننے سے انکار کردیتے ہیں پھر ان کی منصبی دستار پر غرور، تکبر، خشونت اور مردم بیزاری کے کانٹے اس انداز سے اگنا شروع ہوجاتے ہیں کہ لوگ ان سے خوفزدہ ہونے لگتے ہیں اور یہ بد اخلاقی کے مریض اپنے آپ کو بڑا صاحب سمجھنے لگتے ہیں پھر خدا انکے مرض کو اور بڑھادیتا ہے یہ ایک متعدی افسر شاہی ہماری ہے لیکن جو لوگ اپنے بڑوں کی نصیحت ،تربیت اور دعاﺅں کو دوائے شفاسمجھ کر ساتھ رکھتے ہیں وہ انسان پرور اور رشک قوم ہوتے ہیں زندگی بھر ایسے کئی خوشگوار اور ناخوشگوار تجربات سے گزرنا ہوتا ہے۔خوشگوار تجربات میں ایک کا ذکر آپ بھی سن لیجئے۔
 ایک مرتبہ سپریم کورٹ کے جج جناب آصف سعید کھوسہ سے ملاقات کے دوران راقم نے پوچھا کہ کھوسہ صاحب آپ ایک سردار فیملی سے تعلق رکھتے ہیں لیکن آپکی طبیعت میں سادگی اور عاجزی کا عنصر بہت غالب ہے۔متانت اور نرم خوئی اس پر مستزاد ہے ۔عدالت میں بہت نرمی اور وسعت فکر کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں اور تلخ کلامی کا مظاہرہ تو کبھی دیکھا بھی نہیں۔ کھوسہ صاحب جواباً مسکراتے اور چمکتی آنکھوں کے ساتھ گویا ہوئے کہ بھئی یہ سارا فیض میرا والد گرامی کی نصیحت کا ہے۔جب میں جج بنا تو میرے والد گرامی جناب فیض محمد کھوسہ جو کہ خود فوجداری کے ایک ماہر وکیل ہے انہوں نے مجھے نصیحت کی کہ بیٹا اب تم جج بن گئے ہو تو خیال رکھنا کہ لوگ ہمیں گالی نہ دیں اور اس جملے کی وضاحت یہ ہے کہ آپ لوگوں سے توہین آمیز اور حقارت بھرا رویہ اختیار نہ کریں اور اگر ایسا رویہ اختیار کریں گے تو لوگ سمجھیں گے کہ یہ فرد بے تربیت ہے ،بد اخلاق ہے۔ بے شعور ہے اور اسکو اسکے بڑوں نے کچھ نہیں سکھایا۔تمہارے رویے کی خرابی کا تاثر تمہارے بزرگوں تک جائیگا۔
قارئین بہت حیران کن بات ہے کہ لوگ اعلیٰ مناصب پر فائز ہوکر اپنے ماتحتوں پر جبر کرنا اپنا سرکاری استحقاق سمجھتے ہیں حالانکہ ایک حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص اپنے عہدے کی بنا پر کسی سے سختی برتتا ہے تو قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکے گا۔ میرے والد گرامی حضرت میاں جی ؒ مجھے ہمیشہ نصیحت فرمائے کہ بیٹا کمزور لوگوں کو سہارا دینا اور اپنی بساط سے بڑھ کر کسی کمزور کی مدد کرنا ہی اصل نیکی کی بنیاد بنتی ہے۔اسی سے دعاﺅں میں اثر کی قوت آتی ہے اور اسی طرز زندگی سے انسانوں کے دلوں میں محبت کے شگوفے پھوٹتے ہیں۔ نیک عملی ایک بڑی نعمت ہے اسے کبھی نہ ترک کرناچاہئے۔
 گزشتہ دنوں ڈاکٹر فیض محمد کمبوہ نیو یارک سے تشریف لائے تو پرانی یادیں تازہ ہوئیں اور انہوں نے بہت ہی سادہ اور قابل عمل باتوں کا تذکرہ کیا۔ بتانے لگے کہ میں جب بھی کسی امتحان میں شریک ہوتا تو میاں جی سے دعا کیلئے عرض کرتا تو وہ ہمیشہ جواب میں فرماتے کہ تم اعلیٰ نمبروں سے پاس ہوجاﺅ گے اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا،میاں جی دعا کیساتھ ساتھ تربیت بھی فرماتے اور نیک عمل پر ثابت قدم رہنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ نماز کبھی ترک نہ کروںگا۔ وعدے کے ساتھ دعا بھی فرماتے کہ اللہ تعالیٰ توفیق و استقامت عطافرمائے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ نماز کی پابندی چالیس سال سے جاری ہے۔ تربیت کرنیوالی شخصیت محض زبانی ارشاد نہیں فرمائی بلکہ وہ اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل میں ایک مکمل اور پائیدار نمونہ پیش کرتے ہیں۔میاں جی ؒ کے شاگرد اور فیض یافتہ افراد زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہیں اور انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار حیات بنائے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر معظم بیگ مرزا، ڈاکٹر ارشد اور معروف تاجر حاجی محمد صدیق کے علاوہ ائیر فورس کے ایک سابق افسر مرحوم ساجد علی کے علاوہ لا تعداد شاگرد اپنے استاد کی تربیت کا فیضان سمیٹے معاشرے میں نہایت شرافت، وقار اور تقویٰ کیساتھ انسانوں کی خدمت میں مصروف ہیں۔ وہ لوگ معاشرے کے ایک مقید فرد اسلئے ہیں کہ انہوں نے متقی اور صالحین کی صحبت میںرہ کر اپنے ظاہر اور باطن کو سنوارا ہے۔پاکیزہ جذبات کے حامل یہ لوگ رزق حلال کو اپنی زندگی میں بہت اہمیت دیتے تھے ۔ معروف شاعر مجید امجد نے کیا خواب کہا ہے کہ ....
 جن کے دم سے دنیا میں ہے یہ سرسبز ہمیشگیاں
 صادق جذبوں، طیب رزقوں والے تھے