قائداعظم کتاب میلہ

کالم نگار  |  آغا امیر حسین
قائداعظم کتاب میلہ

قائداعظم لائبریری نے دوسرے کتاب میلے کے سلسلے میں ایک اعلیٰ روایت قائم کرتے ہوئے لاہور کے معروف ناشرین کی ایک میٹنگ بلائی، اس میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ کتاب میلہ کا نام بابائے قوم کے نام پر ’’قائداعظم کتاب میلہ‘‘ رکھا جائے، شرکت کرنیوالے اداروں سے دس ہزار روپے سے زائد وصول نہ کئے جائیں۔ اختتام میلہ پر کتابی دنیا کے مسائل پر حکومت کی توجہ دلائی جائے اور ایک خوبصورت شیلڈ کے ذریعہ شرکاء کی تحسین کی جائے۔ طے شدہ پروگرام کیمطابق 15 تا 17 مئی 2015ء قائداعظم لائبریری کے سامنے باغ کے اندر ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک مال روڈ کی جانب ایک خوبصورت کتاب میلہ منعقد ہوا جس کا افتتاح جناب عطاء الحق قاسمی نے فرمایا۔ مہمانِ خصوصی اوریا مقبول جان اور انتظار حسین تھے۔ شدید گرمی اور حبس کے اس موسم میں DG لائبریریز جناب ڈاکٹر ظہیر بابر کے جلّو میں ایک جم غفیر کیساتھ مہمانوں نے تمام 72 سٹالوں کے مالکان اور منتظمین سے ملاقات کی اور کتابوں کا جائزہ لیا، آخر میں بچیوں نے قومی ترانہ سنایا، غبارے چھوڑے گئے اور کتاب سے محبت کا بھرپور اظہار کیا گیا۔ اگلے روز ہفتہ 16 مئی پنجاب سے قریباً 100 لائبریرین حضرات اس میلے میں شرکت کیلئے تشریف لائے جہاں انکی تربیت کیلئے خصوصی لیکچرز کا اہتمام بھی کیا گیا تھا، یہ سیمینار کئی گھنٹے جاری رہا۔ اختتام پر لائبریرین حضرات میں اسناد تقسیم کی گئیں اور انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی لائبریریوں کیلئے خصوصی ڈسکائونٹ پر اس میلے میں سے کتابیں خریدیں۔ گرمی اپنے عروج پر تھی، گرم ماحول میں ٹھنڈے مشروبات وغیرہ کا اہتمام ہونے کے باوجود لائبریرین نے کسی خاص دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ اتوار 17 مئی آخری روز بھی موسم گرم ہی رہا۔ شرکت کرنیوالے اداروں کو یہ شکایت رہی کہ انہیں خاطر خواہ پذیرائی نہ مل سکی حالانکہ اس میلے میں کتابوں پر 50% تک ڈسکائونٹ پیش کیا جا رہا تھا۔ اتوار کی شام اختتامی تقریب ہوئی جس میں پبلشرز، بک سیلرز کی طرف سے آغا امیر حسین چیئرمین انتظامی کمیٹی نے خطاب کیا۔ کتابی کاروبار کی صورت حال پر تفصیل سے گفتگو کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ دوسرے تمام سرکاری ادارے جو گرانٹ پر چل رہے ہیں انکے چارٹر پر نظرثانی کی جائے، کتاب کے کاروبار کو ٹیکس فری کیا جائے، یہ سہولت ان تمام اداروں کو جو سرکاری گرانٹ پر چل رہے ہیں پہلے ہی حاصل ہے۔ غافر شہزاد، رانا صاحب اور سعد اللہ شاہ کے بعد جناب اوریا مقبول جان نے کتاب کے حوالے سے بڑی پُرمغز تقریر فرمائی جس کو توجہ سے سنا گیا۔ یہ کتاب میلہ (1) قائداعظم لائبریری (2) پنجاب پبلک لائبریری (3) گورنمنٹ ماڈل ٹائون لائبریری (4) پنجاب لائبریری فائونڈیشن اور ڈائریکٹر پبلک لائبریری پنجاب اور معروف ناشرین کتب کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ موسم کی شدّت کا احساس کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ تیسرا قائداعظم کتاب میلہ اسی سال اکتوبر 2015ء میں منعقد کیا جائیگا۔ امید رکھنی چاہیے کہ قائداعظم کتاب میلہ کتابوں سے پاکستانیوں کا رابطہ جوڑنے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔