شوق یا عوامی خدمت

کالم نگار  |  ڈاکٹر تنویر حسین
شوق یا عوامی خدمت

کل ایک شخص نے اخبار پکڑتے ہی ایک خبر بلند آواز میں پڑھنا شروع کر دی۔ خبر لاہور شہر کے وسط سے گزرنے والی نہر میں نہانے والوں کے رش اور اس پر پابندی نہ لگنے کے متعلق تھی۔ کسی زمانے میں لاہور شہرکے سینمائوں میں کسی ایک گانے‘ کسی ایک بڑھک‘ کسی ایک مکالمے یا کسی ایک غیر شرعی سین کی خاطر زندہ دلان لاہور ٹوٹ پڑتے تھے۔ اس دور میں ہٹ ہونیوالی فلموں کیلئے کھڑکی اور دروازہ توڑ اصطلاحیں زبان زدعام و خاص تھیں۔ اس دور میں کچھ لوگ مئی جون کی گرمی سے بچنے کیلئے ایئرکنڈیشنڈ سینمائوں میں پناہ لیتے تھے۔ سامع شخص نے ابھی خبر مکمل طورپر بھی نہیں سُنی تھی کہ کہنے لگا ’’دیکھو جی! لڑکے‘ بالے‘ مرد تو درکنار‘ عورتیں اپنے ایک ایک دو دو سال کے بچے اپنے پائوں پر رکھ کر انہیں نہر میں ڈبکیاں دے رہی ہوتی ہیں۔ یہ عورتیں اتنا رسک لیتی ہیں کہ انہیں ریسکیو 1122 والے بھی نہیں بچا سکتے۔ خبر سنانے والے نے کہا اگر ہمارے ملک میں لوڈشیڈنگ نہ ہوتی اور اس ملک کے کھیون ہارے بلکہ کھیون جیتے اسی نہر‘ میں چھوٹی چھوٹی ٹربائنیں لگا کر آس پاس کے مکینوں کیلئے بجلی پیدا کر لیتے تو آج یہ غریب غرباء اور ان کی آل اولاد اس نہر میں نہ نہا رہے ہوتے۔ کراچی اور موت کا مدتِ مدید سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یوسفی صاحب نے کہا تھا ’’کراچی میں مردوں کو گنا کرتے ہیں بولا نہیں کرتے۔‘‘ اب تو پورے ملک میں لاشیں گننے‘ انہیں دفنانے( اگر سالم مل جائیں) اور انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے مجرموں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے جیسے بلندوبانگ عزائم کا چلن عام ہے۔ کراچی میں ہر سال شہری سمندری لہروں پر رقص کرتے ہوئے اپنی جانیں ہار جاتے ہیں اور انتظامیہ ان کا منہ دیکھتی رہ جاتی ہے۔ بعد میں یہ سکینڈل بھی سامنے آتے ہیں کہ شہری ڈیوٹی پر موجود حضرات کی مٹھی گرم کرکے خود کو ٹھیک ٹھاک ٹھنڈک پہنچانے سمندر میں کود جاتے ہیں۔ اگر کوئی گوالا دودھ لاتے ہوئے گرمی کے ہاتھوں مجبور ہوکرنہر میں نہانے لگے تو ہماری پولیس اسے دودھ میں پانی ملانے کے جرم میں دھر لے گی حالانکہ گوالے نے یہ نیک کام کسی ہینڈ پمپ کے ذریعے کیا ہوگا۔
ایک اور خبر چھپی ہے کہ گجرات کے ایک علاقے میں بااثر افراد نے محنت کش پر کتے چھوڑ دیئے۔ یہ تو خدا کا شکر ہے کہ ہمارے ملک کے بااثر لوگوں کے حاضر سٹاک میں ابھی کتے ہی ہیں۔ اگر انکے پاس ریچھ‘ شیر‘ ببر شیر اور چیتے وغیرہ ہوتے تو اپنے مزارعوں‘ مزدوروں‘ ملازموں اور غریب محنت کشوں پر انہیں چھوڑ دیتے۔ بااثر افراد کی اصطلاح کا مفہوم کچھ یوں ہو سکتا ہے کہ یہ وہ طبقہ ہے جس پر دولت‘ زمین اور اپنی طاقت کا اثر ہوا ہوتا ہے اس لئے ان افراد پر ملکی قوانین‘ ضابطے اور قاعدے وغیرہ اثر نہیں کرتے۔اخبار میں ایک اور خبر شائع ہوئی ہے کہ ہمارے ہاں 48 فیصد پاکستانی لڑکے اور لڑکیاں محض شوقیہ ڈاکٹر بنتے ہیں۔ عوامی خدمت کے جذبے سے لیس طلباء و طالبات کی تعداد 17 فیصد ہے۔آج اگر کسی نے شوقیہ بننے والے اور عوامی خدمت کے جذبے سے لیس ڈاکٹروں کی سروے رپورٹ تیار کی ہے تو کل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں جتنی سیاسی پارٹیاں اور سیاستدان ہیں‘ انکے بارے میں بھی یہ پورٹ شائع ہو سکتی ہے۔
اگر ہم مختلف ادوار میں بننے والی حکومتوں کا جائرہ لیں تو ہر حکومت نے اعلان کیا کہ وہ عوامی خدمت کے جذبے سے لیس ہے۔ ہر حکومت عوام سے وعدے بھی کرتی رہی اور وعدے بھی دل موہ لینے والے‘ جب حکومت ختم ہوئی تو نئی آنیوالی حکومت نے خزانہ دیکھا تو اس میں جھاڑو پھری نظر آئی۔ خبریں آنا شروع ہو گئیں کہ پچھلی حکومت نے ملک کا بچہ بچہ مقروض کردیا ہے۔ دوسری پارٹی برسراقتدار آئی تو اس نے کہا کہ عوامی خدمت کا جذبہ اس میں سب سیاسی پارٹیوں سے زیادہ ہے۔ لوگوں نے اس پارٹی کو ووٹ دیئے۔ اسے سر آنکھوں پر بٹھایا‘ اس کے نعرے لگائے‘ اسکے گیت‘ ٹپے اور ماہیے گائے‘ جب حکومت فارغ البال ہوئی یا فارغ البال کی گئی تو نہ ملک میں خوشحالی آئی‘ نہ بیروزگاری کا جن کسی بوتل بند ہو سکا‘ نہ تھانے کچہری کے صحن میں تبدیلی‘ ثقافت کی باد صبا چلی‘ ملک مزید مقروض ہو گیا۔ ہماری حکومتیں اپنے عوام کے دلوں میں امنگ اور تمنائوں کی جوت تو جگا دیتی ہیں‘ لیکن حکومت کے جانے کے بعد عوام کے چہرے غم اور افسردگی کے غماز نظر آتے ہیں۔ہم جنرل ضیاء الحق کے دور کو شوقیہ کہیں گے یا عوامی خدمت کے جذبے سے لیس۔ پھر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے پہلے دو دو ادوار‘ یہ دونوں پارٹیاں کہہ سکتی ہیں کہ انکے پانچ سال پورے نہ ہو سکے اس لئے انکے حکومت کرنے اور عوامی خدمت کرنے کا شوق بھی پورا نہ ہو سکا۔
حضرت مشرف کے دور کو کس کھاتے میں ڈالا جائے۔ شوق فضول یا سعی لاحاصل کے کھاتے میں۔ خدمت تو ایسی کی کہ ملک کے چیتھڑے اُڑ گئے۔ پھر حکومت ٹپکے کے آم کی ماند جناب زرداری صاحب کی جھولی میں گری‘ ہونٹوں پر تو عوام کی سچی محبت اور خدمت کے الفاظ ہی آتے تھے‘ لیکن حکومت کرنے اور پانچ سال مکمل کا شوق عوام کی خدمت پر غالب رہا اور عوام کے حصے میں اندھیرے آئے۔ اب قومی خدمت کے نئے سورج کو طلوع ہوئے دو سال کے اوپر کا عرصہ ہو چلا ہے۔ تاحال اس بات کا سراغ نہیں لگایا جا سکا کہ عوامی خدمت ہو رہی ہے کہ شوق پورا ہو رہا ہے۔ ہم تو اس حکومت کیلئے اس گمان میں رہتے ہیں کہ اس کے ہاتھوں عوامی خدمت کی تکمیل ہو۔
آج کل عطائیت کیخلاف ضرب عضب جیسا عزم اخبارات میں اشتہارات کی صورت میں شائع ہو رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ شہروں میں جتنے ڈاکے پڑ رہے ہیں اور جتنے قتل ہو رہے ہیں اگر یہ عزم انکے سدباب کیلئے ظاہر کیا جائے تو عوام کو ریلیف ملے گا۔ عوام اتنے بیروزگار اور غریب ہیں کہ وہ ایک آدھ کیپسول کھاکر بخار کی حالت میں کام پر چلے جاتے ہیں۔ آجکل لیکچرار کی آسامیوں کیلئے ہمارے دوست رائے منصب علی صاحب کے کیپسول دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔ عام آدمی انہیں طاقت کی دوا سمجھتا ہے۔ ہمارے عوام بڑے صابر شاکر ہیں۔ مشہور مصنف پروفیسر مقبول احمد ارمان صاحب کا یہ شعر سنئے …؎
ہزاروں خواب اجڑے ہیں مگر پلکیں نہیں بھیگیں
ہماری خشک آنکھوں نے یہ کیسا صبر پہنا ہے