دولت کے بہروپ

کالم نگار  |  محمود فریدی
دولت کے بہروپ

جنوں‘ پریوں کا افسانوی دیس کوہ قاف‘ معجزوں‘ جادوئی طلسماتی کھیلوں کا سٹیج!ْ جادوگر نمودار ہوتا ہے‘ ٹوپی میں سے چھپکلی نکالتا ہے جو آنا فاناً مگرمچھ بن کر سامنے آنیوالی ہر شئے کو ہڑپ کر لیتا ہے۔ سارے کا سارا سرکس معہ مداری سازندے دیکھتے ہی دیکھتے مگرمچھ کے پیٹ میں! آہ و بقا‘ واویلا‘ چیخ و پکار‘ پھر ایک سرکاری عامل رٹ بحال کرنے کے بہانے آتا ہے اور عصائے موسیٰ کی طرح اپنی چھڑی لہراتا ہے‘ مگرمچھ کا پیٹ دھماکے کیساتھ پھٹ جاتا ہے اور سب کچھ کھایا نگلا باہر نکل آتا ہے۔ سرکس سامعین ناظرین پورا تماشہ! انسان آنکھیں ملتا رہ جاتا ہے۔ کونسا منظر سچ ہے دکھنے والا یا پہلے والا۔ فریب گاہ میں ہر شئے ہر لحظ بدل جاتی ہے۔
روشنی کے زاویوں پر منحصر ہے زندگی
آپ کے بس میں یہاں تو آپ کا سایہ نہیں
بینک‘ مالیاتی ادارے‘کاروباری فرمیں‘ اشیائے ضروریہ‘ حتیٰ کہ ادویات سب کچھ جعلی‘ ڈاکٹر‘ انجینئر‘ وکیل‘ عالم‘ اسمبلی ممبر سب دو نمبر۔ افسر ‘ احکامات‘ فیصلے‘ مقابلے‘ خبریں‘ نام‘ کردار سب کچھ فرضی بے بنیادہے۔
ہمارے دوست ملا عارفی گرمی کی شدت میں پسینے سے شرابور تشریف لائے۔ شربت بادام کا گلاس تھام کر چکھنے کے بعد بولے یہ دو نمبر ہے۔ باداموں کی جگہ خربوزے کے مغزوں کی سردائی۔ معروف کولا کی بوتل پیش کی تو کہنے لگے۔ یہ بھی جعلی ہے ۔سادہ پانی لائو۔ ہم نے کہا مُلا صاحب دو نمبری کا زمانہ ہے‘ کراچی کی جعلی ڈگریوں والی فیکٹری نے عالمی میڈیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس فیکٹری کے مالک فرماتے ہیں ڈگری بھی شرٹ یا مشروب کی بوتل کی طرح ایک کموڈٹی ہے۔ ہم تو تھرڈ پارٹی کی طرح ادھر کا مال ادھرکرتے ہیں۔ مال بناتا کون ہے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں مگر جناب کمپیوٹر جو جعلی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے ڈیٹے سے بھرے پڑے ہیں‘ جواب ندارد! ایسے میں دو نمبر شربت بادام بھی گوارا ہے جو قوم دو نمبر کی عادی ہو جائے‘ مرچ‘ مصالحے‘ آٹے‘ روٹی تک ملاوٹ والی ہضم کر جائے وہاں بے چارے مشروب کی کیا اوقات۔امریکہ کے ایک میوزیم میں پکاسو کی ایک تصویر ایک سو اناسی ملین ڈالر میں بکی جبکہ زندہ اسامہ صرف پچیس ملین ڈالر میں بکا۔ اس سے پہلے ایمل کانسی بھی بہت ارزاں بکا تھا۔ اب تک نہ جانے کتنے ہیرو کس کس بھائو بک چکے ہیں۔ چوراں دے کپڑے ڈانگاں دے گز۔ بیچنے والے قلفیاں کھا کے نو دو گیارہ ہوگئے۔ کوئی امریکہ میں کوئی آسٹریلیا میں جا بسا مگر بکنے والے تاریخ کے صفوں پر چپک گئے۔ پکاسو مر گیا مگر اس کی تصویریں بک رہی ہیں۔ اسامہ‘ ایمل کانسی گئے مگر انکے نام زندہ ہیں۔ انکو بیچنے والے نابود و بے نام ہو گئے۔ بھٹو شہید زندہ ہے اور اس کا نام خوب بک رہا ہے۔ آجکل سابق صدر مصر مرسی بھی تاریخ کے اسی مرحلے میں ہے۔ یعنی جو زندہ نہ بن سکے وہ مر کر بہت مہنگا بکتا ہے۔ جب مقصد پیسے کا حصول ہے تو پھر مرنا کوئی ضروری نہیں۔ پھر اصلی کی جگہ نقلی بیچو۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ وطن عزیز کی ہر شئے کو جعلی اور دو نمبر قرار دینے والے ہمارے ایٹم بم کو نمبر ایک یعنی اصلی گردانتے ہیں بلکہ اسکے خوف سے ایسے ایسے قصے کہانیاں ایجاد کر رہے ہیں کہ تاثر یہ ابھرتا ہے کہ فراڈ اور دھوکے کے اکھاڑے کے معجزے اور کرشمے اصلی ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں کل تک جعلی ڈگریوں اور فرضی اداروں کا دھندا عروج پر تھا‘ اب جب ہمارا ہنر سر چڑھ کر بولا ہے تو چیخیں نکل گئی ہیں۔ نیویارک ٹائمز اور دیگر بڑے اخباروں کو ہوش آگیا ہے۔ ہمارے نوسرباز‘ مداری اور بچے جمہورے حرکت میں آئے ہیں تو انکے فن کاروں کی گھگھی بندھ گئی ہے۔ ہمارے فن کار کی ایک گدڑی نما زنبیل میں ڈگریوں کے علاوہ اسمبلی کی سند‘ جعلی کرنسی‘ ویزا‘ پاسپورٹ‘ لائسنس‘ معہ تمام منسلکہ تماشے موجود ہیں۔ ہمارے جھرلو کی ادنیٰ سی حرکت کن فیکون کا اثر رکھتی ہے۔ مکھی سے ڈائنوسار اور ڈائنو سار سے مکھی بن سکتی ہے۔ ہم منہ کی سٹی سے بلٹ ٹرین چلا سکتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ‘ صاف پانی‘ ہسپتال‘ مہنگائی‘ بڑے بڑے مسائل کا حل چند اشتہاروں جلسے اور نعروں سے ہو جاتا ہے۔ پل بھر میں منظر بدل جاتا ہے اور گزرے ہوئے کل کی طرح ہر نیا دن آنیوالے دنوں کی اوٹ میں دب جاتا ہے۔ ہم بھول جانے میں بھی تاک ہیں اور یاد رکھنے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ہم دونوں نمبر ہیں‘ ایک بھی دو بھی۔ ہمارا فلسفہ اور اعتقاد بھی‘ دونوں نمبر جب ہمیں کوئی دو نمبری کا طعنہ دینے کی غلطی کر بیٹھے تو پھر ہم غیرت میں آکر ایک نمبر بھی بن جاتے ہیں۔ ایگزیکٹ کے مالک شیخ شعیب نے اپنے انٹرویو میں یہی تاثر دینے کی کوشش کی ہے۔ شیخ موصوف کے نام دو شعر …؎
درد کا نام کر دیا تبدیل
چارہ گر دے گئے دوا کا فریب
جرم یہ تھا تو ہم بھی کر لیتے
پہلے کھلتا اگر سزا کا فریب
عالمی دھوکہ منڈی میں چٹی چمڑی کی جیب سے ڈالر نکلوانا کوئی آسان کام نہ تھا مگر ہائے یہ ڈالر شیخ شعیب کے اور ایان علی! ہائے ٖ!