حیرتوں کا سفر-اسلام آباد ٟراولپنڈی میٹرو بس

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر
 حیرتوں کا سفر-اسلام آباد ٟراولپنڈی میٹرو بس

مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کو خطہ پوٹھوہار کے متعلق یہ شکایت تھی کہ یہاں زمیں ہموار نہیں ہے اور موسموں کا اعتبار نہیں ہے -زمین کی ناہمواری اور موسموں کی بے اعتباری شاہی لشکر کی نقل و حمل میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی تھی -مگر حضرت سید شاہ عبدالطیف بری امام کو اس خطے میں ایک نیا شہر آباد ہوتا ہوا نظر آ رہا تھا جو مستقبل میں دنیا کی سیاست و قیادت میں اہم کر دار ادا کرنے والا تھا-قدرت اللہ شہاب جب ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر تھے تو انہیں حضرت بری امام کے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک ایسا مخطوط ملا تھا جس میں انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ ان کے آستانے کے قریب ایک شہر آباد ہو گا جو اقوام عالم میں غیر معمولی اہمیت حاصل کرے گا - جب یہ پیش گوئی کی گئی تو اس وقت راولپنڈی شہر آباد تھا اور موجودہ اسلام آباد کی جگہ پر ایک ویرانہ تھا جس میں سانپ پھنکاریں مارتے تھے اور جنگلی جانور اپنی وحشت کے اعلان کرتے نظر آتے تھے - پاکستان بنا تو کراچی کودارالحکومت بنایا گیا-متعدد وجوہات کی بنا پر نیا دارالحکومت بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی اور پھر خاصے غور و خوص کے بعد راولپنڈی کے ساتھ ایک نیا شہر آباد کرنے کا فیصلہ کیا گیا -قومی زندگی میں نشیب و فراز آتے ہیں -پاکستان بھی بہت سے سرد و گرم موسموں سے گزرا - وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بنانے کا اعلان کیا -اور یہ نواز شریف تھے جنہوں نے پاکستان میں موٹر وے بنائی -مارشل ملکون نے کہا تھا کہ ہر نئی چیز اپنے ساتھ ایک نیا کلچر لے کر آتی ہے -موٹر وے نے پاکستان میں مواصلات کے نظام میں ایک نیا کلچر متعارف کرایا -ا سکے بعد ملک بھر میں اعلی معیار کی سڑکوںکی تعمیر کو ایک ضرورت کا درجہ حاصل ہوتا گیا- اور اب جب چین کے ساتھ مل کر اقتصادی راہداری تعمیر کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز ہوچکا ہے تو یہ درحقیقت موٹر وے کلچر ہی کی توسیع ہے - پاکستان اکیسویں صدی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اپنی رفتار تیز کررہا ہے -اور اس رفتار کے لئے موٹر وے جیسے منصوبوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا -مارگلہ کی پہاڑیوں پر سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا -پنجاب ہائوس اسلام آباد میں ملک بھر سے آئے ہوئے سینئر صحافی اور اینکر پرسن موجودتھے -وہ کچھ دیر پہلے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کی قیادت میں میٹروبس سروس کا سفر کر کے آئے تھے -وہ میٹرو منصوبے کی تعریف کررہے تھے -بعض صحافی اپنے دوستوں کو بتا رہے تھے کہ اس منصوبے کا معیار امریکہ اور برطانیہ کے منصوبوں کے برابر تھا -وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کے لئے آئے تو وہ انتہائی خوشگوار موڈ میں تھے-کچھ دیر پہلے اسلام آباد ٟ راولپنڈی میٹرو بس سروس کے نظام کا معائنہ کر کے آئے تھے ان کے خیال کے مطابق 95فیصد کام مکمل ہوچکا تھا اور اب یہ منصوبہ جو ان دونوں جڑواں شہروں کے لئے تحفہ بن چکا تھا پوری دنیا کے لئے پاکستان کا ایک نیا تعارف بھی بننے جا رہاتھا-لاہور کا میٹرو بس سروس پاکستان میں ایک نیا تجربہ تھا مگر یہ کامیاب رہا -اس لئے وفاقی دارالحکومت نے خصوصی اختیارات کے ذریعہ پنجاب کی حکومت کو اس منصوبے کی تعمیر کا کام سونپا تھا اور اب میاں شہباز شریف صاحب خوش تھے کہ حق ادا ہو گیا -ویگنوں کے شور ٟ گرمی اور دھویں سے اکثر لوگوں کو سفر کے ساتھ جہنم کا چھوٹا موٹا تجربہ بھی ہو جاتا ہے -میٹرو بس سروس جڑواں شہروں میں سفر کے ایک نئے کلچر کو فروغ دے گی -میاں شہباز شریف بتا رہے تھے اس منصوبے سے ملنے والی لگژری سہولت سے پسماندہ اور محروم طبقات کے غصے کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی -عوام اور اشرافیہ کے درمیان پیدا ہونے والے احساس میں کمی ہوگی اور ان میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ عالی شان سہولتیں ان کے لئے بھی ہیں -اس سے احساس محرو می کے لاوا کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی - میٹرو منصوبے سے کلچر تبدیل ہو گا -میٹرو منصوبے سروس کے حوالے سے ایک دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ اسلام آباد والے کہتے ہیں کہ میٹرو بس سروس پاک سیکرٹریٹ سے شروع ہوتی ہے اور راولپنڈی صدر میں ختم ہوتی ہے جبکہ راولپنڈی والوں کا خیال ہے کہ میٹرو سروس ان کے ہاں سے شروع ہوتی اور اسلام آباد میں ختم ہوتی ہے -یہ کچھ ایسی ہی صورتحا ل ہے جس کا مشاہدہ رضی علی عابدی نے جرنیلی سڑک یاجی ٹی روڈ کے متعلق کیا تھا -پشاور والوں نے انہیں وہ جگہ دکھائی تھی جہاں سے جرنیلی سڑک شروع ہوتی ہے اور کلکتہ تک جاتی ہے -کلکتہ میں جا کر جب انہو ںنے وہ مقام تلاش کرنے کی کوشش کی جہاں سڑک ختم ہوتی ہے تو انہیں بتایا گیا کہ عابدی صاحب یہاں جرنیلی سڑک ختم نہیں ہوتی بلکہ شروع ہوتی ہے -آئیے اب میٹروبس کے امور پر فراخدلی سے ایک نظر ڈالتے ہیں -میٹرو بس کے اس منصوبے کا ٹریک 23-کلومیٹر ہے اور اس پر 24-سٹیشن ہیں -اس پر 44-84-ملین روپے لاگت آئی ہے جس میں 19-17-بلین روپے سے راولپنڈی میں منصوبہ مکمل ہوا ہے جبکہ 23-84-بلین روپے اسلام آباد میں خرچ ہوئے ہیں -اس میں پشاور موڑ کا انٹر چینج بھی شامل ہے -اس منصوبے کی مجموعی لاگت میں سے نصف رقم وفاق نے اور نصف رقم پنجاب حکومت نے ادا کی ہے - وزیر اعلی نے یہ خبر بھی سنائی کہ اب میٹرو بس سروس کا نیا منصوبہ ملتان میں شروع ہو رہا ہے -میاں نواز شریف پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کے منصوبوں سے تبدیل کررہے ہیں -اگر اقتصادی راہداری کے منصوبے مکمل ہوگئے ٟ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو گیا -توانائی کے نئے منصوبو ںنے فر فر سے بجلی بانٹنی شروع کر دی تو مستقبل کا پاکستان روشن ہو گا -