بھارت میں فکر اقبال کا رد و قبول

کالم نگار  |  ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی
بھارت میں فکر اقبال کا رد و قبول

تاریخ کے روزن روزن پر دستک دینے والوں کو معلوم ہے کہ 1905 ء میں تقسیم بنگال کے موقع پر اس خطے کی متعصب کانگریسی اور ہندو لیڈر شپ نے کیسے زہریلے مسلم کش روئیے کا اظہار کیا تھا۔ اس سے پہلے 1867ء میں جب بنارس کی مسلم دشمن ہندو کمیونٹی نے اردو زبان کے خلاف تحریک شروع کی تو تاریخ کا یہ دوراہا بھی اس خطہ کے نہتے مسلمانوں اور بالخصوص اردو سے پیار کرنیوالوں کو آج تک یاد ہے‘ جن میں سرسید احمد خان سرفہرست تھے۔ تاریخ کا یہی وہ مرحلہ ہے جب سرسید کے وہم و گمان میں کروٹ لینے والا ہندو مسلم اتحاد کا طلسم تڑک کر کے ٹوٹ گیا اور وہ اردو زبان کے تحفظ کی خاطر سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ پھر یہ سرسید احمد خان کے پیروکار ہی تھے‘ جنہوں نے بعدازاں تقسیم بنگال پر ہندوؤں کے متعصبانہ طرزعمل کو حتمی بنیاد بناتے ہوئے برصغیر میں جداگانہ مسلم تشخص کی بنیاد ڈالی تھی۔ تاریخ کے حقائق کو سچائی کی روشنائی سے لکھنے والوں کا یہی کہنا ہے کہ ہندوستان کی مسلم لیڈرشپ کو نظریاتی اور عملی طور پر ہندو مسلم اتحاد کی راہ سے ہٹانے اور اپنا لائحہ عمل الگ مرتب کرنے کی ذمہ دار صرف اور صرف مسلم کش متعصبانہ ہندو ذہنیت ہی تھی جس کا اظہار 1928 ء کی نہرو رپورٹ تک ہوتا رہا۔ سرسید احمد خان کی وضع کردہ نظریاتی راہوں پر چلنے والے قائداعظم محمد علی جناحؒ بھی اول اول ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے۔ اسی طرح علامہ اقبالؒ کے ابتدائی نظام فکر میں ہندو مسلم اتحاد کے نقوش ملتے ہیں۔ ترانہ ہندی اسی دور کی یادگار ہے۔ اس حوالے سے اقبالؒ کے ذہنی و فکری ارتقاء کا منظر نامہ ترانہ ہندی سے ترانہ ملی تک پھیلا ہوا ہے جس سے صرف نظر کرنا بجائے خود فکر اقبالؒ کو غیرمنطقی طور پر پیش کرنے کی جسارت ہے۔ تصورات اقبالؒ کے تناظر میں عمیق نگہی سے دیکھیں تو ان کا نظام فکر ترانہ ہندی کے ٹھہراؤ اور پھر ارتقاء کے بعد ترانہ ملی پر منتج ہوتا دکھائی دیتا ہے اور یہی فکر اقبال کا حقیقی اور نتیجہ خیز لب لباب ہے۔
بھارت میں علامہ اقبالؒ کے ترانہ ہندی ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘‘ کی پذیرائی بادی النظر میں ایک اچھا شگون سہی‘ لیکن اس گیت کو متحدہ ہندوستان کے بجائے موجودہ بھارت کے تناظر میں دیکھنا اور اقبالؒ کی کلی فکری جہت قرار دینا درست نہیں۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بیز جی نے گزشتہ دنوں شاعر مشرق کو بعد ازمرگ ترانہ ہند ایوارڈ سے نوازا اور یہ اعزاز اقبالؒ کے پوتے ولید اقبال نے وصول کیا۔ بلامبالغہ اسے اچھا اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم علامہ کے ترانہ ہندی کی پذیرائی کرنیوالوں کو انکے کلی افکار و تصورات کو بھی ذہن میں تازہ کرنا ہو گا اور وہ یہ کہ اقبالؒ نے اس کے بعد ترانہ ملی بھی لکھا تھا۔ اس ضمن میں فکر اقبالؒ سے نظریاتی اور عملی لگاؤ رکھنے والے مفکرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی سیاسی لیڈرشپ کو اقبال کے ردو قبول کا اپنا پیمانہ اختراع کرنے کے بجائے اقبالیات کو اسکے حقیقی پیغام کی صورت قبول کرنا چاہئے۔ علامہ کے پوتے ولید اقبال نے ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بجاطور پر گویا بھارتی حکمرانوں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ انہیں اقبال کو مصور پاکستان کے پیرائے میں قبول کئے بغیر چارہ کار نہیں ہے اس لئے کہ علامہ کی مفکرانہ اور حکیمانہ شخصیت اول و آخر پاکستان کا خواب دیکھنے والے مفکر کی ہے‘ ولید اقبال کے خطاب کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر بھارتی ارباب اقتدار اور عوام ترانہ ہندی میں موجود متحدہ ہندوستان کا جغرافیائی سراپا ذہن میں رکھیں تو بھی فکر اقبال کے تناظر میں پاکستان کا تصور جگمگ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس حوالے سے بھی اقبالؒ کا خواب یہ تھا کہ مستقبل کی دونوں ریاستیں اچھے‘ پرامن اور دوستانہ ماحول کی نقیب ہونگی۔ ولید اقبال نے اپنے خطاب میں یہ سوال اشاتاً اٹھایا کہ کیا ترانہ ہندی سے لگاؤ رکھنے والے اقبال کے اس خواب کو تعبیر کرنے کی خو رکھتے ہیں؟ دراصل ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘‘ کے پیرائے میں اقبال کا خواب یہ بھی تھا کہ اس خطہ زمین میں بسنے والے تمام مذاہب‘ عقائد اور نظریات کے لوگ امن و آشتی سے رہیں‘ تاکہ اس سرزمین سے انسانیت کی بقاء کے مقاصد پورے ہو سکیں۔ اسی لئے اقبال کو احیائے مقاصد انسانیہ کا شاعر اور مفکر کہا جاتا ہے جنہوں نے اپنے نظریاتی اور فکری ارتقاء کے نتیجے میں ترانہ ملی لکھ کر ساری انسانیت کیلئے فلاح کے حتمی نتائج اخذ کئے‘ جو اسلام کے حقیقی تصور انسانیت کے ہی مرہون منت ہیں۔ اقبال نے ترانہ ہندی سے بہت آگے نکل کر مسلمان کو مرد مومن اور انسان کو انسان کامل کے روپ میں قبول کیا۔ اقبالؒ نے جغرافیائی حدود و قیود کو ثانوی قرار دیتے ہوئے ایمان و ایقان اور روحانی و آفاقی رشتوں کو بنیادی قرار دیا تھا۔
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اسکا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
یہ بت کہ تراشیدہ تہذیب نوی ہے
غارت گر کاشانہ دین نبوی ہے
بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے
بے شک بھارت کے ارباب اقتدار اور متعصب ہندو لیڈرشپ اقبال کے ترانہ ہندی سے سیکولر نظریات کا عرق کشید کرے یا جغرافیائی حدود و قیود کو بنیادی قرار دیکر ’’قومیں اوطان سے بنتی ہیں‘‘ کا راگ الاپے۔ نظریہ پاکستان پھر بھی اپنی جگہ قائم و دائم رہے گا اور جنوبی ایشیاء میں مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کا ڈنکا بجتا رہے گا۔ ترانہ ہندی کو بنیاد بنا کر ’’سب سے اچھا ہندوستان ہمارا‘‘ کا جشن منانے والوں کو ترانہ ملی کا مطالعہ بھی کرنا ہوگا۔ فکر اقبال میں پاکستان کے جگمگ کرتے تصور کو منہا کر دینا کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ صدیوں کی دھول بھی پڑ جائے تو تصور پاکستان شاعر مشرق کے نظریات میں درخشاں و تاباں رہنے کی سکت رکھتا ہے۔ تاریخ کا فیصلہ اور مشیت ایزدی بھی یہی ہے۔بھارت میں فکر اقبالؒ کے ردو قبول کے ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بیز جی نے وہاں کی ایک یونیورسٹی میں اقبال چیئر قائم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے تین روزہ جشن اقبالؒ میں انہیں ’’پاسبان اردو‘‘ کا خطاب بھی دیا گیا۔ محترمہ وزیراعلیٰ نے اردو کو آئینی طور پر ریاست کی سرکاری زبان قرار دیا تھا۔ اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہر دور کے برے وقت میں مشرقی بنگال (اب بنگلہ دیش) کے مسلمانوں نے اردو زبان اور فکر اقبالؒ کا ساتھ دیا اور اسکے فروغ میں بھی حصہ لیا۔ اب مغربی بنگال میں فکر اقبالؒ کے رد و قبول کے تناظر میں اردو زبان کے فروغ کی تحریک بعض سنجیدہ حلقوں کے نزدیک ایک امر معترضہ بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہیں یہ بنگلہ دیش میں اردو زبان اور فکر اقبالؒ کی حقیقی اساس کو نقصان پہنچانے کا بھارتی ایجنڈا تو نہیں؟ اس جملہ معترضہ پر کچھ کہنا جنوبی ایشیاء کی لسانی اور نظریاتی اساس پر نظر رکھنے والے دانشوروں کا فرض اولین ہے۔