بلوچستان میں اقتصادی راہداری کی سیکورٹی

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
بلوچستان میں اقتصادی راہداری کی سیکورٹی

بلوچستان کو لے کر ہمارے ہاں جب بھی بات کی جاتی ہے تو گفتگو کا آغاز اور انجام اس پر ہوتا ہے کہ "ناراض بلوچوں کو منایا جائے اور انہیں سیاسی دھارے میں شامل کیا جائے"۔ یہ فلسفہ کتابی حد تک بہت دلکش ہے لیکن بلوچستان کی مخصوص صورتحال میں زیادہ کامیاب نہیں ہوا۔ مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ پاکستان کی تقریباً سب حکومتوں نے اپنی اپنی حیثیت کیمطابق "ناراض بلوچوں" کو راضی کرنے اور ملکی معیشت میں انہیں بہتر حصہ دینے کی کوششیں کیں مگر تھوڑی دور جاکر یہ سب ضائع ہو جاتا رہا۔ بلوچوں کو سیاسی معاملات میں اہم جگہ دینے کی ماضی میں ایک مثال میر ظفر اللہ خان جمالی کا پاکستان کا وزیراعظم بننا ہے۔ بلوچستان کے موجودہ وزیرا علی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بھی ایک تازہ عمدہ مثال ہیں۔ بلوچستان کے مقامی حقائق کیمطابق وہاں کے سردار ابھی تک ناقابل تسخیر طاقت ہیں۔ جو سردار پاکستانی نظریے کو قبول کریگا اُسکے باشندے پاکستان کو قبول کرینگے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غیرملکی طاقت پر پاکستان کو ترجیح دیتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ سردار کے پابند ہیں۔ بالکل اسی طرح جو سردار پاکستان کی بجائے کسی بیرونی طاقت کیساتھ رابطے میں ہوگا وہ اپنے باشندوں سے اُسی کیلئے کام لے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اُسکے باشندے پاکستان پر غیرملکی طاقت کو ترجیح دیتے ہیں بلکہ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ وہ سردار کے پابند ہیں۔ اسی فارمولے کو اگر سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو جن جن علاقوں میں پاکستان کے حامی سرداروں کا راج ہے وہاں پاکستان اہم ہے اور جو سردار کسی بیرونی طاقت کے ساتھ رابطے میں ہیں اُنکے علاقوں میں پاکستان اہم نہیں ہے۔ پاکستان کی وفاقی حکومت کی طرف سے بلوچستان کیلئے جو بھی منصوبہ آتا ہے وہ براہِ راست عام بلوچوں کے پاس پہنچنے کی بجائے انہی بلوچ سرداروں کے پاس پہنچتا ہے جو اپنے اپنے مفاد کے تحت اسے استعمال کرتے ہیں۔ یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ بلوچستان کو وفاقی سطح پر بہت کم نمائندگی دی جاتی ہے جسکے باعث فرسٹریشن ہے۔ یہ وہاں تو درست ہو سکتا ہے جہاں مسئلہ صرف سیاسی ہو۔ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی کم اور بیرونی مفادات کا زیادہ ہے اس لئے یہ بات محض ایک سیاسی محاورہ بن کر رہ گئی ہے۔ بلوچوں کو وفاقی سیاست اوروفاقی دفتروں میں پورا حصہ دے کر امن قائم کرنے کے سیاسی محاورے کو ایک فرضی مثال سے سمجھتے ہیں۔ فرض کرلیتے ہیں کہ بلوچستان کے سیاسی رہنمائوں کو پاکستان کے صدراور وزیراعظم بنا دیا جائے، تمام وفاقی کابینہ بلوچوں پر مشتمل ہو اور بیوروکریسی میں اہم عہدوں پر سب بلوچ لگا دیئے جائیں تو کیا کوئی گارنٹی دے سکتا ہے کہ بلوچستان پُرامن ہو جائیگا؟ اگر اس بات کی کوئی گارنٹی دے دے تو باقی پاکستانی بلوچستان میں امن کیلئے اسے بھی شاید قبول کرنے کو تیار ہونگے لیکن کوئی گارنٹی نہیں دے گا کیونکہ بات سیاسی نہیں ہے۔ بلوچستان میں متحارب طاقتیں وہاں امن نہیں بلکہ بدامنی چاہتی ہیں۔ یہ متحارب طاقتیں مقامی نہیں بلکہ غیرملکی ہیں۔ البتہ کچھ مقامی لوگوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ غیرملکی طاقتوں میں پہلا واضح نام بھارت کا ہے۔ بھارت بلوچستان میں بنگلہ دیش ماڈل دہرانا چاہتا ہے۔ یعنی مکتی باہنی کی طرح بلوچ آزادی کی تحریک کو ہوا دی جائے، اُسے سپانسر کیا جائے اور پھر فزیکل سپورٹ سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں بہت سے شواہد کو پاکستانی اداروں نے انٹرنیشنل رہنمائوں سے شیئر بھی کیا ہے۔ بھارت کے علاوہ بلوچستان پر کچھ اور غیرملکی طاقتیں بھی نظریں گاڑے بیٹھی ہیں۔ اُنکے مفادات میں یہاں چین کے اثرورسوخ کو کنٹرول کرنا اور بلوچستان کے معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ بھارت اور دوسری غیرملکی طاقتیں کچھ مقامی بلوچوں کو بلوچستان کے بے پناہ قیمتی معدنی وسائل کا لالچ دے کر گمراہ کر رہی ہیں۔ اگر تاریخی حقیقت دیکھی جائے تو بڑی طاقتیں کسی بھی کمزور علاقے سے نکلنے والے معدنی وسائل پر وہاں کے مقامی لوگوں کو اپنا حق جتلانے نہیں دیتیں۔ اسکی ایک مثال افریقی ممالک میں قیمتی ہیروں کی کانیں ہیں۔ ان ہیروں کو کالے افریقی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے جبکہ غیرملکی گورے انہیں نکال نکال کر اپنے ملک لے جا رہے ہیں۔ جب وہاں کے مقامی لوگ ان ہیروں کو واپس لینے کی کوشش کرتے ہیں تو غیرملکی طاقتیں اقوام متحدہ کے تحت انٹرنیشنل امن فوج کی ڈیوٹی لگوا لیتی ہیں۔ انٹرنیشنل امن فوج غیرملکیوں کو ہیرے نکالنے کا محفوظ راستہ دیتی ہے اور قریب آنے والے کسی بھی مقامی کالے کو ہلاک کردیتی ہے۔ درس و تدریس کی یہ سب باتیں شاید ابھی اُن بلوچوں پر کوئی اثر نہیں کریں گی جو اپنے سرداروں کے ذریعے غیرملکی رابطوں میں ہیں۔ پاکستان کی وفاقی حکومتوں کی بلوچستان میں امن قائم کرنے کیلئے کئی دہائیوں سے جاری سیاسی آنکھ مچولیوں کو سمجھ کر کہا جاسکتا ہے کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ بلوچوں کی مرکزی سیاست میں شمولیت سے زیادہ وہاں غیرملکی طاقتوں کی مداخلت ہے۔ اس مداخلت کو بلوچوں سے مذاکرات کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک سیکورٹی ایشو ہے جس کیلئے "پرواِیکٹو سیکورٹی آپریشن" ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان میں چین کی مدد سے بنائی جانے والی اقتصادی راہداری کی تین بڑی سڑکیں گوادر سے نکلیں گی۔ یہ تینوں بڑی سڑکیں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے گزریں گی جو بلوچستان کے ایک بڑے علاقے کو ترقی دیں گی۔ اقتصادی راہداری کی تعمیر کا بہت فائدہ بلوچستان کو ہوگا۔ اقتصادی راہداری کی یہ تعمیر دشمنوں کو پاکستان کے خلاف مزید منصوبہ بندی پر اکسا رہی ہے۔ بلوچستان میں غیرملکی مداخلت کو روکنے کیلئے پاکستانی سیکورٹی اداروں کو بلوچستان میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کرنا پڑیگا۔ اس آپریشن کے دو حصے ہو سکتے ہیں جن میں سے ایک بلوچستان میں موجود دشمن عناصر کو ختم کرنا، دوسرا اقتصادی راہداری کو محفوظ بنانا ہوگا۔ اگر بلوچستان میں اقتصادی راہداری کی سیکورٹی کیلئے چینی سیکورٹی تعاون بھی حاصل کرلیا جائے تو پاکستانی سیکورٹی ادارے بلوچستان میں دشمنوں کیخلاف آپریشن پر پوری طرح فوکس کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف چینی سیکورٹی کے باعث اقتصادی راہداری بھی محفوظ ہو جائیگی۔اپنی اندرونی سیکورٹی کیلئے پاکستان اور چین کایہ تعاون نہ توکسی بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی ہو گا اور نہ ہی کسی تیسرے ملک کیلئے کوئی خطرہ ہوگا ۔البتہ بلوچستان میں پاکستان اور چین کی مشترکہ سیکورٹی سے بہت سی ’’انٹرنیشنل بلائیں‘‘ خود بخود یہاں سے غائب ہو جائیں گی۔