”علی بابا، چالیس چور اور بنارسی ٹھگ“

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

صرف ایک دِن پہلے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور وفاقی حکومت کو علی بابا اور چالیس چوروں کا ٹولہ قرار دیا تھا۔ دوسرے دن سابق وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے نوازشریف کے لئے ”بنارسی ٹھگ“ جیسے انتہائی قابلِ اعتراض الفاظ استعمال کئے۔ یہ ہے پاکستان کی سیاست کا تازہ ترین منظرنامہ کہ ملک کی سب سے بڑی دو سیاسی جماعتوں مرکز اور پنجاب کے حکمران ایک دوسرے کے بارے میں انتہائی نازیبا زبان استعمال کر رہے ہیں۔ اب صرف اتنی کسر باقی رہ گئی ہے کہ دونوں حکمران جماعتیں اور عوام کے منتخب نمائندے کب برسر عام ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہوتے ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی کی ترجمانی بابر اعوان کے سپرد رہی اور پنجاب حکومت کی نمائندگی رانا ثناءاللہ کرتے رہے تو وہ وقت دور نہیں جب دشنام طرازی دونوں اطراف کا دستور ہو جائے گی۔ سیاست دانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بولنے کا حق حاصل ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ آپس میں متفق نہیں ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی پالیسیوں پر معترض ہوتے ہیں لیکن ناشائستہ اور غیر مہذب زبان استعمال کرنے کی اجازت کسی کو نہیں ہوتی۔ قوم اپنے راہنماﺅں سے سیکھتی ہے۔ اس لئے جو لوگ لیڈر ہونے کے دعویدار ہیں یا جن افراد کو قوم اپنی راہنمائی کے لئے منتخب کرتے ہیں انہیں اپنے الفاظ اور جذبات پر قابو رکھنا چاہئے کیونکہ اُن کے منہ سے نکلے ہوئے غلط الفاظ کا اثر پوری قوم کے اخلاق پر مرتب ہوتا ہے۔ سیاست دانوں کو پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر بھی غیر پارلیمانی اور غیر اخلاقی الفاظ کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے۔ الفاظ اور محاورات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ لباس کی طرح انسان کی شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ لباس کسی انسان کی ظاہری شخصیت کی پہچان ہیں لیکن الفاظ ایک انسان کے اندر چھپی ہوئی شخصیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ نامناسب اور غیر موزوں الفاظ استعمال کرنے والے اشخاص کو کبھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ اگر آپ مسلسل نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں تو یہ الفاظ آپ کو سیاست میں قابلِ اعتبار نہیں رہنے دیں گے۔ خیالات کتنے ہی پاکیزہ اور معتبر کیوں نہ ہوں لیکن اگر آپ ان خیالات کو صحیح اور موزوں الفاظ میں بیان کرنے پر قدرت نہیں رکھتے اور مناسب الفاظ کے بجائے آپ کھردرے یا اخلاق سے گرے ہوئے الفاظ کا سہارا لیتے ہیں تو آپ کے پاکیزہ خیالات دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور بُرے الفاظ آپ کی شخصیت کے آئینے کو دھندلا کر دیں گے۔ پھر سیاسی راہنماﺅں کے الفاظ تو تاریخ کا حصہ بنتے ہیں اس لئے سیاست دانوں کو اپنے منہ سے کوئی الفاظ ادا کرنے سے پہلے ان الفاظ کے مثبت اور منفی پہلوﺅں پر ضرور غور کر لینا چاہئے۔
میرے ایک انتہائی عزیز دوست ڈاکٹر محمد ارشد اویسی نے ”غیر پارلیمانی الفاظ“ کے نام سے ایک کتاب مرتب کی ہے۔ اس کتاب میں 1937ءسے 1988ءتک کے وہ تمام غیر پارلیمانی الفاظ محفوظ کر دئیے گئے ہیں جو پنجاب اسمبلی اور مغربی پاکستان اسمبلی کے مختلف ارکان اسمبلی نے استعمال کئے اور پھر یہ غیر پارلیمانی الفاظ اسپیکر کے حکم پر واپس لئے گئے۔ بابر اعوان اور رانا ثناءاللہ کو یہ کتاب خاص طور پر پڑھنی چاہئے تاکہ انہیں پارلیمانی اور غیر پارلیمانی الفاظ میں فرق معلوم ہو جائے۔ بعض الفاظ غیر پارلیمانی نہیں ہوتے لیکن وہ الفاظ استعمال کرنے والے کی اگر نیت صحیح نہ ہو تو بدنیتی سے استعمال کئے گئے پارلیمانی الفاظ بھی غیر پارلیمانی سمجھے جائیں گے۔ مثلاً صدر آصف علی زرداری نے جس مفہوم میں نوازشریف کو مولوی کا لقب دیا ہے وہ ہرگز پارلیمانی نہیں تھا۔ زرداری صاحب نے مولوی کا لفظ دہشت گرد اور قاتل کے معنوں میں استعمال کیا تھا۔ اب آصف زرداری یا یوسف رضا گیلانی کو سامنے رکھ کر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا علی بابا اور چالیس چوروں کا ٹولہ کہنا بھی سراسر غلط ہے اور نوازشریف کو بنارسی ٹھگ کہنا بھی یکسر غیر معقولیت ہے۔ سیاست دانوں کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ ایک دوسرے کے خلاف ایسے نازیبا اور غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کر کے کیا وہ تاریخ کو اپنے ہی خلاف مواد فراہم نہیں کر رہے۔ اگر کرپشن اور لوٹ مار ہو رہی ہے تو اس کے ٹھوس ثبوت اور تفصیلات قوم کے سامنے پیش کی جائیں۔ نازیبا اور ناشائستہ زبان سے تو کسی سیاست دان کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ اگر قابل اعتراض زبان کے بجائے کرپٹ حکمران کے خلاف کرپشن کے ناقابلِ تردید ثبوت سامنے لائے جائیں گے تو قوم یقیناً آئندہ انتخابات میں ایسے سیاست دانوں کو مسترد کر دے گی اور قوم کا یہ احتساب ناشائستہ زبان کے استعمال کے مقابلہ میں زیادہ م¶ثر ثابت ہو گا۔