لاہور یاترا--- لوڈ شیڈنگ-- پولیس گردی

کالم نگار  |  ڈاکٹر اختر شمار

پاکستان ہنگامی طور پر جانا پڑا ایک عیادت کے سلسلے میں--- رب ذوالجلال کا شکر کہ بخیریت و عافیت قاہرہ واپسی ہوئی۔ یہ سطور شائع ہونے تک میں کاروان ادب برطانیہ کی دعوت پر فیض احمد فیض کے حوالے سے عالمی ادبی کانفرنس اور مشاعرے میں شرکت کر رہا ہوں گا....
پاکستان میں تقریباً ڈیڑھ برس بعد چکر لگا تھا۔ والدہ جی کی وفات کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ میں پاکستان جا رہا تھا۔ کوئی بھی بے چینی سے انتظار کرنے والا نہ تھا۔ بہن بھائیوں کی محبت اپنی جگہ لیکن جب بہن بھائی گھرداری میں گھر جائیں تو کوئی اپنے اہل وعیال میں مصروف ہو جاتا ہے اوپر سے پاکستان کے حالات ایسے ہیں کہ ہر شخص ہی ڈپریشن کا مریض ہو چکا ہے۔ بندہ پردیس سے چند روز کےلئے جب اپنے دیس جاتا ہے تو سو طرح کے کام بھی ہمراہ لئے ہوتا ہے۔ دوستوں عزیزوں سے ملنے کے علاوہ اپنے اپنے شعبے کے بکھیڑے بھی ہوتے ہیں۔ مجھے بھی بہت سے کام نمٹانے تھے۔ پبلشروں سے میل ملاقاتیں، میری غیر موجودگی میں شائع ہونے والی کتب کا حصول، نئے مسودوں پر بات چیت، کتابوں کی ترسیل، اپنی یونیورسٹی کے معاملات اور ڈھیروں دوسرے مسائل سامنے تھے۔ بس یوں سمجھیں کہ بھاگتے بھاگتے لاہور سے ہاتھ ملانا پڑا۔ بہت سے مہربانوں سے ملاقات نہ ہو سکی۔ کئی احباب سے صرف فون پر بات ہو سکی۔ بعض دوستوں سے ادھوری ملاقات رہی۔ ادھر گرمی اور لوڈ شیڈنگ نے زندگی کے معمولات ہی بدل کر رکھ دیئے ہیں--- اس بار لاہور مجھے کافی بدلا بدلا دکھائی دیا۔ سکیورٹی کے مسائل نے بھی لاہور کا سارا حسن زائل کر دیا ہے۔ جگہ جگہ مورچے، ناکے اور رکاوٹیں دکھائی دیں۔ ادبی سرگرمیاں بھی پہلے جیسی نہیں رہیں۔ ٹرانسپورٹنگ اور ٹریفک مسائل سے میل ملاقاتوں کے وہ سلسلے بھی نہیں رہے۔ رکشہ ٹیکسی کے کرائے آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ چند دوستوں سے گپ شپ کےلئے ادبی بیٹھک یا پرانی انارکلی آنے کےلئے بھی کئی بار سوچنا پڑتا ہے۔
گھروں میں پانی بجلی نہ ہو تو زندگی اجیرن ہو جاتی ہے بارہ سے چودہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کو بدحال کر رکھا ہے۔ نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ اکثر شہروں میں واپڈا والوں کے خلاف جلوس اور توڑ پھوڑ کے واقعات ہو رہے ہیں۔ کراچی سے آئے ہوئے چند دوستوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ہماری گاڑی خانیوال اسٹیشن پر رک گئی کہ اس میں ڈیزل ختم ہو چکا تھا اور اسٹیشن ماسٹر اور دیگر عملہ آپس میں دست و گریباں تھا۔ مسافروں کے احتجاج کے کے بعد پتہ چلا کہ ڈیزل بیچ دیا گیا ہے پھر نجانے کسی اور اسٹیشن سے ڈیزل منگوا کر گاڑی دوبارہ سفر پر روانہ کی گئی۔
اس بار پیر و مرشد سخی سردار علی شاہ کے عرس پر حاضری کا موقع بھی ملا.... زائرین کا ایک قافلہ مانسہرہ سے پسرور آ رہا تھا، راستے میں گوجر خاں کے قریب کرم آباد چیک پوسٹ پر بغیر وردی پولیس والوں نے ساری کوسٹر کے مسافروں کو دھوپ میں کھڑا کر کے چیک کرنا شروع کر دیا۔ بعض مسافروں کے سامان سے رقوم بھی نکالی لی گئیں۔ باوردی پولیس 100 گز کے فاصلے پر تھی۔ تلاشی کے لئے ”سول ڈریس“ میں چند نوجوان آنے جانے والی گاڑیوں کو چیک کر رہے تھے۔ چیکنگ کیا تھی.... زبردستی بھتہ وصولی ہو رہی تھی ۔ اس قافلے میں صدر زرداری کے سیکرٹری کے ڈرائیور کا بھائی بھی تھا جو خود پولیس میں ڈرائیور تھا اس کے تعارف کرانے کے باوجود بھی کچھ لئے بغیر بس کو نہ جانے دیا گیا.... گرمی کی تپش دوپہر میں مسافروں سے تضحیک آمیز سلوک روا رکھا گیا۔ یہ فقیر منش لوگ تھے جب انہوں نے یہ واقعہ مجھے سنایا تو بہت ہی دکھ ہوا.... مگر ہمیں علم ہے کہ ہمارے ہاں قانون نام کی کوئی شے نہیں۔اوپر سے نیچے تک آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے.... حکومت اپنے دن پورے کر رہی ہے.... اب ایم کیو ایم کی حکومت نے علیحدگی کے بعد دیکھئے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ یار لوگ تو ایم کیو ایم کے بار بار حکومت سے الگ ہونے پر بھی حیران ہیں کہ اس سے قبل بھی متحدہ کئی بار ایسا کر چکی ہے۔ دیکھئے اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے.... سارے حالات دیکھ کر دل کڑھتا ہے۔ اس مایوسی کے عالم میں دکھی دل کے ساتھ ہم قاہرہ واپس آ گئے ہیں.... یہاں جو بھی ہو کم از کم امن تو ہے سکون ہے اور پھر یہ لوگ لوڈ شیڈنگ کے لفظ سے بھی واقف نہیں کہ یہ لفظ تو ڈکشنری کو ہم نے دیا ہے.... نجانے یہ شعر کیوں یاد آ رہا ہے
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھوئی ہوئی ہے