قصہ ایک ائیر بیس کا جو ایک سنگین قضیہ بن گیا ہے

کالم نگار  |  کرنل (ر) اکرام اللہ

ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اور پاکستان کے باہمی تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں اور راقم کے گزشتہ 60 برس کے تجربہ کی بنا پر میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ دونوں ممالک کے درمیان Trust Deficit کبھی اتنے خطرناک حد تک Low Level کو نہیں چھوا تھا جتنا آج ہے۔ یہ بات صرف راقم ہی نہیں کہہ رہا بلکہ گزشتہ روز پاکستان کے وزیر دفاع نے بھی اس موضوع پر ایسے انکشافات کئے جس پر حیرت زدہ ہو کر میں نے سوچا کہ اگر وزیر خارجہ (یعنی سید یوسف رضا گیلانی جو اس وقت اس قلمدان کے انچارج ہیں) یا کم سے کم سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر سفارتی انداز میں وہ اعلانات کرتے جو فریضہ وزیر دفاع نے ادا کیا تو شاید بہتر ہوتا۔ مثال کے طور پر جناب احمد مختار نے اپنے ماضی کے معمول سے ہٹ کر اخبار نویسوں کو وزارت دفاع میں بُلا کر ایسا بڑا بول ارشاد فرما دیا جو شاید وزیراعظم اور صدر مملکت بھی کسی اور انداز میں پاکستانی عوام کو اعتماد میں لیتے۔ لیکن شاید درپردہ چشم یار کی شہ پا کر جناب احمد مختار نے ٹھاہ سے کہہ دیا ”ہم نے امریکہ کو شمسی ائیر بیس خالی کرنے کیلئے کہہ دیا ہے۔“ بعض اخبار نویسوں کا کہنا ہے کہ صرف اسی بیان پر اکتفا نہ کرتے ہوئے مزید یہ بھی ارشاد فرمایا ”جب وہ لوگ (امریکن) وہاں ہونگے ہی نہیں تو ڈرون حملے بھی بند ہو جائیں گے۔“ راقم وزیر دفاع کے جرا¿ت اظہار پر ان کو داد دیتا ہے لیکن شومی¿ تقدیر دیکھئے کہ اسی دن واشنگٹن سے جواب غزل کے طور پر پاکستان کے وزیر دفاع کے اعلان کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے ارشاد ہوا کہ امریکی حکام نے شمسی ائیر بیس خالی نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کرنے کا امریکہ کا کوئی ارادہ ہے۔ اگر بات یہاں تک ہی رہتی تو پاکستانی عوام یہ سمجھتے کہ جس طرح ہماری حکومت پارلیمنٹ کی قرارداد اور وزیراعظم کی بار بار درخواست کے باوجود ایک کمزور حکومت کو ایک طاقتور حکومت اور وہ بھی دنیا کی واحد سپر پاور کی طرف سے دی جانے والی کڑوی گولی توعاً و قرھاً نگلنی پڑتی ہے۔ اسی طرح وزیر دفاع کے بیان کے ساتھ توہین آمیز سلوک بھی برداشت کرنے کے سوا اس حکومت کے پاس اور چارہ ہی کیا ہے۔ شاعر مشرق نے غلط تو نہیں کہا تھا کہ ع
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
لیکن اگر غیر پتھر بھی مارے تو دشمن ایسا کرتا ہی ہے لیکن اگر اپنا پھول بھی بیدردی سے دے مارے تو پھول کی پتیاں بھی دل پر زخم کا اثر رکھتی ہیں۔ ستم در ستم یہ ہے کہ کچھ ایسا ہی ناروا سلوک وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اپنی کابینہ کے سینئر وزیر نے جناب احمد مختار کے بیان کی فوری تردید کرتے ہوئے لاہور پریس کلب کے میٹ دی پریس کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ شمسی ائیر بیس کی امریکہ کی طرف سے پاکستان کو حوالگی کے بارے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ راقم کا سیالکوٹ سے گہرا اور دیرینہ تعلق ہونے کے باعث ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا بہت احترام کرتا ہوں اور ان کی حالیہ وزیر اطلاعات کے عہدہ¿ جلیلہ پر فائز ہونے کے علاوہ ان کی کئی دیگر خصوصیات اور صلاحیتوں کے باعث ان کا معترف ہوں۔ ڈاکٹر صاحبہ اتنی بڑی بات خود بخود کرنے کی ہرگز عادی نہیں ہیں جب تک کسی طرف سے ان کو ایسا اشارہ نہ ملا ہو۔ اب قارئین راقم سے خدارا پوچھنے کی زحمت نہ کریں کہ ایسا اشارہ کون دے سکتا ہے کیونکہ جو بات صیغہ راز میں نہ ہو اس پر تجسس سے احتراز لازم ہے۔ اس سے یاد آیا کہ پاکستان آرمی اور پاکستان ائیر فورس نے اپنے وزیر دفاع کے رُتبہ کا احترام برقرار رکھتے ہوئے اس شمسی ائیر بیس کے موجودہ سٹیٹس پر خاموشی اختیار رکھی ہے اور اس نازک معاملہ کی وضاحت وزیراعظم پر چھوڑ دی ہے۔ اس لئے بھی کہ وزارت خارجہ کا قلمدان بھی انہی کے پاس ہے۔ ورنہ بصورت دیگر محترمہ حنا ربانی کھر بھی ایسی سفارتی الجھنوں کو سلجھانے کی اب کافی مہارت حاصل کر چکی ہیں اور اسی لئے ان کو اگلے ماہ دہلی میں پاک بھارت وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں وزیر خارجہ بنا کر اپنے پہلے امتحان کیلئے بھارت بھیجا جا رہا ہے۔ آخر میں اتنا عرض کرنا ضروری ہے کہ شمسی ائیر بیس پر موجودہ امریکی کنٹرول کے بارے میں پاکستان کے عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے کہ امریکی عمل دخل کے قطعہ نظر بلوچستان میں دالبندین کے قریب پاکستان کی سرزمین پر واقعہ اس قطعہ زمین کا سٹیٹس کیا ہے جس پر شمسی ائیر بیس واقعہ ہے۔ کیا ہم نے اس ائیر بیس اور اردگرد کے علاقہ کو کسی ہمسایہ دوست ملک کو ٹھیکہ یا لیز پر دے رکھا ہے جس کی بنا پر ملکیت کا حق اس ملک کے پاس ہے؟ اور کیا اس ملک نے اس ائیر بیس کو حکومت امریکہ کے کنٹرول پر دے رکھا ہے جس پر حکومت پاکستان نے بھی اپنی باضابطہ تحریری No Objection دے رکھی ہے۔ اگر ایسا ہے تو ہمسایہ دوست ملک کو شمسی ائیر بیس اور اس کا ملحقہ علاقہ حکومت پاکستان کے کون سے صدر اور وزیراعظم کے دور میں یہ Lease طے پائی تھی اور اس کا دورانیہ کیا ہے۔ کیا شمسی ائیر بیس کے علاوہ سرزمین پاکستان کے کوئی اور ٹکڑے بھی کسی وقت کسی اور بیرونی حکومت کو استعمال کیلئے ٹھیکے یا لیز پر دیئے گئے ہیں؟ اس سلسلے میں پشاور کے قریب بڈابیر کا Base بھی کسی زمانے میں امریکہ کو دیا گیا تھا جہاں سے امریکی جاسوس طیارے سویت یونین کے علاقوں کی سرولینس کرتے تھے۔ میں اقوام متحدہ کے اس اجلاس کی Visitors گیلری میں موجود تھا جب سوویت یونین کے وزیراعظم نے جوتا ہاتھ میں پکڑ کر اپنے ڈیسک پر بجاتے ہوئے پاکستان کو وارننگ دی تھی کہ اگر بڈابیر سے جاسوسی کارروائیاں فوری طور پر ختم نہ ہوئیں تو سوویت یونین پشاور کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا۔ یہ ذکر اس لئے کر رہا ہوں کہ طاقتور ممالک اپنی خود مختاری اور Soverignty کی حفاظت کس طرح کرتے ہیں اور
ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
اور ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنانا آتی ہے