دِیا دور

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

پاکستان اس وقت بہت ترقی کر رہا ہے، اہل وطن کو نوید ہو، لیکن یہ ترقیِ معکوس ہے، جو کوئی بھی ملک نہیں کر رہا، آخر یہ امتیاز ہم نے 63 سالہ مشقتِ شاقہ کے بعد پایا ہے۔ جب کوئی الٹے پاﺅں چلتا ہے، تو گزرا ہوا زمانہ لوٹ آتا ہے، نئی نسل نے تو قمقموں میں آنکھ کھولی ہے، لیکن پرانی نسل سے پوچھیں وہ بتائے گی کہ کس طرح ایک طویل کچے کمرے میں، ایک طاقچہ ہوا کرتا تھا جس میں ایک دیا روشن ہوتا تھا، اور کمرے کے ایک حصے میں گائے بکری بھی بندھی ہوتی تھی جس کی جگالی کو ماں کی لوری سمجھ کر وہ سو جایا کرتے تھے۔ سارے کام دن کی روشنی میں نمٹا لئے جاتے، اور فجر کی اذان کے ساتھ ہی سب اُٹھ بیٹھتے تھے، اوپلوں کا چولہا بھی اسی کمرے میں دہکتا تھا، لوگوں کو خبر ہی نہیں ہوتی تھی کہ کون حکمران ہے اور کیا کر رہا ہے اور اس طرح زندگی چشموں کے پانی کی طرح اپنے فطری بہاﺅ میں رواں رہتی، تب کسی کو دئیے کی روشنی سے زیادہ روشنی کی ضرورت محسوس ہی نہ ہوتی، گوریاں دئیے سے کاجل بنا کر کجراری آنکھوں سے اپنے آنگن کو رونق بخشتی تھیں، پھر یہاں کی پرسکون فضا اور دئیے کی روشنی میں بھاری بوٹوں کی آوازیں آنے لگیں۔ یہ 1757ءکا دور تھا، ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں قدم رکھے، اس دوران جو ہوا سو ہوا لیکن جب اس کمپنی نے باقاعدہ برٹش راج کا روپ دھار لیا، تو 1906ءمیں بنگلور میں پہلی بار دئیے بجھ گئے اور برقی قمقمے روشن، وہ جو ایک طلسم تھا سانولی روشنی کا نہ رہا، پھر یہ روشنی جسے بجلی کہتے ہیں عام ہوتی گئی۔ انگریزی سامراج نے اپنے قبضے کے دوران اُس وقت کے ہندوستان میں اس طرح اصلاحات کیں، عمارات کھڑی کیں، اور بجلی کا ایسا نظام چلا دیا کہ جان جائے پر بجلی نہ جائے۔ انہوں نے حکومت کی رٹ کو برقرار رکھا، اور یوں لگتا تھا جیسے اُس نے یہاں سے کبھی جانا نہیں پھر بیداری اور غلامی سے خلاصی کی تحریکیں سر اُٹھانے لگیں، تاریخ میں سب کچھ درج ہے۔ اگرچہ ہر داستان خونچکاں تھی، مگر عوام الناس کی ضروریات پوری کی جاتیں اور اُن کے ساتھ انصاف کا خاص خیال رکھا جاتا آزادی کی شمع روشن ہونے پر بھی گھروں کی روشنی برقرار رہی، جہاں بجلی نہیں پہنچ سکی تھی وہاں بھی گلیوں محلوں میں تیل کے لیمپ کھمبوں سے لٹکا کر سٹریٹ لائٹ کا بندوبست کیا گیا۔ انگریزی دور کے منفی اقدامات اپنی جگہ ہم تو بجلی کی بات کرتے ہیں کہ انگریز کے دور میں لوڈ شیڈنگ کا لفظ بھی کبھی کسی نے نہیں سنا تھا، پھر بالآخر آزادی کی شمع روشن ہو گئی، برصغیر کی کوکھ سے دو ریاستوں پاکستان بھارت نے جنم لیا۔ بھارت نے روز اول سے ڈیموں کی تعمیر شروع کر دی، ہم نے ڈیموں سے احتراز کئے رکھا۔ پھر سندھ طاس معاہدہ ہوا اور ہر دو ملکوں کو اختیار تھا کہ وہ دریاﺅں پر ڈیم بنا کر توانائی کی ضرورت پوری کرتے جائیں، ہم اس مدت میں معاہدے کو بُرا بھلا کہتے رہے، اور ہندو نیتا دریاﺅں پر پے در پے ڈیم تعمیر کرتے گئے تاآنکہ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو بھی پاﺅں تلے دے کر 62 ڈیم دریاﺅں پر بنا لئے، کشمیر پر وہ پہلے ہی قبضہ کر چکے تھے، گویا ہمارے دریا ہم سے چھن گئے تھے، منگلا تربیلا تعمیر کئے گئے، مگر آبادی بڑھنے کے ساتھ ان کی پیداوار کم پڑتی گئی، اور ہمارے ہاں سیاست بازی کی گڈی ایسی چڑھی کہ نئے ڈیم بھی اُس کی زد میں آ گئے، اور صوبائیت زدہ سیاست نے کوئی نیا ڈیم نہ بننے دیا یہاں تک کہ اس ملک کے لئے تو صرف ایک کالاباغ ڈیم ہی کافی ہوتا اور آج یہ حال ہے، کہ گھروں کے دئیے بجھے ہوئے ہیں بس صرف حکمرانوں کے ایوان روشن ہےں اور بجائے اس کے کہ اپنے ڈیم بنا کر صارفین کو ایک روپیہ فی یونٹ بجلی فراہم کی جاتی آج یہ عالم ہے ایک بیرونی کمپنی کے رینٹل پاور سٹیشن سے 41 روپے فی یونٹ بجلی خریدی جا رہی ہے وہ بھی اس طرح کہ اس سٹیشن کی گنجائش 30 میگاواٹ کی ہے مگر وہ صرف دس میگاواٹ فراہم کر رہا ہے، شاید اس لئے کہ خزانہ لوٹ کر خالی کر دیا گیا ہے، قرضے بھی وہیں منتقل ہو چکے ہیں جہاں سے لئے گئے تھے، اور غریب عوام جو جنریٹر یو پی ایس نہیں خرید سکتے، اُن کی حالت یہ ہے
شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
کالاباغ ڈیم کو محض مفاد پرست سیاستدان اور امریکہ تعمیر نہیں ہونے دے رہے اور اب تو لوڈ شیڈنگ یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کوئی دیپک گانے والا بھی نہیں ہے کہ کہ دیا جلاﺅ جگمگ جگمگ دیا جلاﺅ ! گا کر بجلی لے آئے غریب لوگ نہروں میں چھلانگ لگا دیتے ہیں اور یوں اپنی دوپہر ٹھنڈی بنا لیتے ہیں، اشرافیہ اپنی دولت لے کر ٹھنڈے اور لوڈشیڈنگ سے پاک ملکوں کی طرف فرار ہو چکا ہے۔ اب تو اس شب تاریک و بیم موج میں صرف ایک ہی چارہ ہے کہ دیا دور واپس لایا جائے بلکہ یہ دور تقریباً آچکا ہے، اگلے چند برسوں میں شاید عوام کے گھروں میں دن کو بھی شام کا سماں رہے، کیونکہ حکومتی سطح پر شام ہو چکی ہے، مشیر مشورہ دینے کے اہل نہیں انہیں صرف اس لئے رکھا جاتا ہے کہ اُنہیں وزیر نہیں بنایا جا سکتا اور وہ صرف تعلقات اور محبت باہمی کے اصولوں پر چل کر مشاورت تک پہنچتے ہیں، حکمران پہلے ہی بہت ذہین ہیں اگر اُن کو اُن سے بڑھ کر دانشمند مشیر بھی مل گئے ہیں، تو دیا دور تو آئے گا، بلکہ اب تو لیا دور بھی عروج کو پہنچے گا اور قوم یہ قرضے خدا جانے کیسے اتارے گی، کیونکہ قرضے لینے کے بعد ہم قوم ہی سے کہتے ہیں، قرضے اتارو ملک سنوارو، اور قوم ہے، کہ جو مجبوری و محرومی کے چراغ جلا کر اپنا لہو جلا رہی ہے، اب حتمی تجویز یہی ہے کہ اس ملک کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے کے لئے بجلی ہی سے چھٹکارا دلایا جائے، تاکہ ہر کوئی نغمہ سرا ہو
داغ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دئیے جلانے لگے