آزاد کشمیر کے انتخابات

صحافی  |  رشید ملک

مجھے پاکستان کے مستقبل کی فکر ہے آزاد کشمیر کے انتخابات اور ان کے نتائج سے کوئی دلچسپی نہیں، مقبوضہ کشمیر کے بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے کہا ہے کہ انہیں آزاد کشمیر میں ہونےوالے انتخابات اور ان کے نتائج سے کوئی دلچسپی نہیں انہیں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں پریشانی ہے سید علی شاہ گیلانی نے ان خیالات کا اظہار روزنامہ نیشن سے سری نگر سے ٹیلی فون انٹر نیٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کیا بزرگ رہنما نے کہا یہ انتخابات کسی نظر یہ یا اصول کی بنیاد پر نہیں منعقد کرائے گئے پیپلز پارٹی کی فتح اور مسلم لیگ ن کی شکست سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں سید علی گیلانی نے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں تناﺅ پر بھی تشویش کا اظہار کیا انہوں نے پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریوں کی حالیہ ملاقات پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا بلکہ پاکستان کے سیکرٹری خارجہ کے اس خاموش رویہ پر دکھ کا اظہار کیا کہ انہوں نے بھارت کے سیکرٹری خارجہ کے اس روکھے بیان کا کوئی جواب نہیں دیا کہ جب کشمیر میں بندوق کا استعمال جاری رہے گا کشمیر کے مسئلہ پر بات نہیں ہوسکتی علی گیلانی نے دنیا کو یاد دلایا کہ بھارت سات لاکھ فوج سے بندوق کے ذریعہ کشمیر پر قابض ہے سید علی گیلانی نے سابق صدر پرویز مشرف پر بھی نکتہ چینی کی جنہوں نے پاکستان کے موقف میں لچک دکھا کر کشمیریوں کی تحریک آزادی کو نقصان پہنچایا تھا سید علی گیلانی ہم سب کیلئے انتہائی قابل احترام بزرگ ہیں انہوں نے اس پیرانہ سالی اور عدالت میں بھی کشمیر کی آزادی کے پرچم کو بلند رکھا ہے وہ عزم و استقامت کے پہاڑ ہیں لیکن ان کی خدمت میں عرض کرنے کی جسارت کرتے ہیں کہ انہوں نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران ہی سری نگر سے ایک اپیل نما بیان دیا تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام میاں نواز شریف اور راجہ فاروق حیدر کو ووٹ دیں کیوں کہ وہ کشمیری ہیں۔ گیلانی صاحب کے نزدیک صرف دو ہی رہنما کشمیری ہیں ،کیا دوسرے رہنما جو انتخابات میں حصہ لے رہے تھے اور جنہوں نے اس تحریک آزادی میں قربانیا ں بھی دی ہیں وہ کشمیری نہیں ؟محترم گیلانی صاحب کو اس وقت کشمیر کے انتخابات میں راجہ فاروق حیدر کو دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ان کی کامیابی میں جماعت اسلامی کی حمایت کا بڑا حصہ ہے لیکن جماعت اسلامی کے اپنے امیدوار عبدالرشید ترابی بد قسمتی سے کامیاب نہیں ہوسکے ہمیں بھی اس کا دکھ ہے اس لیے محترم گیلانی صاحب کو ان انتخابات اور ان کے نتائج میں کوئی دلچسپی نہیں رہی اس طرح کی محدود سوچ کشمیر کی اتنی بڑی تحریک آزادی جس میں لاکھوں شہید ہوچکے ہیں اور کشمیر میں یہ تحریک محترم گیلانی صاحب کے بیان جیسے عزم کے ساتھ جاری ہے کیلئے نقصان دہ ہے محترم گیلانی کی طرف سے ان تمام سیاسی قوتوں کیلئے ہمدردی اور حمایت کی توقع کی جاتی ہے جو بھارت کی غلامی سے آزادی اور ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کیلئے اپنی اپنی بساط کے مطابق سرگرم ہیں یہ مجموعی سوچ تحریک آزادی کو تقویت پہنچانے کا باعث ہوگی کشمیر میں ہماری امیدوں کا مرکز محترم علی گیلانی ہی ہیں۔