احتجا جی سیاست کا نیا دور

کالم نگار  |  عالیہ شبیر
احتجا جی سیاست کا نیا دور

جمہوریت ایک سسٹم ہے، جس کے چار بنیادی اجزا ہیں۔ نمبر ایک جمہوری سسٹم جو فری اینڈ فیئر الیکشن کے ذریعے منتخب ہو کر دوسرے منتخب کردہ سسٹم کو رپلیس کرتا ہے۔ نمبر دو سیاست اور سول لائف میں شہریوں کی شرکت کا ہونا ہے۔ نمبر تین شہریوں کے انسانی حقوق کا تحفظ ہے نمبر چار قانون کی حکمرانی ہونی چاہئیے اور قانون سب کے لیے برابر ہو۔ مجھ دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ چار بنیادی جز ہماری جمہوریت میں دور دور تک کہیں نظر نہیں آرہے ہیں، فیئر الیکشن تو اب پی ٹی آئی کی دھاندلی کی تحریک سے بچہ بچہ واقف ہے کہ ہمارے ہاں کتنے فری اینڈ فئیر الیکشن ہو تے ہیں اور باقی جز تو حکمرانوں کی صوابدید پر ہیں ۔ جمہوریت کا مطلب ہوتا ہے کہ عوام اپنے حکمران منتخب کرے اور وہ اپنے حکمرانوں کی پالیسیوں اور آفس Conduct کا احتساب کریں ۔جمہوریت میں احتجاج کا حق ہر ایک کو حاصل ہے اور مہذب معاشروں میں اس کا اثر اور دوررس نتائج ظاہر ہوتے ہیں مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاںاحتجاج کا اثر اور کامیاب انسان کے خون سے ہوتا ہے او ر وہ احتجاج جس میں جتنا زیادہ خون بہے گا وہ اتنا ہی کامیاب ہو گا ہماری بدقسمتی ہے کہ جمہوری دور میں بھی حکومت وقت طاقت کے زور پر صدائے آواز کو دبانے کی کوشش کرتی ہے۔ پی آئی اے ملازمین کی احتجاج کی تحریک اب سیاسی پارٹیوں میں بھی جوش پیدا کر رہی ہیں اور پی پی پی بھی دبے دبے الفاظ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے احتجاج کی طرف راغب ہونے کا سوچ رہی ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق مارچ میں کرپشن کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ جب کہ پی ٹی آئی کی سیاست کا محور احتجاج ہی رہا ہے وہ دھرنے کے بعد ایک بار پھر احتجاجی سیاست کا اعلان کر رہی ہے، اب سیاست کی ہوا گرم ہو رہی ہے۔ اس سردی کے موسم میں احتجاج کی تپش سے حکومت کس طر ح سے نمٹے گی یہ اہم ہو گا۔کیونکہ کہ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کا چھ فروری کو احتجاج کا اعلان لاشیں گرانے کا پروگرام ہے۔ جب میں نے تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی کے اس بیان پر سوال کیا تو ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ہم تو احتجاج کریں گے۔ جبکہ حکومت نے لاشیں گرانے کا منصوبہ بنایا ہو گا۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کی غلط پالیسیوں، مہنگائی اور ٹیکسوں میں اضافہ کیخلاف چھ فروری کو ملک گیر احتجاج کیا جائیگا جو ایک بار پھر ڈی چوک پہنچ سکتا ہے۔ موجودہ حکمرانوں کا معصوم عوام پر گولیاں برسانا پرانی عادت ہے۔ ڈی چوک میں فائرنگ سے 8 جبکہ ماڈل ٹائون میں 14 افراد جاں بحق ہوئے، پرویز مشرف کے دور میں اتنا ظلم نہیں تھا جتنا نوازشریف کے دور میں ہوا۔ حکومت پاکستان نے قومی ائرلائن کو خسارے سے بچانے کیلئے نجکاری کرنے کا ارادہ رکھتی تھی اور اس کیلئے حکومت نے پی آئی اے کو کارپوریشن کی بجائے کمپنی میں تبدیل کر نے کا قانون پاس کیا۔ حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا پی آئی اے ملازمین کے حقوق کسی طرح بھی متاثر نہیں ہوں گے لیکن ملازمین میں نجکاری کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ تمام شعبوں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے احتجاج شروع کر دیا اور مطالبات منظور نہ ہو نے کی صورت میں فلائٹ آپریشن بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ اسی دوران فریقین میں مذاکرات کی باتیں بھی ہوتی رہیں اور حکومت کی جانب سے نجکاری چھ ماہ تک معطل کر نے کی پیشکش کی خبریں بھی آئیں۔ لیکن معاملات سلجھنے کی بجائے الجھتے گئے۔ یہاں تک کہ وزیراعظم نے ایوی ایشن ڈویژن کی طرف سے لازمی سروسز ایکٹ 1952ء کا دائرہ کا ر پی آئی اے تک بڑھانے کی یکم فروری کو منظوری دے دی۔ اس اقدام نے جلتی پر تیل کا کام کیا جس کے نتیجہ کراچی میں تشدد اور تین افراد کی ہلاکت کی صورت میں نکلا۔ جبکہ ڈی آئی جی کامران فضل اور رینجرز ترجمان نے بھی فائرنگ کی تردید کی۔ اندیشہ ہے کہ اس تنائو کا فائدہ کسی تیسرے نے اٹھایا۔ مگر پی آئی اے کے ملازمین کی ہلاکت کے بعد قومی ائرلائن کے چیئرمین ناصر جعفر نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ میرا ضمیر گوارہ نہیں کرتا کہ میں اس عہدے پر رہوں۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا شاذونادر ہوا ہے کہ کسی ادارے کے سربراہ نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیا ہو۔ حالانکہ ناصر جعفر کا دائرہ اختیار یہ نہیں تھا۔ حکومت کی حکمت عملی میں اب بھی کو ئی نرمی نہیں نظر آرہی ہے وزیراعظم بھی فرما چکے ہیں۔ کہ لازمی ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ اگر ایسا رہا تو حکومت اپنے پائوں پر خود کلہاڑی مارے گی۔ حالات کا تقاضا ہے کہ افہام و تفہیم سے معاملات کو حل کیا جائے۔ کیونکہ ایک طر ف ملک حالت جنگ میں ہے تو دوسری طر ف سیاسی محاذ آرائی اور اداروں میں تنائو سنگین صورت حال پیدا کر سکتا ہے اور ہمارا فوکس دہشت گردی کی جنگ سے سیاسی چپقلش کی نظر ہو سکتا ہے۔ اس وقت نیشنل ایکشن پلان پر من وعن عمل ہماری ترجیح ہو نی چاہیے۔