ماشاءاللہ: حسرت اور شکر

کالم نگار  |  مسرت قیوم
ماشاءاللہ: حسرت اور شکر

ماشاء اللہ! آج میرا تجارتی مال اتنے کروڑ میں بک گیا۔ ڈیڑھ کروڑ خالص منافع ہوا۔ ا…ا…چھا… اچھا… اچھا کا ’’ا‘‘ لمبا کر کے بولنا کہ حسرت کی آمیزش لئے ہوئے… ’’ماشاء اللہ‘‘ آج میری دکان پر ریکارڈ تعداد میں گاہک آئے سال بھر کا نقصان ایک دن میں پورا ہو گیا… ’’ا…ا…چھا‘‘ 

’’شکر کرو‘‘ نصیحت صرف دوسروں کیلئے… کل میرے بیٹے نے خریداری میں کافی گھاٹا کھا لیا… نالائق نے بس اپنی بیوقوفی میں ہمیں مروا ڈالا… تمہارے پاس کس چیز کی کمی ہے… ’’شکر ادا کرو‘‘ یہ مال دولت تو آنی جانی چیز ہے… اصل چیز تو زندگی ہے… صحت و تندرستی ہے… جواب ملا ’’آج مجھے دو لاکھ کا نقصان ہو گیا… تو پھر کیا ہوا؟؟؟ شکر ادا کرو… مال و زر تو پرائی چیز ہے… آج تمہارے پاس کل ہمارے پاس… اگر دو لاکھ سے زیادہ نقصان ہو جاتا تو تم کیا کر لیتے؟؟ صاحب جی بڑی بچت… کوشش کر کے 5 ہزار روپیہ بچا سکا ہوں… سبزی کی دکان یا ریڑھی لگانا چاہتا ہوں مگر پیسے بہت کم ہیں… کچھ مدد کریں… تمہیں اور کیا چاہئے آج کل کے دور میں شکر نہیں کرتے کہ تمہارے پاس اتنے پیسے ہیں… ناشکری مت کرو… کافی رقم ہے… شکر کرو… یہ چند کلمات ان حضرات کے تھے جو دیواروں تک سجے سامان سے آراستہ دو… چار… چار کنال کے گھروں میں ائرکنڈیشنڈ کی خنک و مسرور ہوائوں میں سگار کے کش لیتے اپنے کاروبار کا ہر لمحہ رونا رونے والے دوسروں کو جذبہ شکر کا درس دیتے نظر آئے…
سوال یہ ہے کہ ماشاء اللہ کس کیلئے ہے… حسرت کیا ہے؟؟؟ شکر ادا کرنے کا فارمولا کن لوگوں پر لاگو ہوتا ہے… دیکھا جائے تو ہماری سوسائٹی انہی تین الفاظ میں پھنسی ہوئی نظر آتی ہے ’’ماشاء اللہ‘‘ کس کیلئے ہے؟؟؟ اکثریت اپنی کامیابیوں کے ذکر کا آغاز ’’ماشاء اللہ‘‘ سے کرتی ہے…
’’حسرت آمیز اچھا‘‘
اکثریت دوسروں کی فتوحات… کامیابی… خوشی کے ذکر پر ماشاء اللہ نہیں کہتی بلکہ ’’پیٹ سے لیکر گردن‘‘ تک رزق سے بھرے ہوئے دوسروں کی خوشی… فتح پر… نفع پر الفاظ کو کھینچ کر ’’اچھا‘‘ کہتی ہے… یہ ’’اچھا‘‘ کوئی خوشی کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ دوسرورں کی پوشیدہ حسرت کو باہر لا پھینکتا ہے… ’’ماشاء اللہ‘‘ صرف ہم سب کی ذات کیلئے… ’’اچھا‘‘ صرف دوسروں کیلئے… ’’دوسرا سوال‘‘ بھی من میں بڑا کلبلاتا رہتا ہے کہ جو اشخاص ایکڑوں تک پھیلے سامان آرائش سے آراستہ محلوں میں رہ کر بھی لاکھ دو لاکھ کے نقصان پر منہ میں پائپ دبائے گھنٹوں روتے رہتے ہیں… وہ دوسروں کو صرف چند ہزار کے جمع ہو جانے یا صرف ایک… دو لاکھ کے منافع پر کیسے ’’شکر ادا کرو‘‘ کی تلقین کرسکتے ہیں۔ ایک شخص جو زندگی کی تمام بنیادی ضروریات سے بڑھ کر ناجائز ضروریات کی حد بھی کراس کرچکا ہو‘ مال ودولت کے ڈھیر پر بیٹھا ہوا کس طرح غریب‘ درمیانہ طبقہ کو ’’جذبہ شکر‘‘ کا درس دینے کا اہل ہے۔ خود کوں نہیں ’’جذبہ شکر‘‘ کا مکلف بنتا؟ ماشاء اللہ کا لفظ صرف ہم اپنی ذات کے لیے ادا کرتے ہیں۔ دوسروں کی کامیابی پر مبارکباد یا خیر مقدمی الفاظ کہنے کا ہم میں یارا نہیں۔ اکثریت نے نظربد سے بچنے کا ’’قرآنی لفظ‘‘ صرف اپنی ذات کے لیے وقف کردیا ہے۔ اپنی ذات سے آگے ہمیں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ ہر شخص صرف اپنی ذات کی بقاء استحکام، فتح کی جنگ جیتنے میں مگن ہے۔ ہماری تجوریوں میں دوسروں کیلئے صرف ’’حسرت‘ حسد‘ بعض‘‘ جیسے جذبات ہی محفوظ پڑے ہیں۔ باقی سب کچھ ہماری ذات کی غرض میں ’’غتربود‘‘ ہوچکا ہے۔
ہم ہر لمحہ ہر جگہ‘ ہر وقت ’’جذبہ شکر‘‘ سمجھانے پر تیار مگر اس جذبہ کو کیوں خود پر لاگو کرنے پر ہرگز آمادہ نہیں ہو پاتے۔ ہمارے آگے پیچھے صرف ہمارا سایہ ہے‘ اس کا تحفظ ہی ہمارا اول وآخر مقصد ہے۔ ہر انسانی خول ان ’’سایوں‘‘ میں بند ہوچکا ہے۔ مروت‘ رواداری‘ ہمسائیگی‘ سب کب کے اڑچن ہوچکے۔ یہ سائے فول پروف حصار میں بند ہیں‘ یہ حصار ’’ریڈ زون‘‘ کا روپ دھار چکا ہے کہ جہاں ’’صرف میں‘‘ کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوسکتا تو ایسے میں ہم پر کوئی آفت نازل نہ ہو تو کیا ہو؟ خودکش دھماکے‘ فائرنگ‘ احتجاج، آگ نہ ہو تو کیا ہو؟ ہماری قومی وذاتی زندگیوں میں جو اس وقت انتشار‘ بے برکتی‘ ذہنی وجسمانی پریشانیاں‘ شدید تر صورت اختیار کرتے گھریلو اولاد کے معاملات، کبھی کسی نے سوچا کہ یہ مسائل کب پیدا ہوئے، کس کی وجہ سے پیدا ہوئے، کیوں ختم ہونے میں نہیں آرہے؟ زندگی سے‘ رزق سے‘ صحت سے‘ سلامتی وعافیت سے برکت کیوں اتنی تیزی سے ختم ہوتی چلی گئی؟ کوئی کیوں سوچے گا، سوچ بھی وہ سکتا ہے جو اپنی ذات کے ’’ریڈ زون‘‘ سے باہر نکلے۔
محبت کے جذبات کا ناپید ہوجانا، قرآنی تعلیمات کو اپنے مطالب کے مطابق استعمال کرنا اپنی ذات کے لیے ہر وقت طلب میں رہنا‘ دوسروں کو مدد کی بجائے صرف نصیحت‘ عدم برداشت‘ دوسروں کے دکھ سکھ سے اظہار عدم دلچسپی‘ غریب رشتہ داروں سے بیگانگی کی حد تک رویہ یہ سب رویے ہماری سماجی واسلامی زندگی کے خوبصورت تمدن‘ مہذب اسلامی عقائد ورویوں کو ’’خودکش دھماکوں‘‘ کی صورت میں اڑا چکے ہیں۔ آخر ہم کب تک صرف اپنی ذات کے تحفظ کے سوا دوسروں کے لیے کچھ کرنے کچھ سوچنے پر تیار ہونگے۔ موجودہ 90فیصد تباہی کے بعد نہیں تو پھر کیا 100فیصد تباہی کے بعد کہ جب کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔