مجاہد ملت؟ پرویز مشرف کی خوش فہمی؟

مجاہد ملت؟ پرویز مشرف کی خوش فہمی؟

پرویز مشرف ’’مجاہد ملت‘‘ تو کبھی نہیں تھے۔ ہم نے عنوان میں ظاہر ہے ان الفاظ کو طنزاً ہی لکھا ہے۔ 1999ء میں نواز شریف کی رواں دواں حکومت پر جنرل پرویز مشرف نے شب خون مارا اور جمہوری دور کا خاتمہ کر دیا۔ وزیراعظم ہائوس سے وزیراعظم نواز شریف کو گرفتار کر لیا گیا، ان پر ’’جہاز‘‘ کے اغوا کا مقدمہ قائم ہوا اور سزا بھی ہو گئی۔ سعودی عرب کے مرحوم بادشاہ عبداللہ نے کیا برا کیا اگر درمیان میں پڑ کر نواز شریف کی جان چھڑائی اور اپنے ملک میں ’’مہمان نوازی‘‘ کی۔ فوجی حکمرانوں کے اقدامات سخت ہوتے ہیں۔ وہ ایسی ہدایات جاری کرتے ہیں جیسے انہوں نے ’’مُلک‘‘ فتح کر لیا ہو اور قوم ان کی غلامی میں آ گئی ہو۔ ججوں کی اکثریت نے PCOکا حلف اٹھا کر نوکری بچانے کو ترجیح دی، مشرف کی فوجی عدالت کو جائز قرار دیا گیا۔ انہیں تین سال کی مدت قانونی طور پر فراہم کی گئی اور یہ کرم نوازی بھی فرما دی کہ وہ جو چاہیں آئین میں ترمیم کر دیں۔ 

بظاہر مشرف نے نیب کو بدعنوانی ختم کرنے کیلئے قائم کیا مگر اس ادارے کے ذریعے سیاستدانوں کو بلیک میل کر کے ایک سیاسی جماعت میں شامل کرایا گیا۔ اپنی کتاب میں مشرف بیان کرتے ہیں کہ مسلم لیگ (ق) انہوں نے قائم کی۔
جناب نواز شریف کی ایک رائے ہے، opinion ہے جس سے اختلاف ممکن ہے۔ وہ بھارت سے پُرامن تعلقات چاہتے ہیں۔ نواز شریف کے دور میں واجپائی نے پاکستان کا دورہ کیا، انہوں نے یہ جملہ بار بار کہا کہ ’’دوست تبدیل ہو سکتے ہیں پڑوسی تبدیل نہیں ہو سکتے… جناب نواز شریف دورے کے دوران واجپائی کو ’’مینار پاکستان‘‘ پر لے گئے… تسلیم پاکستان کے حوالے سے ایک خودمختار پاکستان کیلئے بی جے پی کے وزیراعظم کا یہ شاندار خراج تحسین تھا۔
حیرت کی بات ہے کہ جلد ہی ’’کارگل‘‘ ہو گیا… یہ ہمارا اس کالم میں موضوع نہیں ہے… کارگل کا فائدہ کیا ہوا…؟ مگر اس کے نتائج کے طور پر ہی نواز شریف کی منتخب جمہوری حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
مشرف کے ابتدائی دنوں میں پیپلز پارٹی کو انتظار رہا کہ نواز شریف کے مخالف، مشرف ضرور پی پی کو گلے لگائیں گے… مگر مشرف نے پی پی کو بھی ٹھکرا دیا البتہ اس کے لوگوں کو توڑ کر جن میں رائو سکندر مرحوم، فیصل صالح حیات، سلمان تاثیر کو اپنے ساتھ شامل کر لیا… دونوں جماعتوں کو دور رکھا گیا تو مسلم لیگ (ن) اور پی پی قریب آ گئے… دونوں نے بقائے باہمی کا معاہدہ کیا، لندن میں دستخط ہوئے۔
اس دوران بے نظیر نے امریکہ کے ذریعے مشرف سے خفیہ رابطے کئے۔
ابوظہبی میں ڈیل ہوئی، بس یہاں سے مشرف کے زوال کا آغاز ہوتا ہے۔ ایک مضبوط مسلم لیگ ق اور تابعدار ایم کیو ایم کے ہوتے ہوئے مشرف کو ڈیل کی کیا ضرورت تھی… آمر کی جان ’’وردی‘‘ میں ہوتی ہے۔ بے نظیر کے آنے کے بعد سیاسی زلزلہ آ گیا۔ مشرف کو سیاست کے رموز کہاں آتے تھے وہ پے درپے کمزور ہوتے چلے گئے…وردی اتارنی پڑ گئی۔ تابوت میں آخری کیل چیف جسٹس افتخار چودھری کو سبکدوش کرنا تھا۔ وکیلوں نے تحریک بے شک چلائی مگر وہ ناکام ہو گئی… آزاد عدلیہ کی تحریک کے اصل ہیرو نواز شریف ہیں۔ یہ ان کے لاہور سے اسلام آباد کے لانگ مارچ کا نتیجہ ہے۔ گوجرانوالہ میں پی پی حکومت نے ہتھیار ڈال دیئے جو عدلیہ کو آزاد کرنے کے خلاف تھی۔
بے نظیر کے خونِ ناحق کے بعد آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتا ہو گئے۔ جناب زرداری سازشی سیاست کے ماہر ہیں جسے وہ مفاہمت کا نام بھی دیتے ہیں۔ نواز شریف کو مشرف پر سخت غصہ تھا۔ زرداری صاحب نے نواز شریف کو کہا کہ وہ مشرف کو بیدخل کر دیں تو نواز شریف انہیں صدارتی منصب پر فائز کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے… نواز شریف نے ہاں کر دی۔ دونوں نے ملکر مواخذے کی تحریک پارلیمنٹ میں پیش کر دی۔ ’’کمانڈر‘‘ ’’بہادر‘‘ مشرف نے مستعفی ہو کر راہ فرار اختیار کرنے میں خیریت جانی۔
آپ اندازہ کیجئے مشرف نے محض فوجی طاقت کے ذریعے حکمرانی کی۔ سیاست سے یہ شخص بالکل نابلد تھا۔ جب سیاست کرنے کا وقت آیا تو یہ شکست کھاتا چلا گیا۔ اقتدار ہوتے ہوئے منصب کی حفاظت نہ کر سکا اور بھاگنے پر مجبور ہو گیا۔ آئین کے آرٹیکل 6 کی کارروائی کا مفرور مشرف… قوم کو کیا دے سکتا ہے۔
مگر دیکھ لیجئے… سیاسی فراست سے محروم مشرف اب بھی خوش فہمی میں ہے کہ وہ سیاست کے ذریعے اقتدار میں آ سکتا ہے۔ گمنام فرشتوں پر مشتمل ایک 23 جماعتوں کا اتحاد قائم کر کے دوبئی سے خطاب فرمایا ہے۔ مشرف کا حال یہ ہے
گو ہاہاتھ جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دَم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے
مشرف ایک بار پھر ’’قوم‘‘ کی قیادت کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ نواز شریف دشمنی ان کے دل سے جاتی نہیں۔ مناسب ہے کہ پہلے ’’ہمت‘‘ سے آرٹیکل 6 کے مقدمے کا سامنا کریں… سزا سے بچ جائیں تو بے شک قوم پر ’’مسلط‘‘ ہو جائیں مگر یہ ایسا خواب ہے جس کی تعبیر ممکن نہیں ہے۔ !