کچی ٹٹ گئی جنھاں دی یاری پتناں تے رون کھڑیاں

کچی ٹٹ گئی جنھاں دی یاری پتناں تے رون کھڑیاں

آپ لال مسجد کو بھی بھول جائیں اور شیخ رشید کی برسوں کی پرویز مشرف سے رفاقت بھی، بھولنے پر آئے تو آدمی کیا کچھ نہیں بھول سکتا۔ اردو شاعری میں لفظ ”شیخ جی“ اچھے استعارے میں استعمال ہوتا ہے۔ ہم بھی انہیں اچھا ہی لکھ رہے ہیں۔ ہوں گے راولپنڈی میں بے شمار انہیں بُرا کہنے والے بھی، ہمیں ان سے کیا مطلب۔ سید عبدالحمید عدم اپنے وقتوں کے شیخ جی کو ورغلانے بہکانے کی بہتیری کوشش کرتے رہے لیکن سُنا ہے کہ ناکام ہی رہے۔
شیخ جی آپ بھی پیا کیجئے
خلد والے تمام پیتے ہیں
شیخ جی کے انکار پر ایک اور بزرگ شاعر کو خاصا اختلاف بھی تھا
یہ جناب شیخ کا فلسفہ میری سمجھ میں نہ آ سکا
جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے
لیکن اپنے راولپنڈی والے شیخ جی کو بہکانے ورغلانے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ وہ گھاٹ گھاٹ کا پانی پئے ہوئے ہیں اور کئی اسمبلیوں اور وزارتوں کے مزے چکھ چکے ہیں۔ ذائقے اور سواد طرح طرح کے ہوتے ہیں۔
لیکن نہیں، میں سرِ دست وزارتوں کے سواد کا ہی ذکر کر رہا ہوں۔ خیر اسلام آباد میں عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ سے شیخ رشید کی لال حویلی تک کا سفر اک جہانِ داستان لئے ہوئے ہے۔ سچے عمران خان کائیاں شیخ رشید کے وارے کیسے آ سکتے ہیں۔ میں اپنے گرائیں اور تحریک انصاف کے نظریاتی کارکن جناب رانا نعیم الرحمان خاں سے ایس کیف و مستی، سرخوشی و وارفتگی کا عالم پوچھ رہا تھا جو عمران خان پر اس سفر میں طای رہا۔ یہ اس سفر میں عمران خان کے ہمرکاب تھا۔ لیکن وہ بیچارہ مجھے بتاتا بھی تو کیا بتاتا۔ اس نے بھلا دیکھا ہی کیا تھا۔ وہ عمران خان کی ہمراہی میں کچھ بے خود سا ہو جاتا ہے۔
اٹھارہ سے پچیس سال کی عمر کے پاکستانی لڑکے بالے عمران خان کے شیدائی ہیں، وہ اس کے کسی کام پر معترض نہیں، حتیٰ کہ لال حویلی کی یاترا پر بھی نہیں۔ یہ نوجوان پیر صاحب پگاڑا شریف کے حروں کا سا دین ایمان لئے پھرتے ہیں۔ ”میں جھوٹی، میرا مرشد سچا“ لال حویلی میں کیا تھا؟ ”مسجد میں ہے کیا شیخ، نہ پیالہ نہ نوالہ“ --- لال حویلی مسجد نہیں، لیکن یہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ صرف تھوڑے سے بھولے بھٹکے لوگ ضرور تھے۔ خلق خدا تماشا دیکھنے بھی نہیں آئی تھی۔ روز روز کے تماشوں سے آخر اڑوس پڑوس کا جی اچاٹ ہو جاتا ہے۔ پھر بھی تحریک انصاف کے کارکن اور عمران خان خود، ابھی امید کا دامن دونوں ہاتھوں سے پکڑے کھڑے تھے کہ چلو خیر ہے، لیاقت باغ التحریر اسکوائر بنا ہو گا وہاں پہنچنے پر خبر ہوئی کہ یہاں اور سب کچھ موجود ہے یعنی قناعتیں، شامیانے، کرسیاں وغیرہ، صرف خلق خدا موجود نہیں۔ کالم نگار قیوم نظامی نے لکھا ہے کہ میں نے ایک روز دن کے بارہ بجے تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شفقت محمود کو ٹیلی فون کیا، انہوں نے اپنے فون سے میسج بھیجنے شروع کر دئیے۔ کون کہتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کرتے، کبھی کبھی وہ یہ کام کر گزرتے ہیں۔ پیغام یوں تھا ”ان اطلاعات کی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ شیخ رشید پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں یا اس کی پارٹی کے ساتھ پی ٹی آئی کا کوئی اتحاد ہو رہا ہے۔“ شفقت محمود کے اس پیغام کے ساتھ ہی ایک ستم ظریف کا بھجوایا ہوا پیغام بھی موصول ہو گیا ”جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور شفقت محمود جیسے ’کیدو‘ انہیں زمین پر ملنے سے نہیں روک سکتے۔“ پھر جھٹ سے اس پیغام کی دوسری قسط بھی پہنچ گئی ”شفقت محمود سے کوئی پوچھے کہ اگر پنڈی کا جلسہ دو لاکھ کا ہو جاتا تو پھر بھی وہ یہ پیغام بھجواتے؟“ کوئی بتلا¶ کہ ہم بتائیں کیا۔ برادرم ڈاکٹر محمد اجمل نیازی کی عمران خان کے سونامی کی نالہ لئی میں ڈوبنے والی بات لاکھ غلط سہی لیکن نالہ لئی کے کنارے شیخ رشید کا یہ واویلا غلط نہیں ”کچی ٹٹ گئی جنھاں دی یاری، پتناں تے رون کھڑیاں“ ۔!