چراغوں میں روشنی نہ رہی

مختار جاوید منہاس
موت ایک اٹل اور ناگزیر حقیقت ہے جس سے کسی ذی روح کو مفر نہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ افراد کے آنے جانے سے نظام ہستی کی روانی متاثر نہیں ہوتی لیکن خالق کائنات کی قدرت کاملہ ایسی یکتا و بے نظیر ہے کہ ارب ہا انسانوں کو ایک دوسرے سے یکسر الگ خصوصیات عطا کرکے‘ فرض کی انفرادیت کو برقرار رکھتی ہے۔ وہ لوگ جنہیں کسی خاص ہدف کیلئے چن لیا جاتا ہے وہ عمر بھر اپنے مقصد حیات کی تکمیل کیلئے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ ان کے عزم صمیم کی راہ میں کوئی بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی حائل اور ان کی منزل کھوٹی نہیں کر پاتی۔ حضرت علامہ شاہ احمد نورانیؒ ایسے ہی ایک منتخب روزگار انسان تھے۔ وہ ایک بڑے باپ کے بیٹے تھے۔ ان کے والد گرامی حضرت شاہ عبدالعلیم صدیقیؒ بہت بڑی علمی و روحانی شخصیت تھے۔ وہ زندگی بھر اعلائے کلمة اللہ کیلئے کوشاں رہے۔ ان کی عالمگیر تبلیغی مساعی کے نتیجہ میں ہزاروں غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ تحریک پاکستان میں بھی ان کا کردار بے حد فعال اور نمایاں رہا۔
اپنے عظیم والد بزرگوار کی چھاپ مولانا شاہ احمد نورانیؒ کی شخصیت پر بہت گہری نظر آتی ہے۔ چنانچہ تبلیغ دین اور پاکستان کے ساتھ اٹوٹ وفاداری و جاں نثاری ان کی زندگی پر پوری طرح حاوی رہی۔ ایک طرف ورلڈ اسلامک مشن کے تحت تبلیغی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے طویل سفری صعوبتیں ان کے ہمرکاب رہیں‘ تو دوسری جانب استحکام پاکستان کیلئے ان کی ان تھک جدوجہد کی داستان‘ ایسی بے نظیر و بے مثال ہے کہ اپنے پرائے سبھی اس کے معترف ہیں۔ حضرت مولانا شاہ احمد نورانی 1970ءکے انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور جمعیت علمائے پاکستان کی پارلیمانی پارٹی کی قیادت سنبھالی۔سانحہ سکوت مشرقی پاکستان کو ناکام بنانے کیلئے مقدور بھر کوشش کی لیکن عالمی سازش اور اندرونی عاقبت نااندیشیوں کی ملی بھگت سے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت دو لخت ہو گئی۔ قومی اسمبلی میں دستور سازی کے عمل سے لے کر قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے تاریخی کارنامہ تک ہر ہر قدم پر ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا بھرپور اظہار ہوا۔
سواد اعظم اہلسنت کی شیرازہ بندی کیلئے مولانا کی مساعی .... کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ کے بعد جمعیت علمائے پاکستان کی صدارت کا منصب سنبھالنے پر انہیں ان گنت چیلنجر کا سامنا کرنا پڑا۔ حریف اگر ان کی فعال قیادت سے پریشان تھے تو درون خانہ کچھ لوگ انہیں ناکام بنانے کیلئے ریشہ دوانیوں میں مصروف تھے۔ لیکن ایسی تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے وہ جماعت کو ایک ایسی قوت بنانے میں کامیاب رہے جس کی اہمیت اور فعالیت کو سبھی نے تسلیم کیا ان کے طوفانی دورے‘ سیاسی اکابر کے ساتھ مثبت راہ و رسم اور عظیم الشانی عوامی اجتماعات نے ملت کے وجود میں ایک نئی روح پھونک دی اور حضرت قائد ملت اسلامیہ کے منفرد اعزاز کے مستحق قرار پائے۔
دینی سیاسی جماعتوں کے درمیان اشتراک عمل اور اتحاد کی جب کوشش کی گئی۔ مولانا شاہ احمد نورانیؒ کا نام ایسی تمام مساعی میں سرفہرست رہا اور ایسے ہر اتحاد کی قیادت کیلئے تمام قائدین ہمیشہ انہی کی ذات پر متفق ہوئے اسی حیثیت اور منصب جلیلہ پر وہ اپنی حیات مستعار کی آخری سانس تک فائز رہے۔ بدقسمتی سے اندرونی نقب زنی کی وارداتیں کچھ عرصہ کامیاب رہیں اور جمعیت علمائے پاکستان دو لخت ہو گئی۔ مولانا عبدالستار خاں نیازیؒ بڑے آدمی تھے۔ انہوں نے اپنے موقف سے رجوع میں عار نہ جانی لیکن آج بھی ان کے نام پر جمعیت کا ایک دھڑا موجود ہے۔ برا ہو سجادگی اور صاحبزادگی کے کاروبار کا ایک بڑے باپ کے بیٹے اسی آڑ میں مرکز سے کٹ کر مرکزی جمعیت کے نام کا پرچم لہراتے پھر رہے ہیں۔
اے کاش! حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ کا جانشین کوئی ایسا شخص ہوتا جس کے گرد ملت پورے اعتماد کے ساتھ جمع ہوتی علماءو مشائخ سے بہتر کون جانتا ہے کہ اپنے علم و فضل اور منصب و مقام کی بدولت کل بارگاہ رب العزت اور شافع محشر‘ سرور کائنات کے حضور آپ کو جواب دہ ہونا پڑے گا کہ ملت کے اجتماعی مقاصد سے اغماض کیوں برتا گیا؟
مولانا شاہ احمد نورانیؒ بھی یقیناً آپ کے دامن گیر ہوں گے اور امت مسلمہ کے خواص و عوام بھی کہ جسے جتنا زیادہ عطا کیا جاتا ہے اس سے حساب بھی اسی قدر کڑا لیا جاتا ہے۔
دائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا