پاکستانی وزیر خارجہ کا دورہ جرمنی

پاکستانی وزیر خارجہ کا دورہ جرمنی

امریکہ کے ایک میگزین فوربس نے دنیا کی طاقتور ترین خواتین کی ایک لسٹ جاری کی ہے جس میں سرفہرست جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کا نام ہے چھٹے نمبر پر سونیا گاندھی اور ساتویں نمبر پر امریکی صدر اوبامہ کی بیگم مشعل اوبامہ کا نام ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کی سیاست میں کانگریس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور کیونکہ کانگریس کی پسِ پردہ قیادت اس وقت سونیا گاندھی کے پاس ہے اس لئے اس کے طاقتور ہونے میں بھی کوئی شک نہیں ہے لیکن دلچسپ بات ہے کہ سونیا گاندھی بھارت کی طاقتور ترین خاتون ہونے کے باوجود کمزور ترین لیڈر بھی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بھارتی جنتا کو اطالوی سونیا فرنٹ لائن پر بطور حکومتی عہدیدار قبول نہیں ہے۔ یہی نہیں بلکہ اپنے بیٹے راہول گاندھی کو بھی بھارتی قبول نہیں کرتے اور اسے دھکے پر دھکے دیتے ہیں اور جس طرح بلاول زرداری کو پروٹوکول نہ دینے پر چند پولیس والوں کو معطل کر دیا گیا (جبکہ ان کا قصور کوئی بھی نہیں تھا کیونکہ بلاول کے پاس کوئی حکومتی عہدہ تو ہے نہیں) راہول گاندھی کو بھی اسی نوعیت کے پروٹوکول سے بہلایا جاتا ہے لیکن جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل واقعی بہت اہم اور طاقتور خاتون ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ یورپی یونین کی مضبوطی اور استحکام میں انجیلا مرکل کی کامیاب حکمت عملی اور پالیسیوں کا بہت عمل دخل ہے۔ اب یہ خبر آئی ہے کہ پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر آج جرمنی کے دورے پر جا رہی ہیں اور اس کی دعوت وزیر خارجہ حنا ربانی کو ان کے جرمن ہم منصب نے دی تھی۔ اگرچہ طے شدہ پروگرام کے مطابق وہ اپنے جرمن ہم منصب سے ہی فائنل ملاقات کریں گی اور پاکستان اور جرمنی کی دوستی کو مضبوط بنانے کے لئے کچھ اقدام بھی کریں گی لیکن انتخابات قریب ہونے کی وجہ سے اگر کسی طریقے سے حنا ربانی کھر کی ملاقات جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے ہو جائے تو پاکستان کی معیشت کو اس سے بہت فائدہ ہو گا۔ پاکستان کے موجودہ سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی جب برسلز (بیلجئم کا دارالحکومت) میں پاکستان کی طرف سے یورپی یونین میں پاکستانی سفیر تھے تو اس زمانے میں ان کی کامیاب خارجہ پالیسی سے انڈیا اور بنگلہ دیش کی کوششیں ناکام ہو گئی تھیں کہ پاکستانی مصنوعات کو یورپی یونین کے ممالک میں ڈیوٹی فری رسائی نہ دی جائے بالاخر یورپی یونین نے کامیاب سفارتکاری کے نتیجہ میں پاکستان کو یورپی یونین میں درجنوں مصنوعات ڈیوٹی فری بھیجنے کی اجازت دے دی۔ اب یہ پاکستان کی صنعت و تجارت کی بدقسمتی ہے کہ توانائی بحران حل نہ ہونے کی وجہ سے پیداواری یونٹ پوری پیداوار دینے سے قاصر ہیں جس کے نتیجہ میں درجنوں پاکستانی اپنے پیداواری یونٹ بنگلہ دیش اور دوسرے ممالک میں منتقل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور حکومت کو صرف اس وجہ سے اربوں کا ٹیکس نہیں ملے گا لیکن اسے تو چوبیس گھنٹے پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی قیمتیں بڑھانے سے دلچسپی ہے۔جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل سے ملاقات میں حنا ربانی کھر اس بات کو سیکھ کر آئیں کہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے اور اپنے وزیراعظم اور اعلیٰ قیادت کو سمجھائےں کہ اگر عوام کے سامنے جانا ہے تو پھر بجلی کے بل میں صرف بجلی کی قیمت کا اندراج ہونا چاہئے اور پٹرولیم کی قیمتوں کا تعین ماضی کی طرح صرف بجٹ میں ہونا چاہئے۔