پارلیمانی وفد کا ناکام دورہ¿ بھارت

پارلیمانی وفد کا ناکام دورہ¿ بھارت

پاکستان کے پارلیمانی وفد کے ارکان نے بھارت کا پانچ روزہ دورہ مکمل کر کے وطن واپسی پر جن خیالات کا اظہار کیا ان میں دو باتیں نمایاں تھیں ایک یہ کہ دورہ بھارت کے دوران تنازع کشمیر، سیاچن، سرکریک اور بھارت کی آبی جارحیت جیسے موضوعات پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ دوسرا وفد کے ارکان نے کہا دورہ کامیاب رہا، ملاقاتیں اور مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے، دونوں ممالک میں امن کی خواہش موجود ہے۔ اس پر ہمیں ایک دفتر میں پیر کی صبح حاضری لگانے کے بعد کلرکوں اور سینئر عملے کے درمیان جاری گپ شپ میں گھریلو مسائل اور بیویوں سے لڑائی جھگڑوں کے قصے سنائے جانے کا واقعہ یاد آ گیا ہے۔ چُھٹی کا دن گزار کر اگلے روز دفتر میں گاہے گاہے ایسے موضوعات پر تبادلہ خیالات ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ اس روز بھی ہر کوئی گھر میں ہونے والے بحث مباحثے، بچوں کے مسائل اور بیوی سے تُو تکار کی کہانی سُنا رہا تھا تو اچانک ایک سینئر کلرک مرزا صاحب نے ایک سینئر ساتھی قریشی صاحب سے سوال کیا کہ آپ نے کبھی گھریلو اونچ نیچ اور جھگڑے کی کوئی بات نہیں بتائی تو اس پر قریشی صاحب نے بڑے فاتحانہ انداز میں جواب دیا ہمارے گھر میں کوئی جھگڑا نہیں ہوتا، امن قائم رہتا ہے کیونکہ ہم نے تقسیم کار کر رکھی ہے۔ میں بیوی کے معاملات میں دخل نہیں دیتا اور وہ میرے امور میں لب کشائی نہیں کرتی۔ جبکہ بڑے بڑے مسائل میں نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں مثلاً ملکی سیاست اور سیاسی پارٹیوں کے کردار پر تبصرہ، پاکستان امریکہ تعلقات، اسلامی ممالک سے پاکستان کے تعلقات اور پاک چین دوستی کی تشریح، روسی صدر کے دورہ پاکستان کے علاقائی سطح پر ممکنہ اثرات وغیرہ یہ سب میرے موضوعات ہیں اور میری بیوی ان موضوعات پر کبھی رائے زنی نہیں کرتی، میری بات حرفِ آخر ہوتی ہے اس لئے ہمارے گھر میں امن اور شانتی ہے۔ قریشی صاحب کی گھریلو تقسیم کار کی طرح ہمارے پارلیمنٹرین بھی ویسی ہی تقسیم کار کے اسیر نظر آتے ہیں۔ وفد کے ارکان میں پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر جہانگیر بدر، اے این پی کے حاجی عدیل، مسلم لیگ (ن) کے خرم دستگیر اور انوشہ رحمان شامل تھیں، ان سب پارلیمنٹرین کو بھارت میں سب کی آنکھوں میں امن کی خواہش نظر آئی ہے۔ ان معزز ارکان پارلیمان کو بھارت کی آبی جارحیت یعنی پاکستان کو بنجر بنانے کا منصوبہ، بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بہنے والے دریا¶ں کا پانی اور مسلمانوں کا خون اور خواتین کی بے حرمتی، سیاچن اور سرکریک پر بھارت کا ناجائز قبضہ نظر نہیں آیا اگر ہمارے پارلیمنٹرین نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ان بنیادی مسائل کو دورہ¿ بھارت کے دوران پس پشت ڈال دیا تھا تو پھر ان کو بھارت میں سب کی آنکھوں میں خوشی اور امن کی خواہش ہی نظر آئے گی۔ ان بنیادی مسائل کو حل کئے بغیر پاکستان اور بھارت میں پائیدار امن کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ مسئلہ کشمیر اور بھارت کی آبی جارحیت کو زیر بحث نہ لانے والے ارکان پارلیمنٹ کس منہ سے اپنے دورے کو کامیاب کہہ رہے ہیں ان کو تو اس ناکام دورے سے واپسی پر منہ چھپا کر گھروں کو جانا چاہئے تھا۔