مرنا جینا ہو گیا مشکل

مرنا جینا ہو گیا مشکل

صدر مملکت آصف علی زرداری اپنے ولی عہد بلاول بھٹو زرداری اور وزیرخارجہ حناربانی کھر کے علاوہ قومی سلامتی کے محافظ رحمان ملک کے ہمراہ تہران میں غیر وابستہ تحریک کے 16ویں سربراہ اجلاس میں شریک تھے ٹھیک اسی روز پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ سے اغوا کئے گئے 12 فوجی جوانوں کے سر قلم کرنے کی دلخراش وڈیو اور تصاویر تحریک طالبان نے جاری کیں جبکہ ان دنوں کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں مسلسل ٹارگٹ کلنگ کی لہر شدت اختیار کرتی چلی جا رہی ہے اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بھی مسلسل جاری ہیں پاکستان کے دیگر شہر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ سخت گرمی اور حبس کے موسم میں بجلی اور پانی کی بندش نے ہر کسی کو بے حال کر رکھا ہے دوسری جانب پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ایک نیا عذاب بن کر عوام پر نازل ہو رہا ہے۔ ایک ہی دن میں قومی ائرلائن کے دو جہازوں کا خوفناک حادثوں سے دوچار ہونا اور پاکستان ریلوے کی انتہائی ناقص کارکردگی پوری قوم کیلئے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود وفاقی کابینہ کے وزراءکی اکثریت اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ یورپی ممالک میں گرمیوں کی چھٹیوں کے مزے لے رہے ہیں۔ بیوروکریٹس اور فوجی جرنیلوں کے بچے تو پہلے ہی بیرون ملک حصول تعلیم اور کاروبار کیلئے یورپ اور دوبئی میں رہتے ہیں ان مراعات یافتہ خاندانوں کو کیا پرواہ ہے کہ کراچی اور کوئٹہ میں ہر روز درجنوں گھر اجڑ رہے ہیں۔ چند روز قبل لاہور میں میرے خالہ زاد بھائی جہانگیر کی اہلیہ طویل عرصے علیل رہنے کے بعد انتقال کر گئیں چونکہ مرحومہ کی ایک بیٹی دوبئی میں مقیم ہے والدہ کے جنازے میں شرکت کیلئے ان کی بیٹی کی آمد کا انتظار کیا جانا تھا لہذا میت کو سخت گرمی اور حبس میں بغیر بجلی کے گھر میں ایک رات رکھا گیا شہر کے کولڈ سٹوریج میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے میت کو گھر ہی میں مجبوراً رکھنا پڑا میانی صاحب کے قبرستان میں میت کو دفنانے کیلئے 15 ہزار روپے کے لگ بھگ اخراجات ایک معمولی بات ہے ذرا اندازہ کریں کہ اگر عام آدمی جس کی ماہانہ تنخواہ 10 اور 20 ہزار کے درمیان ہو تو وہ اس طرح کے حالات کا کس طرح مقابلہ کریگا مرنے کے بعد جگہ بھی اب تنگ ہو چکی ہے روٹی کپڑا اور مکان تو اب محض ایک نعرہ ہی رہ گیا ہے اس طرح کے حالات اب پوری دنیا کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ پاکستان جو کہ اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ اس خداداد مملکت کو فلاحی مملکت بنانے کے خواب دکھانے والے سیاستدان اور فوجی آمر حکمرانی کر کے ملک کو اس قدر کھوکھلا کر گئے ہیں کہ اب مرکر بھی چند گز کی قبر حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ موروثی سیاست کو اس معاشرے کا حصہ بنا دیا گیا ہے اس سے بڑھ کر یہ کہ اب آنے والے عام انتخابات سے قبل منظم دھاندلی کی شروعات کا آغاز حکومت نے اپنی حامی میڈیا گروپس میں بھاری رقوم تقسیم کر کے دیا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک امر ہے۔ پاکستان کی عدالت عظمیٰ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تاریخ کے اس نازک موڑ پر اگر اب بھی اپنے قومی فرائض میں غفلت اور یکطرفہ پالیسی کے فارمولے پر عمل کرنے کے مرتکب ہوئے تو پھر اس بار معاشرے کی مکمل تباہی کے ذمہ دار پاکستان کے یہ ادارے عدلیہ اور میڈیا ہی ہونگے گذشتہ چند سالوں سے عوام کی اکثریت ملک کے جن چند اداروں پر مکمل اعتماد رکھتی ہے ان میں پاکستان کی آزاد عدلیہ اور میڈیا ہے کرپشن کے طوفان نے پورے ملک میں قبضہ مافیا، ڈرگ مافیا، اقتدار مافیا اور اغوا برائے تاوان کے کلچر کو فروغ دیا ہے ان تمام مافیاز کی پشت پناہی وہی ہاتھ کر رہے ہیں جو کہ عوام کا مرنا اورجینا مشکل بنا چکے ہیں یہ ہاتھ بیرون ملک اپنے بھاری اثاثے بھی مستقل کرچکے ہیں آنے والے دنوں میں اگر واقعی عام انتخابات کا انعقاد ہونا ہے تو پھر ہر قیمت پر ملکی خزانہ لوٹنے اور ٹیکس نادہندگان کا مثالی احتساب ہو اور اسکے بعد عام انتخابات ہوں اس بار کم از کم ان عناصر کو قومی انتخابات میں شریک ہی نہ ہونے دیا جائے جو کہ کسی نہ کسی حوالے سے کرپشن میں ملوث رہے ہیں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ جس معاشرے میں مرنے اور جینے کا حق بھی چھین لیا جائے وہاں عوام کی عدالت کس طرح غیر جانبدارانہ اور آزاد فیصلہ دینے کی پوزیشن میں ہو گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صدارتی، وزارتی، خاندانی اور ہر طرح کا اعلیٰ پروٹوکول ختم کیا جائے اور مملکت خداداد پاکستان کے ہر شہری کو بلا امتیاز وی آئی پی کہا جائے۔ اس ضمن میں آنے والے دنوں میں پاکستان کا میڈیا اور عدلیہ انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔