عساکر پاکستان کے پندار سے نہ کھیلا جائے

عساکر پاکستان کے پندار سے نہ کھیلا جائے

وطن عزیز میں بھلے جمہوریت قائم ہو‘ ادارے کام کر رہے ہوں لیکن اس بات سے کوئی بھی اہل وطن یا اہل اقتدار انکار نہیں کر سکتا کہ جب تک قوم کی پشت پر ایک غیور و شجاع فوج موجود نہ ہو تو ساری لن ترانیاں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں‘ پاکستانی فوج دنیا کی بہترین مشاق پیشہ ور فورس ہے‘ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے جذبوں کو شہادت کا پانی ملتا ہے‘ اس وقت ملک بھر میں فوج کے حوالے سے جو زیادتیاں مختلف اطراف سے ہو رہی ہیں‘ وہ دراصل دشمنوں کا عساکر پاکستان کے مورال کو پست کرنے کی تہہ در تہہ سازش ہے‘ ہماری فوج کا ہر جوان‘ افسر اور جرنیل سرحدوں کی حفاظت کے جذبے سے سرشار ہے‘ یہی وہ قوتِ ماسکہ ہے‘ جو آس پاس موجود گوناگوں دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی‘ افغانستان بدقسمتی سے امریکہ کے ہاتھوں بھارت کا کردار ادا کر رہا ہے اور افغانستان کی سرحد سے ہماری فوج کے خلاف ایک نفسیاتی و جان لیوا جنگ شروع کر دی گئی ہے‘ اب وقت ہے کہ قوم بیدار ہو‘ اپنے لئے ایسی غیور اور وفادار قیادت رائے جس کے زیراثر ہماری افواج دشمن کو بتا دیں کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے نہیںع
لاکھ کلیم سربجیت ایک مجاہد جابکت
یہ بات بھی سامنے آئی ہے‘ کہ اللہ بہتر جانتا ہے‘ کس نے پاکستانی فوجیوں کو شہید کر کے ان کی تصاویر میڈیا کے حوالے کر دی ہیں۔
ظاہر ہے کہ یہ تصویریں‘ فوج اور ان کے لواحقین بھی دیکھیں گے‘ دشمن یہ سمجھتا ہے کہ جب تک پاکستانی فوج کے جذبے سرد نہیں پڑتے انہیں کوئی زیر نہیں کر سکتا‘ ہماری میڈیا ہماری خبررساں ایجنسیوں کو بھی دوسرے ملکوں کی ایجنسیوں کی طرح یہ تربیت حاصل کر لینی چاہئے کہ خبر کو کسی طرح اپنی قوم و ملت کے حق میں موڑنا ہے‘ یہ نہیں کہ خبر لی اور جوں کی توں نشر کر دی‘ کیونکہ حق و باطل کی جنگ چھڑ چکی ہے‘ اور ایسے میں اپنی طاقت کے جذبے بلند کرنے کیلئے اپنی مطلب کی خبریں دینا چھاپنا جائز ہے‘ ہماری افواج نے دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار‘ حوصلہ مند اور بردبار فوج ہے‘ وہ اس جمہوری نظام کے تابع ہے جو ملک میں نافذ ہے‘ اور ہر حال میں ضبط کا بندھن تھامے اپنے سپریم کمانڈر کی حکم عدولی کا سوچتے بھی نہیں‘ بلاشبہ ایسی منظم فورس دنیا میں فتح کے جنڈے گاڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے‘ فوج ایٹم بم سے بڑھ کر ہمارا ڈیٹرنٹ ہے‘ کیونکہ ہر اسلحہ اسی کے ہاتھوں استعمال ہونا ہے‘ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جذبہ¿ شہادت ناقابلِ تسخیر ہے‘ اور اسی کے باعث دشمن قوتیں اسی جذبے کو ختم کرنے کے درپے ہیں‘ بھارت نے اسلحہ کے انبار اپنے عسکری خوف کے زیراثر لگا رکھے ہیں‘ کہ
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
زیادہ دور کی بات نہیں کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں N.C.C کے تحت طلبہ کو عسکری تربیت بھی دی جاتی تھی‘ اور اس طرح عساکر پاکستان کو ایک سیکنڈ فائٹنگ لائن میسر آ گئی تھی‘ لیکن پھر کسی سازش کے تحت یہ طلبہ کی سطح پر فوجی تربیت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ حق تو یہ ہے کہ مسلمہ امہ میں اب بھی پوری قوم کے فوج ہونے کا تصور موجود ہے لیکن اس پر عمل موقوف ہے‘ دشمن ہمیں ہمارے بہترین ماضی سے کاٹ چکا ہے‘ اب بھی یہ سلسلہ پھر سے شروع کیا جا سکتا ہے‘ مرد و زن میں نیشنل کیڈٹ کور کا ہونا ملک کی عسکری قوت میں خاطر خواہ اضافہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اغیار کے مشوروں سے ہٹ کر ہمیں اپنی زندہ روایات کو اپنانا چاہئے‘ یہ فوج ہی ہے جس کے باعث آج ہمارا ایٹمی اسلحہ محفوظ ہے‘ حضرت عمرؓ نے ایک آرڈیننس کے ذریعے فوج کو شہر سے باہر رہنے کی ہدایت جاری کی تھی‘ اور فوجیوں کو عام لوگوں سے کسی قدر دور رکھا جاتا تھا‘ مگر آج شہر کے انتہائی گنجان آباد علاقوں میں چھا¶نیاں بنائی جاتی ہیں‘ یہ عسکری فلسفے کے خلاف ہے۔ آخر میں ہم پھر یہ کہیں گے کہ پوری قوم اور اس کے حکمران اپنی فوج پر پوری توجہ دیں‘ ان جدید اسلحے سے لیس کریں‘ ان کے شب و روز کو خوشحال بنائیں‘ اور سب سے بڑا کر یہ کہ ان کی عزت و حرمت کا خاص خیال رکھیں۔ میڈیا اس میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔