تہران کانفرنس : امریکہ کی شکست

تہران کانفرنس : امریکہ کی شکست

تہران میں منعقد ہونے والی ناوابستہ ممالک کی سربراہ کانفرنس کے نتائج اس لحاظ سے انتہائی حیران کن ثابت ہوئے ہیں کہ دنیا بھر میں یہ خیال عام تھا کہ نام نہاد سپر پاور امریکہ کا رُعب اور دبدبہ اتنا زیادہ ہے کہ اب اس کی استعماری قوت کو عالمی برادری میں کوئی بھی طاقت آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیلنج نہیں کر سکتی اور خود امریکہ کو بھی یقین تھا کہ غیر جانبدار تحریک کے رکن 120 ممالک کی حکومتیں اپنے اس تاریخی اجتماع میں ہرگز ہرگز ایران کے پُرامن ایٹمی پروگرام کی حمایت کے اعلان کی جرا¿ت نہیں کر سکیں گی لیکن انتہائی تعجب کا مقام ہے کہ دنیا بھر کی تقریباً دو تہائی اقوام نے تہران کانفرنس میں امریکی جبرو استبداد کی کوئی پروا نہیں کی اور عالمی برادری نے دیکھ لیا ہے کہ اب وہ بین الاقوامی امن و سلامتی اور ترقی پذیر قوموں کی پیشرفت میں نام نہاد سپر پاور کی للکار کو رکاوٹ نہیں بننے دے گی۔ کانفرنس کے دو روزہ سربراہ اجلاس کے بعد منظور شدہ مشترکہ اعلامیے میں نہ صرف ایران کے پُرامن جوہری پروگرام‘ فلسطین کی آزادی کی حمایت اور شام میں مداخلت کے امریکی عزائم کی کھلم کھلا مخالفت کی گئی ہے بلکہ امریکہ کو اس خطے میں دخل اندازی بند کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔ یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ خود امریکہ کے بااثر روزنامہ نیویارک ٹائمز کے علاوہ برطانیہ‘ جرمنی اور دیگر مغربی ملکوں کے عالمی شہرت رکھنے والے اخبارات نے تہران کانفرنس کے فیصلوں پر نہ صرف حیرت کا اظہار کیا ہے بلکہ انہیں امریکہ کے منہ پر طمانچے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ان اخبارات نے اپنے اداریوں اور دیگر تبصروں میں لکھا ہے کہ اب یہ بات عالمی برادری کے سامنے واشگاف انداز میں سامنے آ گئی ہے کہ امریکہ، ایران کے پُرامن ایٹمی پروگرام کو دھونس، دھمکیوں سے بند کرانے کی جو کوششیں گزشتہ آٹھ دس سال سے کرتا رہا ہے، وہ رائیگاں ثابت ہوئی ہیں اور خود نام نہاد سپر پاور اپنی دیرینہ سعی ¿ لاحاصل پر شرمندہ ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ناوابستہ ممالک کی تنظیم، جسے غیر جانبدار تحریک اور تیسری دنیا کے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے، اس میں کرہّ ارض کے 192 میں سے جو 120 ممالک شامل ہیں، ان میں سے متعدد ایسے بھی ہیں جن کے امریکہ سمیت مغربی طاقتوں اور اسرائیل کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں لہٰذا ان تمام ملکوں کی جانب سے مشترکہ اعلامیے پر دستخط ہونے سے پوری دنیا حیرت سے چونک گئی ہے اور اب امریکہ آئندہ کس منہ سے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں اور ایجنسیوں میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف آواز بلند کر سکے گا۔ اعلامیے میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ایران کو بھی توانائی کے وسائل میں اضافے کی خاطر اپنے جوہری منصوبوں کو ترقی دینے کا اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا کہ مغربی طاقتوں کو ہے لہٰذا امریکہ اور دیگر مغربی طاقتیں اب اس پروگرام کے خلاف شور و غوغا ہمیشہ کے لئے بند کر دیں۔ تہران کانفرنس کے کامیاب انعقاد سے امریکہ کا ایک اور دعویٰ بھی جھوٹ ثابت ہو گیا ہے اور وہ یہ کہ ایران عالمی برادری میں اپنے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے تنہا ہوتا جا رہا ہے حالانکہ ایرانی دارالحکومت میں منعقد ہونے والی ناوابستہ ممالک کی 16ویں سربراہ کانفرنس اس لحاظ سے تاریخ ساز ثابت ہو گئی ہے کہ اس کے نتائج کے بارے میں تمام تر امریکی توقعات دھری کی دھری رہ گئی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر یہ تاثر پیدا ہو گیا ہے کہ ایران کا ایک نئی ابھرتی ہوئی جوہری قوت کی حیثیت سے امیج اس لحاظ سے بہتر ہو گیا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام واقعی پُرامن ہے اور اس کے خلاف مغربی طاقتوں کا پروپیگنڈا سراسر غلط ثابت ہو گیا ہے۔ تہران کانفرنس کا ایک اور خوش کن پہلو یہ بھی ہے کہ ناوابستہ ملکوں کی اگلی چار سالہ سربراہ کانفرنس بھی وینزویلا میں کرنے کا فیصلہ ہوا ہے جو امریکہ کے لئے ایک شکست ہے۔