بڑھتے سوشل میڈیاکے اثرات و امکانات

بڑھتے سوشل میڈیاکے اثرات و امکانات

اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں پاکستان میں الیکٹرونک میڈیا کے بے تحاشا پھیلاﺅ نے انقلابی سے زیادہ ہنگامی صورت پیدا کر دی۔ بڑے بےہودہ بے ہنگم طریقے سے بریکنگ نیوز ہیضے کی وبا کی مانند ہر چینل پر برپا ہے۔ریٹنگ کے خبط میں ہر چرب زبان اور بدکلام اینکر بن بیٹھا۔ٹاک شوز میں وہ مہمان زیادہ دکھائی دیتے ہیں جو زبان دراز اور جھگڑالو ہوں۔ میڈیا جس کا مقصد عوام کو قوم و ملت کے خوشگوار مثبت پہلو دکھانا اور لوگوں کی تربیت کےلئے شائستگی‘ وقار و احترام کے رویوں کو پروان چڑھانا ہے۔ مگر ہمارا گمشدہ منزل میڈیا ہر وہ شکل ومنظر دکھائے گا جس سے قوم میں بے چینی بزدلی اور مایوسی پھیلے اور بیرونی سطح پر بدنامی کے ساتھ پاکستانی معاشرے کی شکل نہایت سفاکانہ او رتہذیب سے عاری دکھائی دیتی ہے۔ جہاں تک سوشل میڈیا کا تعلق ہے پوری دنیا کو اس کی غیر ذمہ داری کا سامنا ہے۔ وکی لیکس جیسے بیشمار واقعات دنیا کو درپیش ہیں۔ ہر ایجاد انسان کی فلاح اور آسانی کےلئے ہوتی ہے مگر استعمال کرنے والے اپنی سوچ اور ذہنیت کے مطابق اس میں سے منفی پہلو ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ بیرونی ممالک کے حالات بتاتے ہیں کہ اب کاغذکا استعمال ختم ہوتا جا رہا ہے۔ خطوط‘ اخبارات‘ میگزین اور دفتروں کے رجسٹر ناپید ہیں۔ حدتو یہ ہے کہ بینک کی چیک بک‘ جہاز کی ٹکٹ تک متروک ہوتی جا رہی ہے۔ بڑی سے بڑی لائبریری سکڑ کر ایک بالشت کی مشین میں سموجاتی ہے۔
اسی موضوع پر حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ نے ایک سیمینار کا اہتمام کیا۔ راقم کی معلومات کے مطابق میڈیا سے متعلق افراد کی تربیت کا اس کے سوا لاہور میں کوئی دوسرا ادارہ نہیں۔ ادارے کے ناظم معاشرے میں پھیلے مسائل کو جس میں میڈیا بہتری لاسکتا ہے بڑی مہارت سے تلاش کرکے زیر بحث لاتے ہیں۔ انسٹیٹیوٹ میں سینکڑوں سیمینار مذاکرے اور ورک شاپ منعقد ہو چکی ہیں جس میں سٹیزن جرنلزم سے لیکر کارٹون جرنلزم تک کو ابلاغ کا اہم ترین ذریعہ بتایا گیا۔ جناب ابصارعبدالعلی ایک تجربہ کار منجھے ہوئے صحافی شائستہ کلام مہذب انسان ہیں ان کی بلند اخلاقی اور گفتگو میں الفاظ کے چناﺅ نے انہیں ہر دل عزیز میزبان کا مقام دیا ہے۔ شاید ہی کوئی مہمان ایسا ہو جو ابصار عبدالعلی کی دعوت کو ٹال سکے۔
تلاوت کلام پاک کے بعد میزبان نے موضوع کے تعارف کا آغاز کچھ یوں کیا کہ غالب نے خط کو آدھی ملاقات کہا جو عرصہ دراز تک رہی مگر ٹیکنالوجی کے پہیے نے رفتار پکڑی تو خط سے ٹیلی فون تک پہنچی اب ملاقات تین چوتھائی ہوگئی۔ سوشل میڈیا کے الف لیلوی پھیلاﺅ نے تو ہمیں گمان سے آگے پہنچا دیا۔ ویڈیو چیٹ تو پوری ملاقات کا درجہ رکھتی ہے۔ ابصار عبدالعلی نے کہا کہ اگر مجھ سے کمپیوٹر کا اردو ترجمہ کرنے کو کہیں تو غزل کروں گا۔ غزل محبوب کو سامنے بیٹھا کر باتیں کرنے کا نام ہے۔ سیمینار سے عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ سوشل میڈیا آج کے جدید گلوبل ویلج کے تصور میں میڈیا کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے۔ تحریک انصاف پاکستان کی پہلی سیاسی تنظیم ہے جس نے میڈیا کی افادیت کا نہ صرف احساس اجاگر کیا بلکہ اس کی برق رفتار سروس سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے عوامی رابطے کا ذریعہ بنایا۔ انٹرنیٹ کی سہولت سے ایک کروڑ سے زائد لوگوں کو پارٹی میں شامل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک کلک پر دنیا کی ہر خبر ہر نگر تک رسائی ممکن ہے۔ چیمہ کے بعد ماہر تعلیم ادیب جاودانی نے اپنے ادوار کا تذکرہ کیا۔
تقریب کے مہمان خصوصی اطلاعات کے وزیر مملکت صمصام بخاری نے کہا کہ میر اتعارف پیپلزپارٹی کا کمیٹڈکارکن کے طور پر کرایا گیا۔ پارٹی ناراض ہو یا کوئی راضی میری کمیٹمنٹ پاکستان سے اتنی ہے جتنی میری اولاد سے بھی نہیں۔ ہماری صحافت میں حمید نظامی مجید نظامی جیسا کوئی دوسرا نہیں اور نوائے وقت کی جمہوریت اور نظریہ پاکستان کے لئے خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں سچ بولنے اور سچ سننے کی عادت نہیں پہلے بزرگی تقویٰ پر تھی اب عزت کا معیار صرف دولت ہے۔ پوری سوسائٹی میں فالٹ ہے۔ پہلے رشوت خور سے رشتہ نہیں ہوتا تھا اب بالکل الٹ ہے۔ حلال و حرام کی تمیز نہیں حالات کی ذمہ داری علماءپر بھی ہے۔ سوشل میڈیا جتنی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ہمارا معاشرہ اس رفتار زوال پذیر ہے۔ ہمارے پارک‘ ہمارے پلے گراﺅنڈ خالی ہو گئے میرا دیہاتی پس منظر ہے جہاں پہلے بیٹا سکول سے آتا تو والد کا ہاتھ بٹاتا مگر آج موبائل ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہی حال نادان بچیوں کا ہے۔ موبائل کے ذریعے سنہرے خواب کے تصور میں زندگی برباد کر لیتی ہیں۔ ابھی ہم ارتقائی منازل ہیں۔ صمصام بخاری نے کہا ہمیں کسی کی کاپی کرنے کی ضرورت نہیں ہماری ترکیب مختلف ہے۔ طلبہ کو انٹرنیٹ علم کے حصول کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔ ٹیوٹر‘ یوٹیوب اور فیس بک وہ طاقت ہے اس سے جو بگڑ گیا واپسی مشکل ہے۔ سمت درست ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے۔سیمینار خاصا پرو قار اور معنوی حیثیت کا حامل تھا موضوع اتنا وسیع ہے کہ مزید پروگرام درکار ہیں۔ سوشل میڈیا وہ سافٹ ویئر ہے جو افراد اور اداروں کے درمیان ابلاغ و مواصلات کا سریع الحرکت اور سستاترین ذریعہ ہے۔ سابقہ نظام کے مقابلے میں آسان کم خرچ ہونے کے باعث ناگزیر ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا سے ایک جانب قومی یکجہتی، اتحاد کو موثر اور مضبوط بنایا جا سکتا ہے تو دوسری سمت بین الاقوامی سطح پر عالمگیریت میں ہمہ گیر کردار اداکر سکتا ہے۔ معاشرتی فلاح صنعت و تجارت میں سیل پروموشن مارکیٹنگ ریسرچ‘ سیاحت کے فروغ ، تعلیم وسائنس کی ترقی کے لئے بھی نہایت سو دمند ثابت ہوسکتا ہے مگر منفی سوچ اور کج فہمی کا شکار لوگ اس کو فحاشی‘ افوہ سازی‘ بلیک میلنگ کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں بالخصوص موبائل فونز کے پیکج نسل نوکےلئے اخلاقی تنزلی بے راہ روی کے راستے فراہم کرتے ہیں۔ حکومت کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی بچوں کی نگرانی کرنا لازم ہے۔