اصل دہشت گرد کون ہے؟

اصل دہشت گرد کون ہے؟

تہران میں غیروابستہ ممالک کی منعقد ہونے والی 16ویں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے یہ صرف پاکستان نہیں پوری دنیا کی جنگ ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ پاکستان ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات اور خطے میں امن چاہتا ہے۔ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پرامن بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ افغانستان میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے حمایت جاری رکھیں گے۔ شامی حکومت عوامی امنگوں اور جمہوری جذبات کا احترام کرے۔
صدرمملکت آصف علی زرداری نے درست کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان نہیں پوری دنیا کی جنگ ہے اور اس کے خاتمے کے لئے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ دہشت گردی کی جنگ امریکہ نے خود پوری دنیا میں شروع کر رکھی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ امریکہ نے نائن الیون کے ایک نام نہاد ڈرامے کے بعد افغانستان پر جو یلغار شروع کی اور اسی طرح عراق پر جو جنگ مسلط کی گئی اس کا مقصد صرف اور صرف مسلمان ممالک کے خلاف امریکی پالیسیوں اور جذبات کو عملی جامہ پہنانا تھا جبکہ اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ افغانستان میں موجود معدنیات اور عراق میں تیل کے ذخائر پر امریکہ کی نظر ہے جس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے امریکہ نے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو لقمہ اجل بنا دیا اور اپنی آزادی اور اس کی فرعونی طاقتوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کے خلاف امریکہ آج بھی جدید اور مہلک ہتھیار استعمال کر رہا ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کوئی بھی ملک استعمال نہیں کر سکتا۔ جبکہ اس کی اپنی معیشت افغانستان جنگ کی وجہ سے بھاری بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ دہشت گردی کی اسی امریکی نام نہاد جنگ نے پاکستان کو گذشتہ کئی سالوں سے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جب سابق آمر جنرل (ر) پرویزمشرف نے وطن عزیز کو امریکہ کی نام نہاد جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی بنایا اور حکمرانوں کی طرف سے ان جہادی تنظیموں کو کرش کرنے کے نتیجہ میں ملک کے اندر مزاحمت کی ایک تحریک برپا ہوئی جس پر قابو پانے کے لئے تو کوئی اقدامات نہیں کئے گئے البتہ ملک کے اندر سے لاپتہ افراد کا ایک نیا ڈرامہ اور ظلم شروع ہو گیا جو آج تک کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے جبکہ دوسری طرف بھارتی را، اسرائیلی موساد اور امریکی سی آئی اے نے ایسے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے ملک میں اپنے ایجنٹ پیدا کرنے شروع کر دیئے اور اپنے ہمارے ملک میں بھیجے گئے ایجنٹوں کے ذریعے دہشت گردی کے واقعات رونما کروانے لگے جن کے نتیجہ میں وطن عزیز کے اندر خودکش بم دھماکوں کی خوفناک لہر نے جنم لیا جس کے باعث ہزاروں بے گناہ افراد اپنی زندگیوں کی بازی ہارنے لگے۔ دہشت گردی کی اس لہر کی ایک طرف امریکی سی آئی اے، بھارتی را اور اسرائیلی موساد ہوا دے کر اس کی سرپرستی کرتے رہے تو دوسری طرف ان تمام واقعات کی آڑ لے کر جہاد کو بدنام کرنے کی سازشیں کی جاتی رہیں۔ اس صورتحال میں ملک کے اندر وہ ملک جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا دینی قوتوں اور حکمرانوں کے درمیان بہت واضح خلاءپیدا ہو گیا جس کو پر کرنے میں حکمران تادم تحریر ناکام ہیں اسی لئے آج بھی امریکہ کی طرف سے شمالی وزیرستان جیسے علاقوںمیں ڈرون حملے کئے جاتے ہیں اور امریکہ کی طرف سے بار بار شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں امریکہ کے ساتھ مل کر پاک فوج آپریشن کرے۔ ابھی گدشتہ روز ہی امریکہ کے جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں میزائل حملے میں چھ افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس سے قبل عیدالفطر کے تین چار ایام تک امریکی ڈرون طیارے شمالی وزیرستان کے علاقوں میں پروازیں کرتے رہے اور ڈرون برساتے رہے جس کے نتیجہ میں ڈیڑھ درجن سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ کیا امریکہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ لڑ رہا ہے معصوم اور بے گناہ افراد کو قتل کرکے ان کا ناحق خون بہایا لوگوں کو حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے پر اکسا رہا ہے اور مجبور کر رہا ہے کہ وہ تنگ آکر حکمرانوں کے خلاف بھڑک اٹھیں اور اندرون ملک دہشت گردی کے واقعات کو ہوا دی جا سکے۔ سابقہ حکومت کے جانے کے بعد جب سے پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت معرض وجود میں آئی ہے تب سے آج جب کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کو ساڑھے چار سال کا عرصہ بیت چکا ہے تمام قرائن چیخ چیخ کر اعلان کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت بھی امریکہ نواز پالیسیوں میں سابق صدر اور بدترین آمر جنرل(ر) پرویزمشرف کی حکومت کی کاربن کاپی سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔ موجودہ حکومت نے بھی ہر موڑ اور مرحلے پر ملک اور قوم سے بے وفائی کرتے ہوئے امریکہ سے وفا کی ہے۔ کیا یہ موجودہ حکومت کی جمہوریت ہے جس کو وہ عوامی حسن کا نام دیتے ہیں اور عملی طور پر امریکی خوشنودی کو اپنا نصب العین بنائے ہوئے ہیں۔ تاہم صدرمملکت آصف علی زرداری نے درست کہا ہے کہ دہشت گردی سے پاکستان نہیں پوری دنیا کی جنگ ہے مگر ان کو بتانا ہو گا کہ کیا ان کی حکومت نے دہشت گردی کے حقیقی خاتمے کے لئے کوئی کردار ادا کیا ہے۔ کیا کبھی امریکہ کو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے انکار کیا گیا ہے۔ بلاشبہ ایسا نہیں کیا گیا تو پھر دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے۔ اصل دہشت گرد تو امریکہ ہے جو یہودی صیہونی لابی کے اشاروں پر مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح شہید کر رہا ہے۔امریکہ کی تابعداری میں مسئلہ کشمیر کا پرامن حل اور آزاد فلسطین ریاست کے قیام کا خواب بھی کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔