کیا علم کتابوں کی بجائے ٹاک شوز میں آگیا ہے؟

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
کیا علم کتابوں کی بجائے ٹاک شوز میں آگیا ہے؟

پہلے کہا جاتا تھا کہ علم کتابوں میں ہے لیکن اب یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ علم ٹاک شوز میں ہے۔ ٹاک شوز کے اینکر پرسنز اور ان کے مہمانوں کی گفتگو کو سنیں تو یہی ثابت کیا جا رہا ہوتا ہے کہ ان کے دلائل علم و دانش سے بھرپور ہیں اور ان کی رائے حرف آخر ہے۔ بعض تو سورج کی روشنی کو بھی رات کا اندھیرا ثابت کر کے اپنے آپ کو سقراط جیسی عظمت کا حقدار سمجھتے ہیں۔ اگر حقیقت معلوم کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ موجودہ اینکر پرسنز اور ان کے مہمانوں میں سے اکثر ایسے ہیں جنہوں نے اپنی تعلیمی ڈگری لینے کے بعد کوئی کتاب تو دور کی بات کبھی قاعدہ کھول کر بھی نہیں دیکھا۔ انہی اینکر پرسنز اور مہمانوں میں سے اکثر ایسے ہیں جنہیں صبح کے اخبارات کی خبریں تک معلوم نہیں ہوتیں ۔

تاہم اس تمام خالی پن کے باوجود اکثر اینکرپرسنز اور ان کے مہمان شیکسپیئر کے اُس قول کو خوب نبھاتے ہیں کہ یہ دنیا ایک سٹیج ہے اور ہر انسان اپنی اپنی ایکٹنگ کرتا ہے۔ بہر حال جو اینکر پرسنز اور مہمان واقعی علم و دانش رکھتے ہیں وہ بھی عقل کُل کی رینکنگ سے نیچے اترنے کو تیار نہیں ہوتے ۔حالانکہ علم و دانش کا پہلا تقاضا سیکھنا ہوتاہے۔ اور سیکھنے کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے جہاں یہ عمل رک جائے وہاں علم ودانش رک جاتی ہے ۔ مگر کیا کریں ہمارے اینکرپرسنز اور ان کے مہمان گرامی ہر طرح سے سیکھے سکھلائے ہیں۔ صحافت معاشرے میں شعور لانے کا ذریعہ تھی جس سے معاشرے میں بہتر تبدیلیاں رونما ہوتیں اور وہ معاشرہ فلاحی معاشرے کی راہ پر گامزن ہوتا ۔جب سے ہمارے ہاں ٹاک شوز کا مافیا پیدا ہوا ہے اس وقت سے اب تک جائزہ لیں تو عوام کی زیادہ رائے یہی سامنے آتی ہے کہ یہ ٹاک شوز بہتری کی بجائے فساد کا باعث ہیں ان سے سوسائٹی میں مثبت تبدیلی کی بجائے انتشار برپا ہوا ہے۔ انہی کی وجہ سے سوسائٹی کئی گروہوں میں بٹ گئی ہے۔ سوسائٹی تو ایک طرف ٹاک شوز نے گھروں کے اندر بھی تقسیم پیداکر دی ہے ۔ کیا یہ بات جو اکثر کہی جار ہی ہے غلط ہے کہ اگر آپ ایک ہفتہ ٹاک شوز نہ دیکھیں تو آپ ذہنی سکون میں رہتے ہیں اور اگر ٹاک شوز مسلسل دیکھیں تو آپ کے مزاج میں چڑ چڑا پن پیدا ہو نے کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر کے مریض بن جانے کا خطرہ بھی لاحق ہوتا ہے۔
سوسائٹی میں انفرادی اور اجتماعی انتشار و بدسکونی کا زیادہ تر باعث اکثر وہ اینکر پرسنز اور مہمان گرامی ہوتے ہیں جو حالات حاضرہ کی تشریح علم و دانش کی بجائے ایجنڈے کی پرچی کے ذریعے کرتے ہیں۔ پہلے صحافت اور صحافی کو دیر تک یاد رکھا جاتا تھا یعنی ہم اب بھی تاریخ میں نامور صحافیوں کا ذکر شان سے پڑھتے ہیں اُس کی وجہ یہی تھی کہ ان صحافیوں نے ایجنڈے کی پرچی کی بجائے اپنی صحافت کے تجزئیے علم و دانش کی کسوٹی پر کیے۔ اُن صحافیوں کی عمر صدیوں پر محیط ہے لیکن آج کل کے اکثر اینکر پرسنز کی شناخت ٹاک شو ز کا وقت ختم ہونے تک ہی رہتی ہے اور اگر انہیںایک ٹاک شوکی ملازمت سے فارغ کر دیا جائے اور کوئی دوسرا ٹاک شو کا پلیٹ فارم نہ ملے تو لوگ انہیں بھول جاتے ہیں۔ گویا وہ دلہن ایک رات کی ہوتے ہیں۔ ایسے ہی اکثر اینکر پرسنز کو روزانہ ایک گھنٹے تک مائیک اور سکرین پر بٹھا دینے سے معاشرے پر وہی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو درخت پر بیٹھے کسی فلاں کے ہاتھ میں بندوق آجانے سے ہوتے ہیں۔ ہمارے اینکر پرسنز اور مہمانوں کی گفتگو کا سو فیصد فوکس سیاست ہوتی ہے حالانکہ سوسائٹی میں سیاست کے ساتھ ساتھ اور بھی بے شمار ایسے موضوعات ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن چونکہ ہمارے اکثراینکر پرسنز اور ان کے مہمانوں کی روزی روٹی ایجنڈے کی پرچی سے جڑی ہوتی ہے اس لیے وہ دوسرے موضوعات کی بجائے صرف سیاست پر ہی گفتگو کرتے ہیں یہ افراد سیاسی حالات کی تشریح اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت کر کے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ یہ افراد اپنی مخصوص تشریح کو لوگو ں کے ذہنوں میں ٹھونس کر انہیں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ جو اپنی نوعیت کا ایک الیکٹرانک میڈیا کرائم کہلا سکتا ہے مثلاً موجودہ سیاسی صورتحال سے ایک مثال لیتے ہیں۔ اس وقت نوازشریف اور ان کا خاندان نیب کے مقدمات کا سامنا کر رہا ہے۔
اب جو اینکر پرسنز اور مہمان ن لیگ سے ہمدردی رکھتے ہیں وہ نواز شریف اور ان کے خاندان کو مظلوم ثابت کرنے کی کوئی کثر اٹھا نہیں رکھتے دیکھا جائے تو کیا خوبصورت مظلومیت ہے کہ 35برس سے نواز خاندان شاہی تخت پر بیٹھا ہوا ہے جبکہ دوسری طرف جو اینکر پرسنز اور ان کے مہمان پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ ہیں وہ نواز شریف کے مقدمات فرینڈلی فائر قرار دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ نواز شریف عدلیہ اور اداروں کو بدنام کر رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی نے اپنے قیام سے لے اب تک اپنے خلاف آنے والے عدلیہ کے فیصلوں کی جو درگت بنائی ہے اور اُن پر الفاظ کے جو تیر چلائے ہیں وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اس کے لیے ذوالفقار علی بھٹو کا دور ، بھٹو کا مقدمہ اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی برخاستگی جیسے عدالتی فیصلوں پر پیپلز پارٹی کا اب تک کا ردعمل عام سی مثالیں ہیں۔ پیپلز پارٹی سے ہمدردی رکھنے والے اینکر پرسنز اور مہمان ن لیگ پر این آر او یاخفیہ معاہدوں کے الزام لگاتے ہیں جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کے سیاست میں آنے سے لے کر آصف علی زرداری کی حکومت تک پیپلز پارٹی کی داستان خفیہ معاہدوں اور این آر او ز سے بھری ٖپڑی ہے۔ پی ٹی آئی بھی عدالتی فیصلوں کا احترام کس حد تک کرتی ہے اُس کا اندازہ پی ٹی آئی کے رہنمائوں کی تقریروں ،ان کے بیانات اور ان کے عملی اقدامات سے بخوبی کیا جا سکتا ہے ۔ جس میں الیکشن کمیشن کے خلاف پی ٹی آئی کے بیانات ایک مثال ہیں۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کی طرح سب چھوٹی، قوم پرست یا مذہبی جماعتیںبھی صرف اُس عدالتی فیصلے کو اچھا سمجھتی ہیں جو ان کے پراپیگنڈے کے مطابق ہو اور اگر فیصلہ اُن کے ایجنڈے سے مختلف ہو تو وہ اُس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں ۔ مثلاً جماعت اسلامی ، اے این پی، جے یو ایف اور ایم کیو ایم وغیرہ بھی اپنے رہنمائوں کے خلاف آنے والے عدالتی فیصلوں پر ہرممکن تنقید کرتی ہیں۔
گویا پاکستا ن کی ہر سیاسی جماعت کا یہ فیصلہ ہے کہ میٹھامیٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو۔ اسی طرح ناظرین ہر اینکر پرسنز اور ہر ٹاک شوز کے بارے میں پہلے ہی بتا سکتے ہیں کہ وہ فلاں موضوع پر فلاں بات کریں گے۔ اگر ہمارے اینکرپرسنز اور مہمان ایجنڈے کی پرچی کی بجائے تاریخی علم و دانش کو سامنے رکھ کر پروگرام مرتب کریں تو یہی ٹاک شوز ہماری سوسائٹی کے بہترین استاد بن سکتے ہیں لیکن اس طرح اکثر کی روزی روٹی کم ہو جائے گی۔