"ہم سب کوـ" اللہ رحمان "سے ڈرنا چاہیے"

کالم نگار  |  مسرت قیوم

بوکھلاہٹ ہے یا شفافیت مطلوب یا پھر واقعتا مُجرمان پر گرفت کے خواہاں ہیںیا کرپشن کا تدارک مقصود ہے۔ 56" کمپنیاں 80 ارب" کا غبن۔ گھپلے۔ ایک پھر دوسری اب تیسری کمیٹی تشکیل پا چکی ہے۔ حکومت معاملہ سنجیدگی سے لینے کا رُخ دِکھا رہی ہے جبکہ کچھ ذرائع مُصر ہیں کہ "سب اچھا" کی رپورٹ لانے کی تیاری ہے۔ خیر معاملہ اب ایک ہاتھ میں نہیں رہا دیگر ادارے بھی صورتحال کا باریک بینی سے کھوج لگانے میں مصروف ہیں۔ جو سچ ہے

آج نہیں کل ضرور "لیڈ سٹوری" بنے گا۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جن کمپنیز کی کارکردگی بہتر نہیں۔ اُن کو بند کرنے کا پروگرام ہے۔ اُمید ہے"وزیراعلیٰ صاحب" کچھ کر دِکھائیں گے۔ سیاسی بیان تھا جیسا کہ سیاستدانوں کا ہوتا ہے مگر "کچھ الفاظ" تھے جن کو چُن کر ایک اضافی فقرہ لگا کر "عنوان" باندھ ڈالا۔ "امیر جماعت اسلامی" نے فرمایا کہ ملک میں برائے نام میرٹ رہ گیا۔ معاملات کو دیکھ کر یہی کہونگا کہ "شہباز شریف" کو "اللہ" سے ڈرنا چاہیے۔ قبلہ سراج الحق نرم گفتار۔ سادہ طبیعت سیاسی رہنما ہیں عام سیاستدانوں سے مختلف۔ "امیر جماعت" جانتے ہیں کہ کمپنیوں کے سربراہ کیسے بنتے ہیں۔ بقول اُن کے "سب کو معلوم ہے"۔ تو یقینا مُلکی نظم میں جو کچھ چلتا رہا اور چل رہا ہے اِس سے بھی عام آدمی سے زیادہ باخبر ہونگے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ شورو غوغا مچنے پر بیانات سامنے آتے ہیں۔ کیا "اہل سیاست ۔ اہل حق" کی ذِمہ داری نہیں بنتی کہ بر وقت خرابیوں کی نشاندہی کرے۔ خاموش رہ کر مصلحت آمیزی کا چورن بننے کی بجائے "وقت پر گواہ" کاکردار ادا کرے۔ بنیادی بات یہ کہ صرف "شہباز شریف" کیوں؟۔ کیا پاکستان کے موجودہ حالات میں ہمارا حصہ نہیں؟ کیا ہم کو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ "خان صاحب" نے خوب فرمایا کہ چھوٹے چور کے لیے جیل۔ بڑے ڈاکو کے لیے پروٹوکول نظام بدلنا ہوگا۔ 100" فیصد درست"۔ اِس کُلیہ۔ اصول کو سبھی جماعتوں۔ شخصیات پر لوگو ہونا چاہیے۔ نااہل ہے یا برطرف۔ حاضر سروس ہے یا ریٹائر۔ عدالت جاتے ہیں یا جیل ۔ اِن کی گاڑیوں کے اردگرد دوڑتے لوگ۔ تنخواہیں۔ سہولیات ریاست کے ذِمہ۔ وفاداریاں کِس کے ساتھ ۔ کیا ایسے لوگوں کو نہیں ڈرنا چاہیے۔ اِن کے ساتھ سیاستدانوں کو بھی ڈر نہیں لگتا۔ ملی بھگت سے میڈیکل کے امتحانی پیپرز لیک ہوئے۔ "طلبائ" نہیں بلکہ والدین نے بھی بھر پور حصہ ڈالا۔ کیا "والدین" کو ڈر نہیں لگا کِسی کا حق مارتے ہوئے۔ اپنی اولاد کے لیے ناجائز رعایت لیتے ہوئے۔ "ہم سب کو ڈرنا چاہیے"۔ 10" روپے" کلو والی سبزی کو 200" روپے" میں بیچنے والوں کو ڈر نہیں لگتا ۔ بلاشبہ "حکمرانوں" سے رعایا بابت پوچھ گچھ۔ جوابدہی کاعمل خاصا وزنی ہوگا مگر یہ تو ہم میں سے ہیں۔ اور مسلمان ہیں یا عیسائی۔ یہودی۔ ایک حد تک منافع کمانے کے احکامات سبھی پر منکشف ہیں پھر بھی طمع کی کوئی حد ہے نہ لالچ کے آگے کوئی بند۔ دیوار۔سلام "ڈی جی فوڈ اتھارٹی" کو منافع خور۔ لالچی اذہان سے بھرے معاشرہ میں جہاد مانند فرائض کار نبھاتے نظر آتے ہیں۔ ملاوٹ۔ دو نمبری کاروبار کیا ختم ہونگے بہرحال سفر تو شروع ہوا۔ یقیناً ایک دن کامیابی کا فائنل راؤنڈ بھی جیت جائے گا۔ تازہ کارنامہ۔ ہزاروں ایکٹرز پر کھڑی سبزیاں۔ پھل تلف کر دئیے۔ زمین برابر کر دی ہر جگہ۔ وجہ۔ ٹیکسٹائل ویسٹ گندے نالوں کے قریب اور زہریلے پانی کا استعمال۔ قارئین اُگانے والے عوام۔ کھانے والے عوام۔ اِس ملک کا عام آدمی بے شک بہت مظلوم۔ غریب سہی مگر جب بھی موقع ملتا ہے۔ فطرت میں چُھپا شر۔ بدی بمبار طیارے کی رفتار سے اپنے ہی جیسے انسان کو ڈسنے میں لمحہ بھر کا توقف نہیں کرتی۔مان لیا حکمران تو ہیں ہی بدعنوان۔ اس لئے اِن کو سب سے زیادہ ڈرنے کی ضرورت ہے مگر پھر وہی سوال کہ دودھ میں ملاوٹ سے لیکر بجلی۔ گیس چوری کرنے۔ مزاروں پر پرس۔ جوتے اُڑانے واے عام آدمی۔ یہ سب 25" کروڑ" آبادی کا حصہ ہیں اس لئے "ہم سب کو" اللہ تعالیٰ رحیم۔ کریم "سے ڈرنا چاہیے"۔ یقینا "حکمرانوں" کو ڈرنا چاہیے اُن کے کندھوں پر عوام کے جان و مال۔ آرام۔ تحفظ کی بھاری ذمہ داریاں لدی ہیں۔ "پارکو پائپ سے "100 فٹ سرنگ بنا کر تیل چوری کرتے ملزموں کو کیا ڈرنے سے استثنیٰ حاصل ہے۔ قوم کی خدمت کا مشن الاپنے والے ڈگریاں تھام کر سنیئرز کو مارتے۔ قوم کو خون کے آنسو رُلاتے ہیں۔ "ینگ ڈاکٹرز" کے بعد اب پنجاب میں "ہیلتھ ورکرز" کے بائیکاٹ کے بعد "پولیو مہم" خطرے سے دوچار۔ نقصان کِس کا؟ ہمارا۔ یعنی عوام کا۔ تکلیف پہنچانے والے کون؟ ہیلتھ ورکرز۔ پاکستانی قوم کے بھائی۔ بیٹے۔ "قائد اعظم یونیورسٹی" میں تدریسی نظام کی تالابندی کرنے والے کون۔ اُسی یونیورسٹی میں پڑھنے والے طالب علم۔ اِس قوم کا روشن مستقبل ۔ کلاس رومز کے تالوں میں ایلفی ڈالی جا رہی ہے۔ بسوں کے ٹائر پنکچر کر دئیے گئے۔ نقصان میں کون رہا؟ ہم۔ یعنی قوم تو قارئین ہماری زندگی کو درست راستے پر گامزن کرنے کے لیے ہماری فطرت میں ڈر نام کا کوئی آلہ فٹ نہیں جو بر وقت گھنٹی بجا کر خبردار کر سکے۔ اپنے مستقبل کو داؤ پر لگاتے نوجوان خون کی شکایتیں جائز سہی مگر مطالبات منوانے کا طریقہ کار قطعی طور پر نامناسب۔ غیر اخلاقی ہے۔ توڑ پھوڑ۔ ہڑتال۔ پتھراؤ۔ آتشزدگی جیسے عوامل قابل پذیرائی نہیں۔ آجکل انکشافات۔ اعترافات کا دور چل رہا ہے۔ گھناوٗ نے اعمال گندے نالے کے پانی کی طرح اُچھل اُچھل کر "اُجلے چہروں۔ میلے دلوں" کو بے نقاب کر رہے ہیں۔ نفسانفسی کا عالم ہے۔ ہر طرف "پکڑ لو۔ شاید دوبارہ موقع نہ ملے۔ جانے نہ پائے۔ اب نہیں تو پھر کبھی نہیں "والی کیفیت حاوی نظر آتی ہے۔ کہیں پلاٹس کی بندر بانٹ کے قصے ہیں تو کہیں منظورِ نظر کو نوازنے کے لیے یکدم قواعد بدل دینے کی کہانیاں۔ کرنے والے اور کروانے والے دونوں اِس گناہ کے نتائج سے آگاہ ہیں۔ زمانہ اُلٹی چال چل رہا ہے یہ نہیں کہ گرفت زیرو ۔ ہزاروں کیسز ہیں ۔مقدمات۔ گرفتاری دونوں برابر جاری اِس کے باوجود ہیراپھیری۔ بد معاملگی کرپشن کے واقعات اُسی تناسب سے بڑھتے ہوئے۔ زیادہ ممکن کیا بلکہ یقین ہے یہاں چھوٹ ہی چھوٹ ہے مگر وہاں ۔ تصور کریں ایک ایسی "عدالت" نہ وکیل صفائی۔ نہ معاون گواہ۔ اکیلی جان حشر سامانیوں میں گِھری ہوگی۔ یہ سوچ کر بڑے بڑے "حکمران۔ جید علمائ" لرز جاتے تھے مگر اب؟
"ترانے کی عزت پاکستانیوں سے سیکھیں۔ سونو نگم"۔ جو قوم اپنے جھنڈے۔ ترانہ کی اتنی قدر دان ہے کہ دشمن ملک کے گلوگار نے اپنی قوم کو مثال دیدی۔ وہ اپنے "رسول مکرم محمد عربی ﷺ" کے متعلق نازیبا حرکت کیسے ہضم کر سکتی ہے۔ گستاخانہ مواد کی ناپاکی کا معاملہ "ریاست" حل نہیں کر پائی کہ مزید "بم" گرا دیا۔ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ "ختم نبوت حلف" میں تبدیلی چال تھی۔ کوئی چھوٹا معاملہ نہیں کہ نظر انداز کیا جاتا۔ مگر نہ صرف آنکھیں بند کرلی گئیں بلکہ ابھی تک "مرتکب" سامنے نہیں آئے۔ سیدھے سبھاؤ" اللہ اور اُس کے پیارے بنی ﷺ "کے ساتھ نعوذ باللہ جنگ۔ دنیاوی "جے۔ آئی۔ ٹی" سے بچ نکلے مگر حقیقی "جے۔ آئی۔ ٹی" کا سامناکیسے کریں گے؟