نواز شریف سے ملاقات، ریاست کو کیا کرنا چاہیے؟

کالم نگار  |  عالیہ شبیر
نواز شریف سے ملاقات، ریاست کو کیا کرنا چاہیے؟

پاکستان میں سیاسی عدم استحکام وہ موضوع ہے جس پر جتنی بات ہورہی ہے اور کی جاتی رہی ہے۔ مگر یہ وہ گتھی ہے جو سلجھنے کے بجائے اُلجھتی ہی چلی جاتی ہے۔ تاریخ کے جھروکوں میں جھانک کر دیکھو تو الجھنوں کا مجموعہ نظر آتا ہے۔ سیاستدانوں اور ڈکٹیٹرز کا وہ رومانس سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے۔ جس کی کٹھ پتلیاں خود سیاستدان رہے ہیں۔ اس وقت آگے بڑھنے کے لیے تاریخی غلطیوں سے سبق سیکھنا مقصود ہے۔ مگر محال ہے کہ ہم اپنے اپنے دامنوں میں لگے داغ دیکھنے کی جرات کرسکیں۔ جس کا نتیجہ مائنس کے بجائے پلس ہوجاتا ہے۔

پاکستان اس وقت ایک بار پھر سیاسی عدم استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آج بھی اپنی اپنی صفوں میں ہیرے ہونے کا پرچار اور دوسرے میں عیب کا ورد گردانا جارہا ہے۔ شہر میں و با احتساب کی تھی مگر انجام روایتی سول ملٹری سرد مہری تک پہنچ گیا۔ نواز شریف بھی حالات اور نااہلی کے فیصلے کے پیچھے کوئی اور سدا لگارہے ہیں اور اب یہ ایک اوپن سیکرٹ بن چکا ہے۔ دوسری جانب لاہور اور اسلام آباد کی مسلم لیگ ن میں واضح تضاد نظر آتا ہے۔ یہ مسلم لیگ ن کے دو واضح گروہوں کی تقسیم ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی نظر آرہی ہے۔
میری نواز شریف سے لندن کے دوران جو گفتگو ہوئی وہ تو یہاں لکھنا مناسب نہ ہوگا مگر اس گفتگو میں یہ تاثر صاف ظاہر تھا کہ نواز شریف مفاہمت نہیں چاہتے۔ وہ اپنی نااہلی کے فیصلے کیخلاف ڈٹ کر کھڑے رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن ان کی پارٹی اس اسٹیج پر ان کے ساتھ کھڑی نظر نہیں آتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور نواز شریف کا ایک مضبوط ووٹ بینک ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں لیکن تحریک کی سیاست کرنے کے لیے جس عوامی حمایت کی ضرورت ہے وہ نہ تو ان کی پارٹی دینے کو تیار ہے اور نہ ہی عوام مکمل طور پر ان کے اس پوائنٹ پرلبیک کہنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔
نواز شریف اپنی نااہلی کے بعد چاہے جتنا بھی کمزور ہوئے ہوں لیکن دو چیزیں انہو ں نے واپس حاصل کی ہیں: این اے 120 کی سیٹ اور دوسرا پارٹی کی صدارت۔ وزیر اعظم کی کرسی پر واپس آنے کے لیے ایک فارمولا بیگم کلثوم نواز کی صورت میں این اے 120 سے وزیر اعظم ہائوس تک پہنچنا تھا۔ جس کو عملہ جامہ پہنانے کے لیے بھی دو رکاوٹیں تھیں۔ ایک ان کی بیماری اور دوسرا خاندان میں اختلاف۔ سب سے بڑی وجہ کہ یہ مقتد ر حلقوں کو بھی قابل قبول نہیں تھا۔ جنرل غلام مصطفی نے میرے پروگرام میں بتایا تھا کہ جب شاہد خاقان عباسی کا نام بطور وزیر اعظم سامنے آیا تو ان کچھ معتبر حلقوں کی جانب سے کہا گیا کہ آپ تو شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانا چاہتے تھے؟ شہباز شریف کو پنجاب سے وفاق میں لانے کا فیصلہ ہوا تھا جو کہ مقتدر حلقوں کوبھی قبول تھا اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید وہ ادارے نواز شریف کے بجائے شہباز شریف کے کردار پر متفق نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں سیاستدانوں کا احتساب کوئی نئی بات نہیں ہے، یہ ہر دور میں ہوتا رہا لیکن آج تک کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے، ہاں کبھی این آر او سے احتساب کا جنازہ نکلا تو کبھی مائنس پلس سے۔ لیکن یہ گلہ ضرور کیا جاتا ہے کہ احتساب صرف سیاست دانوں کاہی ہوا۔ کسی سابق فوجی یا جج پر آج تک قانون نافذ نا کیا گیا نا اس کی کوشش کی گئی۔ تبھی ہماری سیاست میں "مقدس گائے" جیسی اصطلاحات کافی مقبول ہے۔
نواز شریف سے بہت سے اختلاف ہوسکتے ہیں، لیکن انہوں نے پاناما اسکینڈل میں خود کو احتساب کے لیے پیش کرکے قانون کی بالادستی کو تسلیم کیا۔ میرا ضمیر بار بار مجھ سے سوال کرتا تھا کہ نواز شریف نے اگر کرپشن کی ہے تو اس کا احتساب ہونا چاہیے اور ان کو فیئر ٹرائل کا حق بھی ملنا چاہیے، مگر وہ جو آئین میں درج ہے کہ ملک میں آئین توڑنے والا غدار ہے یا تو آئین میں ترمیم کرکے اس شق کو نکال دیا جائے یا پھر اس شق کی عملداری بھی یقینی بنائی جائے تاکہ اس ملک میں احتساب سب کے لیے برابر ہو۔ پرویز مشرف جنہیں آئین پاکستان سے غداری کا ملزم سمجھا جاتا ہے، وہ آ ئین کی اس شق کو پس پشت ڈال کر اس طرح قانون کا احترام کرتے ہیں اور خود اعتراف کرچکے ہیں کہ سابق آرمی چیف راحیل شریف نے انہیں ملک سے باہر جانے میں کردار ادا کیا۔
تاریخ کے اوراق میں دیکھیں تو قانون کی عملداری کی بڑی بڑی مثالیں ملیں گی۔ ایک مثال برطانیہ اپنے وزٹ کے دوران بھی دیکھنے کو ملی تو میری سوچ اور مضبوط ہوگئی کہ قانون یہ نہیں دیکھتا کہ ملزم فوجی ہے یا سیاسی۔ اولیور کرامویل برطانیہ کا ایک فوجی حکمران تھا جس نے شہنشاہ چارلس اول کی حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدام کو حق بجانب سمجھا اور برطانیہ کے آئین میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں کرنے میں عار نہ سمجھی۔ لیکن تاریخ نے اس طاقتور فوجی کو عبرت کا نشان بنادیا۔ اس کی موت کے تین سال بعد شہنشاہ چارلس کی بارہویں برسی کے موقع پر ان کے جسم کو قبر سے نکالا گیا اور بعد از موت ٹرائل کا حصہ بنایا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ 30 جنوری 1991ء کو ان کا سر قلم کیا گیا۔ ان کے سر کو ایک گڑھے میں پھینک دیا گیا اور آج اس گڑھے ماربل آرچ میں موجود ہے۔ گڑھے میں پھینکنے سے پہلے ان کا سرایک پول پر لٹکایا گیا اور ویسٹ منسٹر ہال میں نمائش کے لیے رکھا گیا۔ برطانیہ نے ایسا صرف اس لیے کیا کہ قانون کی عملداری کی مثال قائم ہو اور آنے والی نسلوں پر واضح ہوجائے کہ قانون سے مبرا حکمرانِ وقت بھی نہیں ہے۔ نواز شریف پر کرپشن کا الزام ہے، غداری کا نہیں۔ اگر مسلم لیگ ن کے راہنما یہ گلہ کرتے ہیں کہ جس کو پاکستان کا آئین غدار کہہ دے، اس کا ٹرائل کیوں نہیں ہوسکتا تو ان کا گلہ سننا چاہیے۔ کیا قانون سب کے لیے الگ الگ ہوتا ہے؟