پاکستانی قیمتی پتھروں کو مٹی کرنے کی بھارتی سازش

کالم نگار  |  محمد مصدق

چانکیہ کا فلسفۂ حکمرانی تو یہ تھا کہ بغل میں چھُری رکھو اور منہ سے رام رام جپتے رہو۔ لیکن میڈیا کے کیمرے اب بغل میں چھپی ہوئی چُھری دکھانے کے قابل بھی ہو گئے ہیں اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ انڈیا نے دشمنوں خصوصاً دشمن نمبر ایک پاکستان کے بارے میں اپنا مؤقف تبدیل کر لیا ہے اور اب فرنٹ فُٹ پر آ کر کھیلنے لگا ہے۔ اقتصادی شعبہ میں پاکستان سے دھڑا دھڑ فائدے اٹھا رہا ہے لیکن اقتصادی طور پر پاکستان کو کمزور کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا۔
اب دنیا بھر میں پروپیگنڈا کا ایک نیا طوفانی ریلہ آیا ہے کہ سوات کی زمرد اور قیمتی پتھروں کی کانیں دہشت گرد طالبان کے قبضے میں آ چکی ہیں اور ان قیمتی پتھروں کو فروخت کر کے جو رقم حاصل ہوتی ہے وہ طالبان اسلحہ کی خریداری پر خرچ کرتے ہیں اور دہشت گردی کے دیگر خرچے اس رقم سے پورے کئے جاتے ہیں۔ اس پروپیگنڈا کی وجوہ سے پاکستان کا قیمتی پتھر تو مٹی کے بھاؤ ہو گیا ہے لیکن درپردہ انڈیا کو اس سے دہرا فائدہ حاصل ہوا ہے۔ قیمتی پتھروں کی تجارت سے دلچسپی رکھنے والے جانتے ہیں کہ انڈیا خام قیمتی پتھر پاکستان سے ہزاروں میں خریدتا ہے اور پھر انہیں تراش خراش کر پالش کر کے لاکھوں میں فروخت کر دیتا ہے۔ دنیا بھر میں پاکستانی قیمتی پتھروں کی بہت بڑی مارکیٹ ہے لیکن تراش خراش کی جدید سہولتوں کے محدود ہونے سے اس وقت بھی زیادہ تر قیمتی پتھر سمگلروں کی وجہ سے بہت سستے ریٹ پر انڈین خرید رہے ہیں۔ اب پروپیگنڈے کی نئی لہر سے انڈیا کو سب سے بڑا فائدہ یہ پہنچا ہے کہ جو خام قیمتی پتھر وہ ہزار روپے کلو خریدنا تھا اب پانچ سو روپے کلو خریدے گا اور باہر کی مارکیٹ میں پروپیگنڈا کی وجہ سے پاکستانی قیمتی پتھروں کا بائیکاٹ کیا جائے گا جس کی وجہ سے طلب میں اضافہ اور رسد میں کمی کے فارمولے کی وجہ سے انڈیا اب انہیں پتھروں کی بہتر قیمت وصول کرے گا۔
حکومت کو اس سلسلہ میں عملی قدم اٹھاتے ہوئے دستاویزی فلموں کی نمائش کرنی چاہیے اور دنیا کو بتانا چاہیے کہ قیمتی پتھروں کی کانوں پر طالبان کا قبضہ نہیں ہے اور قیمتی پتھروں کی مارکیٹ ہاتھ سے نکلنے سے پہلے ہی لندن‘ پیرس‘ روم اور دوسرے اہم شہروں میں پاکستان کے قیمتی پتھروں کی نمائش کا اہتمام کرے جس میں پاکستانی ماڈلز کی خدمات بھی حاصل کی جائیں۔