وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ۔ ’’مرد مفاہمت‘‘

کالم نگار  |  منیر احمد خان

پاکستان کی سیاست کے رنگ بھی نرالے ہیں۔ مایوسی سے امید پیدا ہوتی ہے۔ خوشیاں دیکھتے دیکھتے غم میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو نااہل قرار دے کر پورے ملک کی فضا کو مکدر کر دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکن تو ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن اور قیادت نے بھی افسوس کا اظہار کیا۔ اس غم کی فضا میں لانگ مارچ شروع ہو گیا اور پھر دیکھتے دیکھتے ہمارے غم خوشیوں میں تبدیل ہو گئے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نہ صرف بحال ہو گئے بلکہ عدلیہ آزاد ہو گئی اور میاں برادران کی نااہلی بھی معطل ہو گئی۔ اسی غم کی فضا اور خوشی کے عمل نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ’’مرد مفاہمت‘‘ کے طور پر نمودار کر دیا۔ پاکستان کے لوگوں کو خوشیاں دینے کے عمل سے ’’مردِ مفاہمت یوسف رضا گیلانی‘‘ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
18 فروری کے انتخابات سے قبل اور بعد ملک میں اتفاق رائے کی فضا پیدا ہوئی تھی۔ چاروں صوبوں اور وفاق میں اتفاق رائے کی حکومتیں قائم ہوئیں۔ آصف علی زداری کے پیدا کردہ اتفاق رائے کو کسی کی نظر لگ گئی اور آہستہ آہستہ اتفاق رائے کی فضا خراب سے خراب تر ہو گئی۔ خدا کا شکر‘ یہ رہا کہ عدم اتفاق کی فضا میں بھی قومی راہنماؤں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ مخالفت برائے مخالفت نہیں کی گئی۔ جمہوریت کا حسن قائم رہا‘ لانگ مارچ نکالنے کے حق کو نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ اپوزیشن نے لانگ مارچ کو پرامن رکھا اور حکومت نے اس میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ سچ یہ ہے جلسے جلوس اور لانگ مارچ عوامی قوت کے اظہار کا بہترین طریقہ ہوتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی بھی شاباش کی مستحق ہے۔ کہ انہوں نے عوام کے فیصلے کو خوشدلی سے قبول کیا۔ عوامی مطالبات کئے جاتے ہیں اور حکمران ان کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ لیکن یہ عمل صرف اور صرف جمہوریت میں ہوتا ہے اور صدر زرداری نے یہ عمل کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔
اب جبکہ مفاہمت کی فضا پیدا ہو چکی ہے مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں اس کو بھی نظر نہ لگ جائے‘ خدا کا شکر ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اس عمل میں پوری طرح شریک ہیں اور تمام احتیاط کو برتتے ہوئے اس عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ پی پی پی نے مسلم لیگ (ن) کو وفاق میں شامل ہونے کی دعوت دی جس کو میاں نواز شریف نے قبول نہیں کیا جبکہ پی پی پی سے تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ان حالات میں پیپلز پارٹی پر دباؤ بڑھا کر پنجاب میں اپوزیشن کیمپ میں جانا چاہیے۔ صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی نے ارکان اسمبلی سے
مشاورت کے بعد اور ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب حکومت میں شامل رہنے کا فیصلہ کیا اور معاملات کو بہتر طریقے سے چلانے کے لئے وزیراعظم گیلانی کو پارٹی کی طرف سے اخیتار دیا کہ وہ مسلم لیگ (ن) سے مذاکرات کریں۔ مفاہمت کی فضا پھر پیدا ہو گئی ہے اور اچھی خبر پیدا ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو بھی حالات کا احساس کرنا ہو گا۔ یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں‘ یہ وقت پوائنٹ سکور کرنے کا نہیں‘ یہ وقت صرف اور صرف ملک بچانے کا ہے۔ کسی کو مفاہمت کی فضا کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور نہ ہی وزیراعظم گیلانی کو مایوس کرنا چاہیے۔ وزیراعظم بڑی محبت سے مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ امید کرنی چاہیے کہ دونوں پارٹیاں مثبت رویہ اختیار کریں گی۔ ’’مرد مفاہمت‘‘ کی دانش‘ فکر اور کمٹمنٹ کے آگے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو انکار کرنا ویسے بھی مشکل ہو گا۔