صدر زرداری امریکہ کا دورہ منسوخ کر دیں

کالم نگار  |  مطلوب احمد وڑائچ

اوباما حکومت کے 100دن مکمل ہو گئے۔ پوری دنیا کی نظر ان کی پریس کانفرنس پر تھی۔ اوباما نے بڑی پھرتی اور کامیابی سے اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے ایک نئی لائن اختیار کرتے ہوئے پاکستان میں قائم جمہوری حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے باوجود کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی ہے۔ اس جنگ میں جہاں پاکستان کو اب تک 50ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے وہیں ہماری اپنی فوج اپنے ہی لوگوں کے خلاف برسرپیکار ہے جس میں 6ہزار سویلین اور اڑھائی ہزار کے قریب فوجی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ ڈرون حملے الگ سے بے گناہ پاکستانیوں کو خاک و خون میں نہلا رہے ہیں۔
جمہوری حکومت پارلیمنٹ اور عوام کو جواب دہ ہوتی ہے۔ آمریت کی طرح سب فیصلے کسی کی ڈکٹیشن پر نہیں کر سکتی۔ جمہوریت کا علمبردار امریکہ مشرف کی اس لیے پشت پناہی کرتا رہا کہ وہ ایک فون کال پر ڈھیر ہو گیا اور افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے پورا ملک اور اپنی غیرت و حمیت امریکہ کو پیش کر دیئے۔امریکہ ایسی ہی توقع جمہوری حکومت سے رکھتا ہے۔
قبائلی علاقوں کی طرح سوات جل رہا تھا وہاں حکومت اور عسکریت پسندوں کے درمیان معاہدے کے بعد امن قائم ہو گیا۔ بجائے اس کے کہ امریکہ پاکستان کے دیگر قبائلی علاقوں اور پورے افغانستان میں سوات معاہدے کو رول ماڈل بنا کر قیام امن کے لیے کوششیں کرتا اس نے اور اس کے میڈیا نے اس معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے باوجود سوات امن معاہدہ موجود ہے۔ پاک فوج حکومت اور تمام اہم سیاسی پارٹیوں کے مابین اس معاہدے پر مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔
امریکی عہدے دار اسلام آباد آ کر حکومت کو مجبور کرتے رہے کہ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان تک رسائی دے۔ فوج کو بھارت کی سرحدوں سے ہٹا کر افغان سرحد پر کھڑا کر دے تاکہ طالبان کے خلاف امریکی فوج کے ساتھ مل کر کاروائیاں کرے اور امریکی فوج کو قبائلی علاقوں میں آپریشن کی اجازت دے دی جائے۔ کوئی بھی خوددار اور خودمختار ملک ایسا نہیں کر سکتا۔ حکومت پاکستان نے امریکی حکام کو بالکل واضح جواب دیا جس پر امریکہ ناراض ہے جس کا اظہار اوباما نے پریس کانفرنس میں کر دیا۔ اوباما کہتے ہیں کہ امریکہ پاک فوج سے مستحکم تعلقات چاہتا ہے اور پاکستان کی سول حکومت کمزور ہے اور وہ عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ دو روز قبل مائیک مولن نے کہا تھا کہ حکومت پاکستان انتہا پسندی سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ جنرل ڈیوڈ پٹریاس کا کہنا ہے کہ دو ہفتوںمیں پتہ چل جائے گا کہ سول حکومت نے باقی رہنا ہے یا نہیں۔اس طرح انہوں نے یہ بیان دے کر پاکستان کی بیوروکریسی اور اداروں کو یہ پیغام بھجوایا ہے کہ وہ سول نافرمانی شروع کر دیں اور گورنمنٹ آف پاکستان کے احکامات کو ماننے سے انکار کر دیں۔ان کے اس عمل سے جمہوری حکومت جو کہ داخلی اور خارجی محاذوں پر پہلے ہی بے شمار صدمات اور بحرانوں کا شکار تھی اس کو مزید کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔
یہ فوج کو ٹیک اوور کرنے پر اکسانے والے بیانات ہیں۔ امریکی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ امریکی میڈیا بھی فوج کو بغاوت پر آمادہ کر رہا ہے۔ ویکلی ٹائم نے 100بااثر افراد کی لسٹ شائع کی جس میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کو اوباما سے بھی زیادہ بااثر ظاہر کیا۔ یہی وہی امریکہ ہے جو آج سے چند دن آپریشن سے پہلے پاکستان کی فوج کو اور آئی ایس آئی کو مسلسل ہدف تنقید بنائے ہوئے تھا اور دنیا بھر کے یورپین اور امریکن اداروں نے ملی بھگت کے ساتھ ایک ایسی مہم چلا رکھی تھی جس کے تحت پاکستان کی فرنٹ لائن دفاعی فورس آئی ایس آئی اور اس کے کردار کو ناقابل برداشت قرار دیا گیا اور امریکن میڈیا کے ذریعے پاکستان کو پیغام دیا گیا کہ وہ آئی ایس آئی کو بند کر دے۔
امریکی حکمرانوں اور میڈیا کی مہم پاکستان کی حکومت، سیاستدانوں اور فوج سمیت ہر طبقہ فکر کے لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ امریکہ پاکستان میں جمہوریت کو صرف اپنے مفادات کی خاطر الٹ دینا چاہتا ہے۔ کیا جمہوریت امریکی غلامی کا نام اور نشان بن کر رہ جائے گی؟ اس طرح پاکستان نے پہلے ہی وہ قوتیں جو جمہوریت کے خلاف ہیں ان کو موقع مل جائے گا کہ وہ پاکستان کے اندر مذہبی جنونیت اور آمرانہ ہتھ کنڈوں سے پاکستان کے عوام کو یرغمال بنا کر رکھیں۔حکومت نے اگر اصولوں اور ملکی مفادات کی خاطر امریکہ جیسی پاور کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہے تو پوری قوم کو قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اگر قوم ایرانی قوم کی طرح حکومت کی پشت پر سیسہ پلائی دیوار بن جائے تو کسی بھی پاور اور سپرپاور سے ٹکرلی جا سکتی ہے۔ حکومت کے فوری کرنے کا کام یہ ہے کہ ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائے جس میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی تمام سیاسی پارٹیوں کو بلا کر لائحہ عمل تیار کریں۔
صدر آصف علی زرداری امریکہ کے دورے کے لیے راستے میں تھے کہ اوباما اور ان کے کمانڈروں نے جارحانہ اور نامناسب بیان بازی شروع کر دی۔ کیا مہمان کا استقبال اس طرح کیا جاتا ہے؟ یہ تو صدر صاحب کو دبائو میں لانے اور ہاتھ باندھ کر مذاکرات کی میز پر لانے کے مترادف ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ صدر آصف علی زرداری احتجاجاً امریکہ کا دورہ منسوخ کر دیں۔ اور قوم کو متحدکرنے کے لیے دن رات ایک کریں۔ سیاستدانوں میڈیا اور فوج کو اعتماد میں لیں۔ اگر امریکہ جانا ہے تو ان پر پاکستان کی خودداری، خود مختاری اور عزت و حمیت کے حوالے سے بات کریں۔
امریکہ میں موجودگی کے دوران ہی پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے علیحدگی کا اعلان کر دیں اور کہہ دیں کہ اب امریکی اپنی جنگ خود لڑیں اور اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو پھر یہ فیصلہ میری قوم کرے گی کہ ہم نے جنگ کیسے لڑنی ہے۔