دُم پر پائوں اور نیک و بد ( آخری قسط)

کالم نگار  |  سعید آسی

کلنٹن، بش سینئر ، جونیئر ہو یا مسلمان پس منظر رکھنے والا اوبامہ ہو، ہماری سول جمہوری معاشرت کے ساتھ ان سب نے بَیر مول لیا ہوا ہے کہ فوجی حکمرانوں سے زیادہ فدویانہ تابعداری انہیں نظر ہی نہیں آتی۔ ویسے یہ جمہوریت کا راگ الاپتے اور جمہوری حکمرانی کے غم میں دبلے ہوتے نظر آتے ہیں مگر جب ہمارے وطنِ عزیز میں جمہوریت کے استحکام کی بات چلتی ہے تو ان کے تیور بدل جاتے ہیں ؎ پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیم مساوات، فوجی حکمرانی کے لئے ان کی بیقراری کی یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ مشرف جیسی تحکمانہ ’’ڈومور‘‘ کی تعظیم سلطانی ٔ جمہور میں انہیں مل نہیں سکتی۔ مشرف کو توانا بنانے اور پھر بچائے رکھنے کے لئے امریکی انتظامیہ کو آخر کتنے جتن کرنا پڑے تھے، انہیں تو پاکستان کے عوام پر بھی بہت غصہ ہوگا کہ انہوں نے مشرف اوران کے لائے گئے سسٹم کی نشو و نما اور ترقی کے لئے بچھائی گئی امریکی بساط ہی الٹ دی۔ اسی کا بدلہ ڈرون حملوں اور بھارتی آشیرباد سے ننگی، سفاک اور غلیظ دہشت گردی کے ذریعہ پاکستان کے عوام سے لیا گیا۔ سول منتخب حکمرانوں کو ملک اور عوام کا درد اپنے دل سے نکالنے پر قائل کرنے کے لئے بہت جتن کئے گئے۔ جرگوں کے ذریعہ ہونے والے امن معاہدوں کو ڈرون حملوں کے ذریعہ سبوتاژ کرکے سول حکمرانوں کی ایسی امن کوششوں پر امریکی ناراضگی کا اظہار کیا جاتا رہا، پھر بھی نظام عدل ریگولیشن کی شکل میں امن معاہدہ ہوگیا۔ گویا دُم پر پائوں آگیا۔ اس لئے اب اس امن معاہدہ کے برعکس فوجی آپریشن میں جانے والے ہمارے آرمی چیف انہیں بھلے لگ رہے ہیں اور ان کی جانب دانہ پھینک کر ہمارے منتخب سول حکمرانوں کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ آپ کے پاس برخورداری ثابت کرنے کے لئے صرف دو ہفتے کی مہلت ہے۔
صدر زرداری ان کٹھن حالات میں امریکہ سمیت دوہفتے کے بیرونی دورے پر چلے گئے ہیں، جس ملک کو ہماری سول جمہوری حکمرانی وارا ہی نہیں کھا رہی اور وہ اس کی بساط لپیٹنے کی ہمارے اس آرمی چیف کو ہلہ شیری دے رہا ہے جنہوں نے فوج کو سیاست سے دور رکھنے کا عہد کیا ہوا ہے۔ اس ملک کے دورے پر جا کر ہمارے صدرِ محترم آخر کون سا ثواب کمائیں گے۔ انہوں نے کرنی تو اپنی مرضی ہے مگر میری ناقص رائے میں انہیں فوراً ملک واپس آکر تمام سیاسی جماعتوں کی رائونڈ ٹیبل کانفرنس بلانی چاہئے اور سلطانی ٔ جمہور کے خلاف امریکی سازشوں کا توڑ کرنے کی حکمت عملی طے کرنی چاہئے۔ انہیں کشکول میں امریکی سپورٹ نہیں، اپنی حکومت کے خاتمہ کا امریکی پروانہ ہی ملے گا اس لئے وہ امریکی سرزمین پر ہی کشکول الٹا کر اپنے ملک واپس آجائیں۔ اسی میں ان کی اور ملک کی بہتری ہے۔ ع
’’ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں‘‘