ایٹمی دور میں پتھر کا زمانہ آیا

صحافی  |  ایم۔ ایم حسن

یوں لگتا ہے کہ مندرجہ بالا طنزیہ مصرع کی شانِ نزول ہمارا بجلی کا ناکارہ نظام ہے۔ گرچہ وطن عزیز کو ایک ایٹمی طاقت ہونے کا فخر حاصل ہے لیکن ہمیں ہمارا بجلی کا موجودہ نظام لے ڈوبا ہے اور اس شعبہ میں ہم پھسڈی ہیں اور بعض غیرترقی یافتہ ملک بھی ہم سے بازی لے گئے ہیں۔
کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا زبان حال سے کہہ رہا ہے…ع
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو
لوگ یوں بھی طنز کرتے ہیں … ع
ہر سمت دیوالی ہے میرے گھر میں دیوالیہ
مرکزی وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے یوں فرمایا ہے کہ:
حکومت نے یہ تہیہ کیا ہوا تھا کہ وہ توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاروں کو راغب کریگی کیونکہ آئندہ پانچ برسوں میں بجلی کی مانگ بڑھ کر 36 ہزار ملی وائس ہو جائیگی۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجم نثار نے یہ کہا ہے کہ ان کا شعبہ طویل عرصہ سے حکومت سے کہہ رہا ہے کہ توانائی کا بحران قومی معیشت کو مسلسل متاثر کر رہا ہے۔
صنعت کے جو حالیہ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں انکے مطابق ہمارا پیداواری ہدف 60% کے قریب تھا مگر پچھلے 9 ماہ میں اپنے پیداواری ہدف سے 40% پیچھے ہے جس کے سبب ہم اپنے برآمدی ہدف کو پورا نہیں کر پا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید یہ کہا کہ ہمارے اندازے کیمطابق بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہم تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کی برآمدات گنوا چکے ہیں۔ گزشتہ جولائی سے لیکر ہمارے ایکسپورٹ کا ہدف 22.1 بلین ڈالر تھا مگر اب ہم شاید مشکل سے 18 ارب ڈالر بھی حاصل نہ کر سکیں گے۔
مذکورہ وجوہات کا بڑا سبب عالمی مالیاتی بحران اور بیرون ملک طلب میں کمی ہے۔ لیکن جو ہمیں اصل مسئلہ درپیش ہے وہ بجلی اور گیس کی کمی اور انکی قیمتوں میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے ہم اپنی مصنوعات وقت پر نہیں بنا سکتے۔
پاکستان میں توانائی کے بحران سے قبل جہاں لوگوں کے کاروبار ختم ہوئے ہیں وہاں بہت سی صنعتیں بھی بند ہوئی ہیں اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے یہ تجویز کیا گیا ہے کہ ہم پانی اور ہوا سے توانائی حاصل کریں مگر ہماری بڑی مشکل یہ ہے کہ ہمارے بیشتر دریائوں میں پانی بھارت سے آتا ہے اور ہمارے اس ازلی دشمن نے پانی کا رخ موڑنا شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ موجودہ صورتحال میں ہمیں اپنے کوئلے کے وسیع ذخائر کو زیادہ سے زیادہ کام میں لانا ہوگا۔ 1962ء میں جب میں ایس جی تھرپارکر تھا تو مجھے دو چار مرتبہ ساحل سمندر کے راستہ نگرپار کر کے تھانے جانا پڑا۔ میں نے وہاں پر سیلون تک کوئلے کے وسیع ذخائر دیکھے جن کا میں نے اپنی ٹور ڈائری میں ذکر کیا تھا اور اب حکومت اس کوئلے کو کام میں لا رہی ہے اور انشاء اللہ ہم پتھرائو سے بچ جائیں گے۔