اوباما کی تقریر دلپذیر

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

اپنے دور حکومت کے سوویں دن اوباما باراک حسین نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران پاکستان کی جو مٹی پلید کی وہ یادگار رہے گی۔ یہ بات اگرچہ بظاہر سمجھ سے بالا ہے مگر دنیا کی ایک بڑی جمہوریت والے ملک اور اُس کا دعویٰ رکھنے والے سے یہ توقع ہرگز نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ ظاہری طور پر بھی علانیہ فوجی نظام کو خراجِ عقیدت پیش کرینگے اور سویلین حکومت کو وہ بے نقط سنائیں گے جو اس سے پہلے اُس نے کبھی امریکہ سے نہ سنیں ہوں‘ یہ پاکستانی فوج کی اس قدر تعریف اور سویلین حکومت کو کمزور قرار دینا ناکام کہنا کہیں اس لئے تو نہیں کہ عوام اور فوج کے درمیان جو پیار اور عقیدت کا رشتہ ہے اُس کو توڑ دیا جائے۔ وزیراعظم گیلانی نے اس تقریر کا ترکی بہ ترکی خوب جواب دیا ہے‘ اور اُن کا یہ کہنا بجا ہے کہ امریکہ نے آمر کی حمایت کر کے جمہوریت کو کمزور کیا لیکن گیلانی صاحب نے تو ایک آمر کا ذکر کیا ہے امریکہ کے کھاتے میں تو ایوب خاں‘ یحیٰی خاں‘ ضیاء الحق اور آمر مطلق مشرف خاں سب شامل ہیں۔ بہرحال یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ امریکہ کی نئی حکومت‘ پاکستان اور پوری دنیا کے سامنے امریکہ کا اصل چہرہ بے نقاب کر رہی ہے‘ اُس نے بتا دیا ہے کہ وہ دنیا میں جمہوریت کی بقا نہیں چاہتی‘ وہ آمروں کے ساتھ ہے اس لئے کہ اپنے اغراض پورے کرنے کے لئے سویلین حکومت سے تو پوچھنا پڑتا ہے‘ پھر وہ فوج کو ہدایات دیتی ہے اور معاملہ طشت ازبام ہو جاتا ہے‘ مگر فوجی حکومت میں ایک آمر ہوتا ہے‘ جس کی مٹھی میں تمام اختیارات ہوتے ہیں‘ وہ سیاہ کرے سفید کرے امریکہ کو خوش رکھے پھر سب خیریت ہے‘ اور سب اچھا ہے۔ امریکہ کی نظر میں پاکستان میں جمہوریت اس لئے بھی مناسب نہیں کہ اُس نے سوات کے عوام کی خواہش پر نظام عدل معاہدہ کیا‘ سوات میں امن قائم کیا اور امریکہ کی فرمائش پر قبائلی علاقوں میں بھرپور آپریشنز کر دیتی ہے‘ ہمیں اب سمجھ آئی کہ پچھلے دنوں سابق آمر نے یہ کیوں کہا کہ وہ اقتدار سنبھالنے پر غور کر رہے ہیں۔
پاکستان میں پارلیمنٹ‘ ایوان بالا اور چاروں اسمبلیاں کام کر رہی ہیں‘ امریکہ نے ان ایوانوں کی توہین کی‘ رٹ آف گورنمنٹ سویلین حکومت قائم کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے‘ مگر امریکہ بہادر اسے قائم نہیں ہونے دے رہا‘ کیا ڈرون طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بمباری‘ رٹ آف گورنمنٹ کو بگاڑنے کی کوشش نہیں‘ اوباما نے اپنی تقریر دلپذیر میں جو کہا ہے‘ وہ وہی کچھ ہے جو امریکہ نے پاکستان میں کر رکھا ہے۔ یہ بھی غلط بیانی ہے‘ کہ یہ تقریر ذاتی بیان ہے بلکہ یہ سو دنوں کے بعد امریکی حکومت کا پالیسی بیان ہے‘ اوباما عجیب صدر ہیں‘ انہوں نے سفارتی آداب کا بھی لحاظ نہ کیا یا وہ جانتے نہیں‘ کہ جب ایک ملک کا صدر اگلے ہفتے امریکہ آنے والا ہو تو اُس کو یوں نشانہ بنا کر سخت سست کہنا مناسب نہیں‘ یوں لگتا ہے کہ پچھلے دنوں آصف علی زرداری نے اوباما کو مایوس کیا ہے کہ اسی لئے یہ سارا طومار سامنے آیا اور بھارت کی حمایت بھی زبان پر آ گئی‘ پاکستانی صدر کا یہ انکار کہ ہم مشرقی سرحدوں سے فوج نہیں ہٹا سکتے بھی ایک بڑا سبب ہے اس ہذیانی پریس کانفرنس کا‘ بہرصورت ہمارے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جتنا سر اٹھا کر جواب آں غزل دیا ضرورت ہے کہ وہ اس سے بھی بڑھ کر جواب دیں‘ کیونکہ امریکہ اپنے کمزور لمحات میں داخل ہو چکا ہے‘ وقت چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ اب امریکہ کے سامنے سر اُٹھانے کا وقت آ گیا ہے‘ اور اب وقت آیا ہے کہ میاں نوازشریف بھی‘ صدر آصف زرداری کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں کیونکہ پٹہ کیانی صاحب کی طرح اُن کی گردن کی طرف بھی بڑھایا جا رہا ہے‘ ہماری افواج قابلِ فخر ہیں‘ اور نوازشریف بھی قابل فخر کہ وہ امریکی چالبازی کو سمجھتے ہیں‘ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ ضرورت سے بڑھ کر تعاون کیا مگر آج وہ پاکستان کو ایک ناکام ریاست کا طعنہ دے رہا ہے۔
امریکہ جمع خاطر رکھے‘ پاکستان نے اُس کی چھتری سے نکلنا شروع کر دیا ہے‘ اور وہ اپنی رٹ قائم کرنے کے لئے امریکی تسلط سے نکلنے کا نقطہ بھی سمجھ چکا ہے‘ یہ وقت ہے اتحاد کا‘ کہ برسر اقتدار حکمران‘ اپوزیشن لیڈر اور سی این سی‘ یکمشت ہو کر امریکی چالبازی اور پاکستانی اتحاد کو توڑنے کی کوشش کو سمجھ جانے کا تاثر دیں‘ امریکہ کون ہوتا ہے‘ وہ تو خود واشنگٹن میں بیٹھ کر ہماری حکومت سے خائف ہے‘ یہ ثمرہ ہے تھوڑی سی خودداری دکھانے کا اگر پاکستانی قیادت اعلیٰ اپنا سر کچھ اور بلند کر کے نعرہ مستانہ لگائے تو یہ امریکہ ڈھیر ہو گا‘ اور پھر وہ باہر سے پاکستان کو برا بھلا کہہ سکے گا اور نہ ڈکٹیشن دے سکے گا۔