سیاسی جماعتیں حقیقی جمہوریت سے دور کیوں

کالم نگار  |  عالیہ شبیر
سیاسی جماعتیں حقیقی جمہوریت سے دور کیوں

پلڈاٹ نے پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت پر 2015 کی رپورٹ جاری کی ہے ۔جس کے مطابق جماعت اسلامی اندورنی جمہوریت میں 56 پوائنٹ کے ساتھ سب سے زیادہ جمہوری جماعت قرار پائی ۔ مگر اس کے باوجود جماعت اسلامی جمہور کی آنکھوں کا تارا نہ بن سکی ۔مگر مجھے جماعت اسلامی کی اندرونی جمہوریت پر شک ہے کیونکہ موجودہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی تقریب حلف برداری میں سید منور حسن نے انکشاف کیا تھا کہ جب امیر منتخب ہونے کے لیے ووٹنگ ہوئی تو اس وقت 5000ووٹ کہا ں غائب ہو گئے۔اس کی انکوائری ہونی چاہیے۔جو کہ اب تک نہیں ہوئی۔ نیشنل پارٹی 47 پوائنٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ،جبکہ 44 پوائنٹ کے ساتھ پی ٹی آئی تیسرے نمبر پر اس کے ساتھ 40 علاوہ پوائنٹ کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی چوتھے نمبر پر ،پیپلز پارٹی 36 پوائنٹ کے ساتھ پانچویں نمبر پر،اس کے علاوہ33 پوائنٹ ایم کیو ایم اور جے یو آئی (ف) دونوں چھٹی پوزیشن پر آئی ۔

اس وقت کی رولنگ پارٹی مسلم لیگ ن پارٹی کے اندر جمہوریت کے حوالے سے سب سے آخرمیں ساتویں پوزیشن پر آئی ۔سوال یہ نہیں کہ پہلی پوزیشن کس کی ہے ۔سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن جو کہ جمہوریت کی دعوے دار ہے ۔اس کی اپنی پارٹی میں جمہوریت کتنی ہے ۔پلڈاٹ کا سروے سیاسی پارٹیوں کے رویے اور ان کے طرز سیاست پر بالکل ویسا ہے ۔جیسے عام طور پر بحث کی جاتی تھی ۔مگر اس سروے نے اس بحث کو تقویت دی ہے ۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ سروے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی مقبولیت پارٹی لیڈر کی مقبولیت کی مرہون منت ہے اور اکثر سیاسی جماعتوں میں انتخابات محض رسمی کارروائی ہوتی ہے ۔مگرفکر انگیز بات یہ بھی بتائی گئی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو فنڈنگ بھی غیر واضح طریقوں سے ہوتی ہے ۔اس بات کی تو الیکشن کمیشن کو نو ٹس لیتے ہو ئے اس پر انکوائری کرنی چاہیے۔
قومی اسمبلی میں جمہوریت کے علمبردار مسلم لیگ ن اس منتخب ایوان کی کارروائی کو کتنی اہمیت دیتی ہے ۔یہ تو ان کی حاضری سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ اس پر تجویز یہ سامنے آئی ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس براہ راست نشر کیا جائے ۔تاکہ ممبرز ،وزرا،وزیر اعظم کی حاضری یقینی بنائی جا سکے ۔کیونکہ اگر یہ دیکھیں کہ تیسرے پارلیمانی سال میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں منتخب نمائندے ایوان میں کتنی بار آئے ۔تو کچھ اہم حکومتی وزراء اور میں سب سے پہلے وزیر اعظم صاحب جو آجکل کہتے ہیں کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں اور گھر کوئی اور بھیج دیتا ہے اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے ۔خود اس پارلیمنٹ میں آنا وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔
اور پھر یہ جمہوری حکومت ملک اور قوم کے فیصلے بھی پتہ نہیں کہاں کر رہی ہے کابینہ کی میٹنگ ستمبر 2015 کے بعد شاید ہی ہوئی ہو ۔مشترکہ مفادات کونسل کی میٹنگ جو کہ صوبائی رابطے اور مسائل کے حل کا اہم فورم ہے اس کی میٹنگ اکتوبر 2015 کے بعد نہیں ہوئی ۔یہ ہے وہ جمہوریت جس کے فوائد سیاسی جماعتیں بیان کرتی ہیں جہاں منتخب حکومت منتخب پارلیمنٹ میں آنا تو دور کی بات اپنی کابینہ کے ساتھ بھی شاذونادر ہی نظر آتے ہیں ۔مورثی سیاست کے خاتمے اور عام آدمی کو سیاست کا حق دینے والے خان صاحب خود اپنی پارٹی میں یہ مثال قائم نہیں کر سکے ۔پی ٹی آئی کی Reserve سیٹوں میں سے 3 وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے رشتے داروں کے پاس ہیں ۔ عمران خان خود کہہ چکے ہیں کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ جائیں گے تو تب جائوں گا ۔اور کے پی کے کی اپنی کابینہ کو ہی دیکھ لیں وزیر اعلیٰ خیبر پی کے کے آدھے رشتے دار کابینہ میں ہیں ۔ جمہوریت اور سیاسی جماعتیں لازم و ملزوم ہیں ۔پاکستا ن میں جمہوریت کا حال خستہ ہو نے کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت داخل نہ ہو سکی ۔ جمہوریت کا تقاضاہے کہ سیاسی جماعتوں کو منظم کیا جائے تا کہ ان کی باقاعدہ رکنیت سازی ہو۔ نیچے سے اوپر تک تسلسل کے ساتھ انتخابات ہوتے رہیں ۔ملک کی سربراہی اور جماعتی قیادت ایک ہاتھ میں نہ ہو ۔وزیر اعظم یاکوئی حکومتی عہدہ سنبھالتے ہی پارٹی کی قیادت چھوڑدیں ۔جماعتوں میں انتخابات کے باعث قیادت فطری انداز میں ابھرتی ہے ۔پارٹیوں کی مقبو لیت اقتدار کی مر ہون منت ہے اور اس کے ذمہ دار سیاست دان خود ہیں ۔مضبوط سیاست اور پارٹیوں کے اند ر جمہوریت ہی جمہوریت اور سیاست کے لیے صحت مند ہے ۔ورنہ یہ جمہوریت حقیقی نہیں کاسمیٹیک ہی رہی گی، پھر جس کا واحد مقصد اقتدار تک رسائی کا حصول ہی رہے گا۔اس کی سیڑھی چاہے کوئی جنرل ہو یا پھر الیکشن کا ہیر پھیر ہو۔