یہ گلشن حمید نظامی کا ....

کالم نگار  |  ڈاکٹر راشدہ قریشی

گذشتہ دنوں تحریک پاکستان کے نامور کارکن‘ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پہلے صدر حمید نظامی مرحوم کی 51 ویں برسی تھی۔ حمید نظامی مرحوم کے پرستاروں نے ان کی یاد میں تقریبات منعقد کیں۔ حمید نظامی مرحوم جو کہ نوائے وقت کے بانی ہیں نے 23 مارچ 1940ءکو نوائے وقت کا اجراءپندرہ روزہ شمارے کی صورت میں کیا جسے 1941ءمیں ہفت روزہ بنا دیا گیا۔ ان دنوں ہفت روزہ نوائے وقت کی مقبولیت اس قدر بڑھی کہ اسے جلد ہی 1944ءمیں روزنامہ بنا دیا گیا۔ جس وقت برصغیر پاک وہند میں تحریک پاکستان زوروں پر تھی اس وقت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے تقسیم ہند کے مقاصد و اسباب کو ترویج دینے کی اشد ضرورت تھی۔ قائد اعظمؒ نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پہ مسلمانان ہند کو مجتمع کیا اور یہ نوائے وقت ہی تھا جو اس پرآشوب دور میں مسلم لیگ اور مسلمانان ہند کی آواز بن گیا۔ نوائے وقت مجید نظامی کے زیر ادارت اپنے انہی مقاصد پر عمل پیرا ہے جو مقاصد حمید نظامی نے تحریک پاکستان کے دوران مکمل کرنے میں محنت کی۔ حمید نظامی مرحوم کا مقصد یہ تھا کہ وہ اقبالؒ و قائدؒ کے افکار و خیالات کو زیادہ سے زیادہ اس طرح ترویج دیں کہ برصغیر پاک و ہند کی بکھری مسلمان قوم کی شیرازہ بندی ہو جائے اور جناب مجید نظامی کی صحافت کا طرہ امتیاز بھی یہی ہے کہ قائدؒ و اقبالؒ کے افکار و خیالات کو اس طرح پیش کیا جائے کہ خود مختار و آزاد ریاست پاکستان کی قوم کے ا ندر ملک کی تعمیر و ترقی کا جذبہ موجزن ہو اور قوم کو پاکستان کی بنیادی نظریاتی پختگی بھی حاصل ہو۔ جناب مجید نظامی نے اپنے بھائی حمید نظامی کے خوابوں کو جس طرح سچ کر دکھایا وہ قابل قدر ہے۔ بلکہ یوں کہیے کہ مجید نظامی صاحب نے اپنے بھائی کے مشن کو پورا کرنے کے لئے اقبالؒ و قائدؒ فہمی کو جلا بخشنے کیلئے اپنی متاع حیات کو جس طرح وقف کیا اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ جناب مجید نظامی نے ادارہ نوائے وقت کو ہر دور کے چیلنجوں و حالات کی گرم ہوا¶ں سے ہمیشہ بڑی دانشمندی و حوصلہ و ہمت سے بچائے رکھا۔ آپ نے تو اپنے بھائی حمید نظامی کے سیاسی نظریاتی مشن کی عملی تربیت کیلئے نظریہ پاکستان ٹرسٹ بھی قائم کیا تاکہ حصول پاکستان کے مقاصد تحریک پاکستان کے کارکنوں کا جذبہ ایثار و وطن عزیز کے عظیم قائدین کی سوچ کو منظم انداز میں اپنی نئی نسل میں منتقل کر سکیں۔ جناب مجید نظامی کے اس عمل نے تو اپنے بڑے بھائی حمید نظامی کے مشن کو عملی طور پر ہمیشہ کیلئے زندہ جاوید کر دیا۔
 حمید نظامی مرحوم نے بھی اپنی جراتمندانہ صحافت کے سبب کئی دبا¶ جھیلے‘ 1954ءکی آمریت کا صدمہ اپنے دل پہ سہا۔ ایوب مارشل لاءکےخلاف نبرد آزما رہے۔ ملکی جمہوریت کو تصور قائدؒ کے تحت لانے میں ہمہ تن مصروف رہے مگر مادر ملت کی ایوبی دھاندلی کی شکست و ملک میں آمرانہ تسلط پرصدمے سے دوچار ہوئے۔ قائدؒ کے جمہوری پاکستان کے خواب کو ٹوٹتا نہ دیکھ سکے۔ مسلم لیگ کے حصے بخرے ہوتے دیکھ کر آزردہ رہے .... نوائے وقت پہ یہ کڑا وقت تھا .... دبا¶ و آزمائشوں نے حمید نظامی مرحوم کو بے حد متاثر کیا اور وہ 25 فروری 1962ءکو خالق حقیقی سے جا ملے۔ حمید نظامی نوائے وقت کے مشن کوجاری رکھنے کا کام اپنے چھوٹے بھائی مجید نظامی کے سپرد کر گئے۔ حمید نظامی مرحوم نے مجید نظامی کو اپنا جانشین بنایا۔ اپنے مشن کا امین منتخب کیا آپ پہ بھروسہ کیا اور آپ کو تمام مسائل و معاملات کا ذمہ دار مقرر کیا۔ اس وقت حمید نظامی کی امید کی کرن مجید نظامی ہی تھے .... وہ جانتے تھے تھے مجید نظامی ان کا چھوٹا بھائی نوائے وقت کو مصائب و آلام سے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور واقعی جناب مجید نظامی نے حمید نظامی کے لگائے پودے کی کچھ اسطرح آبیاری کی اب یہ پھلدار تن آور درخت بن چکا ہے۔ جابر حکمران کے سامنے کلمہ¿ حق کہنے کا مشکل کام آپ نے خوب نبھایا۔ جناب مجید نظامی نے ایک نہیں بلکہ ملک کے چار آمروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ آج جب کہ صحافتی افق پہ لاتعداد تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں آج بھی جناب مجید نظامی اپنے بھائی ہی کا علم مشن تھامے ہوئے ہیں۔ دشمن ہمسائے کے مذموم عزائم کو ہر دم آشکار کر دینے والا مجاہد سپاہی ہیں‘ وطن عزیز کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ ہیں۔ حمید نظامی کے خوابوں کی تعبیر جناب مجیدنظامی ‘ اقبال کے مرد مومن ہیں تو قائدؒ کے دستے کے سپہ سالار .... ایسا سب کچھ ہونے میں .... اپنا لوہا منوانے میں جناب مجید نظامی نے ایک عمر کا حصہ نہیں .... عمر وقف کی ہے....ع
یہ پون صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں
میں اور میرے جیسے کئی معتمد جناب مجید نظامی کی صحت و تندرستی و حیات خضر کیلئے دعاگو رہتے ہیں اور ہم یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ مجید نظامی صاحب کی دختر نیک اختر محترمہ رمیزہ نظامی بھی اپنے والد کی توقعات پر پورا اتریں اور تاریخ خود کو دہراتی رہے ۔